سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے قلت پیدا ہونے کے بعد اوگرا سے گیس کی اوسط قیمت میں 157.50 فیسد اضافے کی درخواست کی ہے ۔اس درخواست سے خدشہ پیدا ہونے لگا ہے کہ حکومت اپنی کوتاہی اور بد انتظامی کی قیمت صارفین سے وصول کرنے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔گیس کی قلت کی صورت میں نرخ بڑھانے کی درخواست اس لحاظ سے عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوفت کے شکار صارفین ایسے فیصلے سے مزید پریشان ہو سکتے ہیں۔ چند روز قبل مشیر خزانہ شوکت ترین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ حکومت کے بروقت اقدامات نہ کرنے سے ملک میں گیس کا بحران آیا، گیس کے جو کارگو خریدے جانے چاہئے تھے وہ نہیں خریدے گئے ،اس دوران موسم سرما شروع ہوگیا اور گیس کی عالمی طلب میں اضافہ ہونے سے بین الاقوامی مارکیت سے گیس مہنگی مل رہی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ دسمبر جنوری میں عالمی سطح پر گیس کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔گیس بحران کے حوالے سے حکومتی رپورٹس اور حقائق پرچندسوالات اٹھائے جا سکتے ہیں ۔پہلا سوال نیپرا کی رپورٹ کے متعلق ، دوسرا ایل این جی ٹرمینلز کو کپیسٹی کے مطابق استعمال نہ کرنے، پھر تاخیر سے ٹینڈر نگ، گیس پائپ لائن اور یہ سوال کہ نئے ٹرمینل پر اب تک کام شروع کیوںنہ ہو سکا۔ گیس کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جہاں مقامی پیداوار ہوتی ہے ساتھ ہی درآمدی گیس بھی سسٹم میں شامل کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں گیس کی مقامی پیداوار ملکی ضرورت کو پورا کرنے سے قاصر ہے اور مقامی گیس کے ذخائر میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جبکہ ن لیگ کے عہد سے درآمدی گیس تنازع کا شکار رہی ہے، کرپشن اور بدانتظامی کے الزامات بھی تسلسل سے سْننے میں آتے ہیں۔پاکستان میں سردیوں میں گیس کا بحران شدید تر ہونے کا خدشہ دو تین ماہ سے ظاہر کیا جا رہا تھا ۔ گیس بحران کی وجہ اس شعبے میں منظر عام پر آنے والے تنازعات کے علاوہ فوری نوعیت کے فیصلوں کے تاخیر نے بھی مسائل کی شدت کو بڑھایا ہے۔ایک بات واضح ہے کہ گیس بحران کی وجہ طویل المدتی منصوبہ بندی نہ ہونے اور فوری نوعیت کی فیصلہ سازی کا فقدان ہے۔وطن عزیز میں گیس کا بہترین انفراسٹرکچر موجود ہے جس میں معیاری ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام شامل ہے۔ معیشت کے استحکام میں بطور ایندھن گیس کا بڑا کردار ہے۔ ملک میں اس وقت 13315 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائن، 149715 کلومیٹر ڈسٹری بیوشن اور 39612 کلو میٹرسروس گیس پائپ لائن کا نیٹ ورک ہے جو ایک کروڑ سے زیادہ صارفین کو گیس فراہمی کے کام آتا ہے۔گذشتہ بیس، تیس برسوں میں گیس کی طلب اس کی رسد سے بڑھ گئی ہے جس کی وجہ مقامی طور پر گیس کی پیداوار میں کمی ہے۔ پاکستان کو پہلی بار2015 میں گیس درآمد کرنا پڑی۔ پاکستان میں اس وقت درآمدی گیس کے دو ٹرمینل پورٹ قاسم کراچی پر کام رہے ہیں جو اینگرو اور پاکستان گیس پورٹ کی جانب سے لگائے گئے ہیں جن میں درآمدی ایل این جی لائی جاتی ہے اور پھر اسے ملک بھر میں تقسیم کیا جاتا ہے۔درآمدی گیس کے یہ ٹرمینل بحری جہاز پر ہی بنے ہوتے ہیں جنہیں فلوٹنگ سٹوریج اینڈ رجسٹریشن یونٹ (ایف ایس آر یو) کہا جاتا ہے۔ درآمدی ایل این جی پر سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی کی پوری اجارہ داری ہے۔ نجی شعبے کو اجازت نہیں ہے کہ وہ گیس کی درآمد کرے ۔دونوں سرکاری کمپنیاں جو صرف پائپ لائنوں کی تعمیر کے کام کے لیے قائم کی گئی ہیں انھوں نے اس پورے شعبے میں اجارہ داری قائم کر لی ہے۔ یہ کمپنیاں سستی ایل این جی درآمد کر کے مہنگے داموں عوام کو بیچتی ہیں۔ اگر نجی شعبے کو بھی اجازت ہو تو مسابقت بڑھے گی اور کم قیمت پر درآمدی گیس فراہم ہو گی۔ جب سے ایل این جی درآمد کا کام شروع ہوا، بدانتظامی کی وجہ سے وقتاً فوقتاً بحران آتا رہتا ہے۔ ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کی اجارہ داری کی وجہ سے بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔نجی سرمایہ کار اس مسئلے کے حل پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ انہیں اس سلسلے میں سہولت دی جائے۔پاکستان زرعی ملک ہے ۔یہاںقدرتی گیس کا ایک اہم استعمال کھاد کی تیاری کے لئے ہوتا ہے ۔گیس کو توانائی کے شعبے کی طرف موڑنے اور یوریا مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں کے لئے اسکی قلت پر قابو پانے کے لئے حالیہ حکومتی فیصلہ کے زراعت کے شعبے پر سنگین اثرات ہوسکتے ہیں۔اس سے اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوسکتی ہے۔مینوفیکچرنگ کا شعبہ جو براہ راست زراعت سے منسلک ہے وہ پریشانی کا شکار ہے۔ یوریا ہماری فصلوں کی بنیادی ضرورت ہے ۔ اگر گیس فراہم نہیں کی جاتی ہے تو یوریا مینوفیکچرنگ سیکٹرکام نہیں کر سکتا ۔ یوریا کھاد کپاس ، گندم اور عملی طور پر پاکستان میں اگنے والی ہر فصل میں ایک بہت اہم ان پٹ ہے۔ فی الحال کسانوں کے لئے اس کا کوئی دوسرا متبادل دستیاب نہیں ہے۔ گذشتہ ایک دہائی کے دوران ، حکومت نے یوریا مینوفیکچرنگ کے شعبے کو ترقی دینے اور ملک کو خود کفیل بنانے کے لئے ترغیب دی تھی۔ اس سلسلے میں کارپوریٹ سیکٹر نے تقریبا$ 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ گیس کی قلت طول پکڑتی ہے یا نرخوں میں ڈیڑھ سو فیصد اضافہ ہوتا ہے تو اس سے ملکی زراعت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ گیس کی جگہ متبادل ایندھن کا استعمال کرنا پڑا تومصنوعات کی پیداواری لاگت بڑھ جانے کے ساتھ بین الاقوامی منڈی میں مسابقت کم ہوجائے گی۔ پیداواری صنعت و زراعت کو بچانے کے لئے حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہئیں۔جہاں تک نرخ بڑھانے کا معاملہ ہے تو بظاہر یوں لگتا ہے کہ گیس کی قلت محض اس وجہ سے بتائی جا رہی ہے تاکہ عوام کی جیب سے زیادہ رقم نکلوائی جا سکے۔