لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹرشہباز گل نے کہاہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں مہنگائی ہے ،کہا جارہا ہے کہ اگر پالیسی ریٹ نیچے رہے گا تو انڈسٹری چلے گی لیکن ن لیگ کے دورمیں پالیسی ریٹ 7 فیصد تھا لیکن انڈسٹری نہیں چلی۔پروگرامہارڈ ٹاک پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پوری پارٹی کہہ رہی تھی کہ لاک ڈائون کیاجائے لیکن اکیلے وزیراعظم بضد تھے کہ نہیں کرینگے ۔ا پٹما کے گروپ لیڈر گوہر ا عجاز نے کہا مجھے اپریل میں ایسا نظرآرہاہے کہ ہماری بہت زیادہ ایکسپورٹ یورپ میں نہیں جائے گی کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے یورپ بندہے ، یورپ نے پے منٹ روک لی ہیں تاہم امریکہ نے ابھی تک پے منٹ نہیں روکی ۔انہوں نے کہا اگر پورے پورے شہروں میں راشن کی ضرورت پڑی تو ہم دینگے ۔ انہوں نے کہا سود کے ریٹ پر حکومت غلطی کررہی ہے ،اس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاہم حکومتی پالیسیوں کے تحت اگلے تین سالوں میں ملکی برآمدات کو 50ارب ڈالر تک لے کرجائیں گے ۔چیئرمین بی ایم جی گروپ سراج قاسم تیلی نے کہا حکومت نے اچھا پیکیج دیا ہے لیکن پٹرول کی قیمت میں کم ازکم 25روپے کی کمی کرنی چاہئے تھی، حکومت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کرے ،اگر پالیسی ریٹ سنگل ڈیجیٹ پر آجائے تو انڈسٹری چلتی رہے گی،میرا حکومت سے سوال ہے کہ ہاٹ منی کس کی ہے جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ میں کمی نہیں کی جارہی ہے ۔چیئرمین نیو ٹیک جاوید حسن نے کہا جس بحران کا ہم سامنا کررہے ہیں،اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔انہوں نے تجویز دی کہ انڈسٹری کی پے منٹ کو ڈے فر کردیاجائے ۔