وزیر اعظم نے ملک میں گندم‘ آٹا اور چینی کے بحران پر تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت شفاف گورننس پالیسی پر گامزن ہے اور کسی کو بحران پیدا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ بحران میں ملوث کسی شخص کو معافی نہیں ملے گی۔ پاکستان کا نظام حکومت اور انتظامی ڈھانچہ بدعنوانی‘ اقربا پروری اور برائیوں کو تحفظ دینے سے عبارت ہے۔ایک عمومی تاثر بن گیا ہے کہ ہر جرم کی ایک قیمت ہے۔ کسی کی جیب میں اس جرم کی قیمت ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے تو اسے قانون کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ یہ تاثر کافی حد تک درست کہا جا سکتا ہے۔ آئے روز دیکھتے ہیں کہ مفلوک الحال طبقات کی بچیاں دولت مند اغوا کر لیتے ہیں‘ بڑے بڑے جاگیردار چھوٹے کاشت کاروں کی زمین پر قبضہ کر لیتے ہیں۔ سرکاری افسران اور سیاستدان حیثیت کا غلط استعمال کرتے ہیں اور سرکاری وسائل کو عوام پر خرچ کرنے کی بجائے ذاتی اکائونٹ میں منتقل کر لیتے ہیں۔ صدر ایوب خان کے دور میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے ایبڈو کا قانون متعارف کرایا گیا۔ میاں نواز شریف نے احتساب سیل بنایا۔ جنرل پرویز مشرف نے قومی احتساب بیورو کا ادارہ ازسر نو تشکیل دیا۔ ہر بار یہ ادارے معاشرے کے عمومی احتساب کی بجائے سیاستدانوں کے احتساب میں پھنس گئے۔ سیاستدانوں نے ان اداروں کو متنازع بنایا اور یوں احتساب کا پورا عمل مشکوک بنا دیا جاتا۔ ایسی دھول اڑائی جاتی ہے کہ کھرا اور کھوٹا دونوں نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ ایسے کئی معاملات ہیں جو تفصیلی تحقیقات کا تقاضا کرتے رہے ہیں مگر سابق حکومتوں نے ان سے پہلو تہی کی۔ بہت دور کی بات نہیں صرف بے نظیر بھٹو‘ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کے ادوار کا تجزیہ کر لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تیل کی قیمتوں میں راتوں رات اضافے کا فائدہ مخصوص افراد کو پہنچایا گیا۔ گردشی قرضے کی ادائیگی کے نام پر دوستوں کی کمپنیوں کو اربوں روپے بانٹ دیے گئے حتیٰ کہ ان کمپنیوں میں سے کچھ نے ایک یونٹ بجلی بھی پیدا نہ کی تھی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز سیاسی حامیوں کو دیے جاتے رہے جبکہ وہ اس کے مستحق بھی نہ تھے۔ بیت المال کے فنڈز کا غلط استعمال کر کے من پسند افراد کو نوازا جاتا رہا۔ سندھ اور پنجاب میں سرکاری گندم کے کتنے ہی گودام تھے جہاں سے گندم چرا کر بوریوں میں ریت بھر دی گئی۔ توشہ خانے میں جمع غیر ملکی تحائف کے ساتھ حکمرانوں نے جو کچھ کیا اس کے احتساب کے لئے حال ہی میں نیب نے نواز شریف‘ آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ ٹھیکوں ‘ کمشنوں اور کک بیکس کے سینکڑوں معاملات ہیں جن کا ریکارڈ رکھا گیا نہ ان کی شفافیت کی تحقیقات کی گئیں۔ ایل ڈی اے پلازہ لاہور میں ایک خاص ریکارڈ جلا دیا گیا‘ کئی لوگ اس سانحے میں جل مرے۔ ماڈل ٹائون میں شہباز شریف حکومت میں 14معصوم افراد پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان میں سے دو چار معاملات پر اب بھی عدالتوں میں کارروائی جاری ہے مگر زیادہ تر مصلحت کیش اور سہولت کار سرکاری افسران کی فائلوں میں دبے ہیں۔ نہ کوئی تحقیقات نہ ان تحقیقات کا نتیجہ۔ تحریک انصاف نے اپنی سیاسی جدوجہد میں سب سے زیادہ جن نکات پر زور دیا وہ بلا امتیاز احتساب اور فوری انصاف کا وعدہ تھا۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف نے جس طرح کے حالات میں اقتدار سنبھالا ان میں انتخابی منشور پر عملدرآمد کے امکانات بہت روشن نہیں تھے۔ وزیر اعظم عمران خان کو حکومت سازی کے لئے مختلف جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں کئی بار بادل نخواستہ اتحادیوں کی بات ماننا پڑتی ہے۔ وہ ایسا نہ کریں تو ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہو جائے۔ سارا نظام زلزلے کی زد میں آ جائے اور معاشی و دفاعی سطح پر پاکستان کو جو چیلنج لاحق ہیں وہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ بن جائیں۔ اس نازک صورت حال کا احساس ان گروہوں کو بھی ہے جو حکومتی کمزوری کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ایسے ہی مافیاز نے دو ماہ پہلے ملک میں گندم کا مصنوعی بحران پیدا کر دیا۔ اس بحران کی دلچسپ بات یہ تھی کہ گندم اور آٹا بازار میں وافر موجود تھے مگر ان کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے بڑھ رہی تھیں۔ ابھی گندم اور آٹے کا بحران ختم نہ ہوا تھا کہ چینی کے بحران کی اطلاعات آنے لگیں۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر اپنی ٹیم کو موثر اقدامات کی ہدایت کی۔ گندم کے خفیہ گوداموں کو کھولا گیا‘ آٹے کی فراہمی کے نظام کی نگرانی کی گئی۔ آٹے اور گندم کی برآمد روکی گئی اور یہ بحران چند ہفتوں میں ختم ہو گیا۔ چینی کا بحران قبل از وقت ختم کرنے کے لئے سرکاری ٹیموں نے خفیہ گوداموں پر چھاپے مارے اور چینی کی ہزاروں بوریاں برآمد کیں۔ ان تدابیر کا اثر یہ ہوا کہ اس وقت مارکیٹ میں آٹا اور چینی کا کوئی بحران نہیں۔ شہباز شریف اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں نے متعدد بار الزام عائد کیا کہ ان بحرانوں کے پس پردہ وزیر اعظم عمران خان کے بعض قریبی احباب ہیں اس لئے حکومت اس معاملے کی تحقیقات نہیں کروا رہی۔ وزیر اعظم کی جانب سے گندم اور چینی بحران کی تحقیقات کی ہدایت ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اس سے زیادہ اچھی بات یہ کہ وزیر اعظم نے اس تحقیقاتی رپورٹ کو فائلوں کے انبار میں گم رکھنے کی بجائے اسے منظر عام پر لانے کی ہدایت کی ہے۔ یقینا اس میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہو گی جو بحران پیدا کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں شریک رہے۔ اس فیصلے سے بلا امتیاز احتساب کا عمل پروان چڑھے گا اور عوام الناس کا حکومت پر اعتماد پختہ ہو گا۔