سرینگر(نیٹ نیوز) مقبوضہ کشمیر میں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ہسپتال بھی بند ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں، مریضوں اور زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے لیکن طبی سہولیات عام دنوں کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم رہ گئی ہیں۔جرمن میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتالوں کے اندر اور باہر بیٹھے مریضوں کو یا تو اپنی باری کا انتظار ہے یا پھر موت کا۔ اول تو مریضوں کو ہسپتال تک لانے کیلئے ایمبولینس ہی دستیاب نہیں ہے اور اگر میلوں دور سے لوگ اپنے مریضوں کو بائیک وغیرہ پر بٹھا کر ہسپتال پہنچا دیتے ہیں تو پھر ڈاکٹر دستیاب ہونگے یا نہیں اور علاج ہو سکے یا نہیں، یہ مریض کی قسمت پر ہی منحصر ہے ۔ جو گھر سے باہر ہیں انکے گھر والوں تک کوئی خبر نہیں پہنچتی ۔مظلوم کشمیری کسی مسیحا کی راہ تک رہے ہیں۔