اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے صدر اور پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2050ء تک دنیا کی نصف سے زائد آبادی کو پانی کی شدید کمی کے خطرے کا سامنا ہو گا۔ پانی کا پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کو گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی آبی جارحیت کا سامنا ہے بھارتی وزیر اعظم پانی روک کر پاکستان کو بنجر کرنے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں یہی نہیں بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے دریائوں پر ڈیم بھی بنا رہا ہے۔ عالمی برادری کو اپنے غیر قانونی اقدام کا جواز پاکستان کے پاس پانی کو ذخیرہ نہ کرنے کی صلاحیت کو بناتا ہے ۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان میں مون سون کے موسم میں لاکھوں کیوسک پانی فصلوں کو تباہ کرتے ہوئے سمندر برد ہو جاتا ہے۔ اسکے علاوہ پاکستان میں پانی بچانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا بھی فقدان ہے جس سے بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔آبی ماہرین کے مطابق 2030ء تک پاکستان کو شدید آبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بہتر ہو گا حکومت کو مستقبل کے خطرے کو بھانپتے ہوئے جہاں بھارتی آبی جارحیت کے خلاف عالمی فورمز پر آواز اٹھانی ہو گی وہاں دستیاب پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیساتھ مون سون کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا بھی بندوبست کرنا ہو گا تاکہ قلت کے دنوں میں جمع پانی سے ضرورت پوری ہو سکے۔