لاہور(اشرف مجید)حساس ادارے کی جانب سے 13جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال دینے والے تاجر رہنمائوں کے مسلم لیگ ن کیساتھ ٹیلیفون رابطوں کا تمام ڈیٹا حاصل کر لیا گیا ہے ،ان تمام تاجر رہنمائوں کے کوائف اکٹھے کر کے کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔ ایک گروپ کی جانب سے کارروائی کے خوف سے وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد احتجاج کی کال واپس لینے کی یقین دہانی کرا دی گئی ہے جس سے احتجاج کی کال پر تاجر برادری کے تقسیم ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ایک حساس ادارے کی جانب سے پاکستان ٹریڈرز الائسنس کے عہدیداران ،مرکزی تنظیم تاجران پاکستان سمیت آل پاکستان انجمن تاجران گروپس کی جانب سے 13 جولائی کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال پر انکے عہدیداران کے گزشتہ ایک ماہ کا موبائل فونز کا ڈیٹا چیک کیا گیا ہے ۔ جس پر بیشتر تاجر رہنمائوں کے ن لیگی رہنمائوں سے مسلسل رابطے ہونے کا انکشاف ہوا ہے اور خاص طور پر کسی بھی پریس کانفرنس سے قبل درجنوں بار رابطے کئے گئے ، ان تمام عہدیداروں کے نام اور انکی تفصیل پنجاب حکومت کو بھیج دی گئی ہے ۔ان تاجر رہنما ئوں کے کوائف کیلئے ایف بی آر ،ایل ڈی اے اور دیگر اداروں سے مدد حاصل کی جائیگی اور مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کی ہدایت پر ہڑتال کر کے حکومت پر پریشر ڈالنے کی ’’سزا دینے ‘‘کی حکمت عملی بنائی جا رہی ہے ۔ ان میں پاکستان ٹریڈرز الائسنس کے تاجر رہنمائوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور اس تنظیم میں شامل بڑے عہدیداروں کا تعلق ن لیگی قیادت سے بہت زیادہ رہا ہے بلکہ انہوں نے سابق دور میں عہدے بھی لے رکھے تھے اور ہر سیاسی تحریک میں یہ لوگ فنڈز بھی مہیا کرتے رہے ۔ ذرائع کے مطابق اس تاجر تنظیم کے عہدیداران کو پنجاب حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے بلایا بھی گیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ تنظیم آج 13جولائی کی ہڑتال نہ کرنے کا اعلان بھی کر سکتی ہے ، اگر ایسا ہو گیا تو پنجاب میں تاجر برادری کی تقسیم کے بعد 13جولائی کی ہڑتال ناکام ہونے کا اندیشہ بڑھ جائے گا جسکا نقصان پوری تاجر برادری کو ہو گا۔ اسی طرح آل پاکستان انجمن تاجران کے تین گروپوں سمیت مرکزی تنظیم تاجران پاکستان سمیت اقومی تاجر اتحاد کے عہدیداروں کا بھی ڈیٹا اکٹھا ہو چکا ہے جس کے ن لیگی قیادت کیساتھ رابطے ہیں، ان کے تمام کاروبار کی تفصیل اور ایف بی آر سے ٹیکس کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی گئی ہیں ۔