مکرمی ۔ہم ایک دوست کے ہاں اکٹھے ہوئے تھے ۔ مہمان نوازی کیلئے پیزا آرڈر ہوا ۔ چند منٹ بعد ایک چالیس 45 سالہ شخص دروازے پر موجود تھا۔ دوست نے شکوہ کیا ’’بہت دیر لگا دی بھائی‘‘ ۔ جواب ملا ،کل سے بخار ہے ۔ مالک لوگ ہفتہ وار چھٹی دیتے ہیں اور نہ ہی بیماری کی صورت میں رخصت … محض 10 ہزار تنخواہ ہے۔ خیر اسے پیسے ادا کئے ۔ چندپیسے ٹِپ کے طور پر دے دیئے ۔ آٹھ ، دس ہزار تنخواہ آج کل کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں ۔ ہم اس کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں تو یہ احساس ہوگا کہ ضرورت کیا ہوتی ہے اور پوری نہ ہو تو کیا بیتتی ہے ۔ آئیے ، ہم خود سے عہد کر لیں کہ جب بھی کسی ہوٹل میں کھانا کھائیں یا گھر کچھ منگوائیں ، تو ویٹر اور ڈیلیوری بوائے کو خالی ہاتھ واپس نہ بھیجیں ۔ کیونکہ اپنے مالکوں کی جانب سے استحصال کے بعد ہم ہی ان کی امید ہوتے ہیں ۔ وگرنہ حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر خود کشی کرتے یا مجرم بنتے دیر نہیں لگتی ۔ (محمد نورالہدی لاہور)