اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر؍وقائع نگار؍اے پی پی) آئندہ مالی سال 2019-20ئکا 7036 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا، بجٹ خسارہ 3151 ارب روپے ہوگا، نئے ٹیکس لگنے سے سگریٹ، چینی، سیمنٹ، کولڈ ڈرنکس، خوردنی تیل ،جوس ،خشک دودھ، پنیر، کریم،سیمی پراسیس، پکے ہوئے چکن، مٹن، بیف، مچھلی، سنگ مر مر، ایل این جی ، سی این جی، میک اپ سمیت تمام آرائشی اشیا،گاڑیاں مہنگی ہوگئیں،زیورات کی بنوائی پر سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا،سونے ، چاندی کی درآمد پر ایک فیصد سیلزٹیکس لگے گا،بیجوں پر ٹیکس چھوٹ بھی ختم کردی گئی، ادویات، بیکری آئٹمز، موبائل فون سستے ہوگئے ،قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے خام مال ڈیوٹی سے مستثنیٰ،10لاکھ معذور، مستحق افراد کو راشن کارڈ دیئے جائینگے ،حکومتی اخراجات میں 5 فیصد کمی،وزیراعظم، وزراء کی تنخواہوں میں 10 فیصد کٹوتی کی گئی،تنخواہوں، پنشن میں 10 فیصد تک اضافہ کیا گیا، کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 کی گئی ، آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا ہدف5555 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے ۔منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ئکا وفاقی بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے پیش کیا۔ حماد اظہر نے کہا وفاقی بجٹ میں ایف بی آر کے لئے ٹیکس محصولات کا ہدف 5555 ارب رکھا گیا ہے جبکہ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ بنیادی خسارہ 0.6 فیصد تک رہ جائے ۔ انہوں نے کہا کفایت شعاری پر عمل کرتے ہوئے سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کرکے 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ انہوں نے بتایا کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی کے لئے 200 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں، 10 لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے لئے ایک نئی راشن کارڈ سکیم شروع کی جارہی ہے ، 80 ہزار مستحق لوگوں کو ہر مہینے بلاسود قرضے دیئے جائیں گے ، 500 کفایت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فری آن لائن کورسز کی سہولت دی جائے گی، معذور افراد کو وہیل چیئر اور سننے کے آلات فراہم کئے جائیں گے ،تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع کے لئے بچے سکول بھیجنے کے لئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی،احساس پروگرام کے تحت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو دی جانے والی سہ ماہی پانچ ہزار روپے امداد کو بڑھا کر 5500 کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا صحت کارڈ کے ذریعے 270 ہسپتالوں میں 7 لاکھ 20 ہزار روپے سالانہ تک علاج کی سہولت دی جائے گی، پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ غریبوں خاندانوں کو یہ سہولت مہیا کی جارہی ہے ۔ اگلے مرحلے میں اس پروگرام کو ڈیڑھ کروڑ افراد تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے بتایا آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت، غذائیت،تعلیم ، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور حفظان صحت کے لئے 93 ارب روپے مختص کئے جائیں گے ۔انہوں نے بتایا افراط زر میں کمی کے لئے حکومت نے اہم اقدامات کئے ،وسط مدتی افراط زر کا ہدف پانچ سے سات فیصد ہے ۔انہوں نے بتایا اپنا گھر پروگرام کے تحت 50 لاکھ گھر بنائے جائیں گے ، اپنا کام پروگرام کے تحت کامیاب جوان پروگرام متعارف کرایا گیا ہے ، اس سکیم کے تحت سو ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا گندم ، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے 44 ارب 80 کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے ، زرعی ٹیوب ویلوں پر 6 روپے 85 پیسے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ دیئے جائیں گے ، اس میں وفاق کا حصہ 60 جبکہ صوبائی حکومتوں کا حصہ 40 فیصد ہوگا۔ انہوں نے بتایا اس سال ایل این جی سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے دو ارب ڈالر حاصل ہونگے ،موبائل فون کے لائسنس سے ایک ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے ۔ انہوں نے بتایا اس وقت بجلی کا گردشی قرضہ 1.6 کھرب روپے ہے ، اس طرح گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے ، اس سے نمٹنے کے لئے بجلی اور گیس کے ٹیرف پر نظرثانی کی گئی۔ انہوں نے بتایا منی لانڈرنگ کی لعنت کی روک تھام کے لئے ایک بالکل نیا نظام تجویز کیا جارہا ہے ، اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا سول حکومت کے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین اور افواج پاکستان کے تمام ملازمین کو 2017ئکے بنیادی پے سکیل کے مطابق رننگ بیسک پے پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، گریڈ 17 سے 20 تک کے سول ملازمین کو 5 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس دیا جائے گا، گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، معذور ملازمین کا سپیشل کنوینس الائونس بڑھا کر ماہانہ 2 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ، وزرائ، وزرائمملکت، پارلیمانی سیکرٹریز، ایڈیشنل سیکرٹریز اور جوائنٹ سیکرٹریز کے ساتھ کا م کرنے والے سپیشل، پرائیویٹ سیکرٹری اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹریوں کی سپیشل تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ کی تجویز ہے ، اس کے علاوہ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 روپے کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا آئندہ مالی سال کا بجٹ تخمینہ 7022 ارب روپے ہے جوکہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 5385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے ، مالی سال 2019-20ئکے لئے وفاقی آمدنی کا تخمینہ 6ہزار 717 ارب روپے ہے جوکہ رواں مالی سال 5661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے ، ایف بی آر کے ذریعے 5555 ارب روپے کی آمدن متوقع ہے ، وفاقی سطح پر جمع کئے گئے ریونیو میں سے 3255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو دیئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا آئندہ مالی سال کے لئے نیٹ فیڈرل ریونیو کی مد میں 3462 ارب روپے کا تخمینہ ہے جوکہ رواں مالی سال کے مقابلے میں 13 فیصد زائد ہے ، وفاقی بجٹ خسارہ 3560 ارب روپے ہوگا۔ انہوں نے بتایا آئندہ مالی سال کا مجموعی مالیاتی خسارہ 3137 ارب روپے یا جی ڈی پی کا 7.1 فیصد ہوگا۔ انہوں نے بتایا حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈہ ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے ، 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی خام مال کے ضمن میں مستثنیٰ کی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیائپر ڈیوٹی کم کی جاسکتی ہے ، مقامی جنگلات کو بچانے اور فرنیچر کے پیدا کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے لکڑی پر ڈیوٹی تین فیصد سے کم کرکے زیرو فیصد اور لکڑی کی مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے تین فیصد کرنے کی تجویز ہے ،ایل این جی کی درآمد پر موجودہ کسٹم ڈیوٹی 7 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا اینٹوں کے بھٹوں پر 17 فیصد ٹیکس کی جگہ استعداد اور جگہ کے حساب سے ٹیکس عائد کیا جائے گا، ریستوران اور بیکریوں کی طرف سے سپلائی کی جانے والی غذائی اشیائپر سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصد تک لائی جائے گی، خشک دودھ پر 10 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، پی ایم سی اور پی وی سی کی افغانستان برآمد پر پابندی کے خاتمے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا سابق قبائلی علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018ئسے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لئے چھوٹ دینے کی تجویز ہے جبکہ یہ اطلاق سٹیل ملز اور گھی ملز پر نہیں ہوگا، موبائل فون کی درآمد پر 3 فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا بے حد ضروری ایس آر اوز کے علاوہ تمام ایس آر اوز اور ایس ٹی جی اوز کا خاتمہ کیا جارہا ہے ، سٹیل کے شعبے کے لئے عمومی قانون کی بحالی کے تحت ان اشیائپر ایف ای ڈی لگانے سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جارہا ہے ، سی این جی ڈیلرز کے لئے قیمت ویلیو ریجن ون کے لئے 64 روپے 80 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 74 روپے 4پیسے فی کلو گرام اور ریجن ٹو کے لئے 57 روپے 69 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 69 روپے 57 پیسے فی کلو گرام کرنے کی تجویز ہے ، اس کے علاوہ چینی پر ٹیکس کی شرح 17 فیصد کرنے کی تجویز ہے ،چکن، مٹن، بیف اور مچھلی کے گوشت سے تیار ہونے والی فروزن اشیائپر 17 فیصد سیلز ٹیکس لاگو کئے جانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا گھی، کوکنگ آئل پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 17 فیصد کئے جانے کی تجویز ہے ، سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر 2 روپے کرنے کی تجویز ہے ، ایل این جی کی درآمد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز ہے ، کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا،ہزار سی سی تک 2.5 فیصد، 1000 سے 2000 سی سی تک 5 فیصد اور 2000 سے زائد پر 7.5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی، سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں بھی اضافے کی تجویز ہے ، بالائی سلیب پر 4500 روپے فی ہزار سٹکس سے بڑھا کر 5200 روپے ، زیریں سلیب کے لئے موجودہ دو سلیبز کو ضم کرکے 1650 روپے فی ہزار سٹکس کے لحاظ سے ٹیکس عائد کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے بتایا ماضی میں ٹیکس گزاروں کی فعال فہرست میں مقررہ تاریخ کے بعد جمع کرائے گئے گوشوارے کے حامل افراد نان فائلر ہی شمار ہوتے تھے جبکہ اس پر زیادہ ٹیکس کی شرح لاگو ہوتی تھی، اس شق کو ختم کیا گیا ہے ، نان فائلر کے نام پر 50 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد کی خریداری پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز ہے ، قابل ٹیکس آمدن کی کم سے کم شرح تنخواہ دار طبقے کے لئے 6 لاکھ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے ، کمپنیوں کے لئے ٹیکس ریٹ اگلے دو سال کے لئے 29 فیصد پر فکس کئے جانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا گفٹ کی وصولی آمدن تصور ہوگی، حصص پر منافع کی شرح پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ قانونی کارروائی کے لئے سپیشل جج کی عدالت میں گوشوارے جمع نہ کرانے پر قانونی کارروائی کے لئے مقدمہ کئے جانے اور مذکورہ شخص کی گرفتاری ممکن بنانے کی تجویز زیر غور ہے ۔ حماد اظہر نے کہا جنرل سیلز ٹیکس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا، دودھ کریم اور فلیورڈ دودھ پر 10 فی صد ٹیکس عائد ہوگا ، خشک دودھ پر سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے 10 فی صد کر دی گئی، چمڑے کی مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں 17 فی صد اضافہ کر دیا گیا،سٹیل میں استعمال سکریپ پر 5600 فی صد میٹرک ٹن سیلز ٹیکس بحال کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا سونا، چاندی، ہیرے اور زیورات پر ٹیکس لگایا جائے گا، ماربل کی صنعت کو ملنے والی بجلی پر ایک روپے 25 پیسے فی یونٹ ٹیکس کی تجویز ہے ۔آن لائن کے مطابق موبائل فونز ،پٹرولیم مصنوعات،بجلی و گیس کے آلات، فوم، اسلحہ، آٹو پارٹس،ریسٹورنٹس اور بیکری کیلئے چیزوں پر ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے ۔بجٹ دستاویزات کے مطابق کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت 50 لاکھ سے ایک کروڑ روپے مالیت کی کمپنی پر 7 ہزار روپے سالانہ،5 کروڑ روپے مالیت والی کمپنی پر 18 ہزار ،5 کروڑ سے 10 کروڑ روپے والی کمپنی پر 35 ہزارسالانہ ٹیکس ،10 کروڑ سے 20 کروڑ روپے مالیت والی کمپنی پر 80 ہزار روپے ،20 کروڑ سے زائد پر 90 ہزار روپے ٹیکس عائد کر دیا گیا۔وکلا پر سالانہ ایک ہزار روپے ،ممبر سٹاک ایکسچینج 5 ہزار روپے ،منی چینجر پر 3 ہزار روپے سالانہ،موٹر سائیکل ڈیلر 5 ہزار روپے ، موٹر کار ڈیلر اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس پر 10 ہزار روپے ،ہیلتھ کلب ،جمنازیم پر 5 ہزار سالانہ،جیولرز،ڈیپارٹمنٹل سٹورز،الیکٹرونکس اشیا سٹورز،کیبل آپریٹرز،پرنٹنگ پریس،پیسٹی سائیڈ ڈیلرز پر ایک ہزار سالانہ ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے ،ٹوبیکو تھوک و پرچون پر 2 ہزار سالانہ،میڈیکل کنسلٹنٹ یا سپیشلسٹ اور ڈینٹل سرجن پر 5 ہزار سالانہ ٹیکس عائد کر دیا گیا۔