اسلام آباد(سہیل اقبال بھٹی) وزیراعظم عمران خان نے بالآخر مہنگائی کے سامنے بند باندھنے اور ملک میں محدود ہوتی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ اور بے روزگاری پر قابو پانے کیلئے عوام پر160ارب روپے کا بوجھ کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ پٹرول وڈیزل کی قیمت میں 8تا15روپے فی لٹر کمی،گیس ٹیرف کی مد میں 68ارب روپے اور بجلی ٹیرف میں 80ارب روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔وزیراعظم نے وزارت خزانہ کی بھرپور مخالفت اور عالمی مالیاتی ادارے کے دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آئندہ ہفتے مہنگائی اوربے روزگاری سے بے حال عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور ایف بی آر کی ٹیمیں دن رات وزیراعظم کے غیرمعمولی ریلیف پلان کو حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔ وزیراعظم درج بالا تین اقدامات کے ذریعے افراط زر کو فوری طور پرکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ سٹیٹ بنک سے پالیسی ریٹ 13اعشاریہ 25فیصد سے کم کرایا جاسکے ۔ ملک میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور روزگار کے مواقع میں اضافے کا مکمل انحصار پالیسی ریٹ میں خاطر خواہ کمی پرمنحصر ہے ۔روزنامہ 92نیوز نے 18فروری کو خبر شائع کی تھی کہ وزیراعظم نے مہنگائی میں کمی اور عوام کو ریلیف دینے اور حکومتی احکامات پر عمل نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف غیرمعمولی اقدامات کی ٹھان لی ۔ وزیراعظم ہائوس اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق وزیراعظم نے عوام سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری، مہنگائی میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرنے کے احکامات ارسال کردئیے ہیں۔ وزیراعظم 160ارب روپے کے تین نکاتی گرینڈ ریلیف پیکج کے ذریعے عوام کی حکومت سے دم توڑتی توقعات بحال کرنے پر مصر ہیں۔ وزیراعظم نے پٹرولیم اور خزانہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ پٹرول 27روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل 30روپے فی لٹر سستا کرنے کیلئے تجاویز تیار کی جائیں تاکہ پٹرول کی قیمت 90روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 97روپے فی لٹر کی سطح پر لائی جاسکے ۔ وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا عالمی مارکیٹ میں عرب لائٹ خام تیل کی قیمت 61ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ قومی خزانہ پٹرول وہائی سپڈ ڈیزل کی قیمت میں 27روپے تا 30روپے فی لٹر کمی لانے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اس اقدام کی نتیجے میں پٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی مد میں حکومت کو ماہانہ 40ارب روپے سے زائد نقصان ہوگا۔ ایف بی آر کا ریونیو وصولیوں کا ہدف تباہ اور عالمی مالیاتی ادارہ کیساتھ جاری پروگرام اور معاہدہ خطرے سے دوچارہوجائے گا۔ عوام کو فوری طور پر گرینڈ ریلیف فراہم کرنے کیلئے بیتاب وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم ڈویژن کو قابل عمل پلان تیار کرنے کی ہدایت کی جس کے تحت وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان نے عالمی مارکیٹ میں جنوری میں پٹرول وڈیزل کی خریداری کے آرڈر دئیے تھے ۔ جنوری میں خام تیل کی قیمت 51ڈالر تک تھی جس کے باعث یکم مارچ سے پٹرول کے صارفین سے کو 8روپے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کے صارفین کو 7روپے فی لٹر ریلیف فراہم کرنا ممکن ہے ۔ اس اقدام سے وفاقی حکومت کو سبسڈی بھی ادا نہیں کرنا پڑے گی تاہم وزیراعظم کا اصرار ہے کہ ٹیکسوں میں بھی معمولی کمی کرتے ہوئے آئندہ ہفتے عوام کو حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15روپے فی لٹر تک ریلیف دینے کی راہ ہر صورت ہموار کی جائے ۔ آئندہ دو روز تک وزیراعظم کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی تین تجاویز ارسال کی جائیں گی۔ اسی طرح وزیراعظم نے گیس اور بجلی کے نرخ جون تک برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے جس کے نتیجے میں عوام مجموعی پر 160ارب روپے کے بوجھ سے محفوظ ہوجائیں گے ۔ ذرائع کے مطابق مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ پٹرول وڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ کمی کیلئے ٹیکسوں پرنظرثانی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے پر خائف ہیں۔ مشیر خزانہ کا ان تینوں اقدامات پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد حکومتی پالیسیوں اور معاشی اقدامات سے بتدریج دوری اختیار کرنے کا امکان ہے ۔گرینڈ ریلیف کی منظوری آئندہ ہفتے دی جائے گی۔