لاہور( حافظ فیض احمد)اکبر بگٹی ٹرین حادثہ کے حوالے سے روز نامہ92نیوز نے ٹرین حادثے کے متعلق اہم دستاویزات حاصل کر لیں کہ ٹرین کو کتنے بجے لائن کلیئر دی گئی اور ا س سے قبل مال گاڑی کتنے بجے ولہار ریلوے سٹیشن پہنچی ، کانٹا کتنے بجے تبدیل کیا گیا اور اکبر بگٹی کو گزارنے کے لئے مال گاڑی کے ڈرائیور کو گڈز ٹرین لوپ لائن پر لے جانے کا کہا گیا، دستاویزات کے مطابق اکبر بگٹی ٹرین سے قبل مال گاڑی کا3بجکر56منٹ پر سگنل مانگا گیا ، 4بجکر2منٹ پر مال گاڑی سیکشن میں داخل ہوئی ، کانٹا تبدیل کیا گیا اور گڈز ٹرین4بجکر16منٹ پر ولہار ریلوے سٹیشن پہنچی تو ٹرین کو لوپ لائن پر لے جانے کا سگنل دیا گیا تاکہ پیچھے سے آنے والی ٹرین اکبر بگٹی کو تھرو کا سگنل دیا جائے اور ماچھی گوٹھ ریلوے سٹیشن سے 4بجکر19منٹ پر لائن کلیئر مانگی گئی ، ولہار ریلوے سٹیشن ماسٹر نے 4بجکر20منٹ پر لائن کلیئر قرار دے دی اور تھرو کا سگنل دیا گیا ، جس کے بعد ولہار ریلوے سٹیشن ماسٹر نے ریتی ریلوے سٹیشن ماسٹر سے 4بجکر26منٹ پر تھرو کا سگنل مانگا اور انہوں نے 4بجکر27منٹ پر اکبر بگٹی ٹرین کو تھرو کا سگنل دیا اور لائن کلیئر قرار دے دی اور رجسٹر پر بھی لکھ دیا گیا اکبر بگٹی ٹرین کو راستہ دینا ہے ، یہ بھی معلوم ہو اہے مال گاڑی نے بھی ولہار ریلوے سٹیشن پر سٹاپ نہیں کرنا تھا لیکن مسافر ٹرین کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے اور اس طرح مال گاڑی کو لوپ لائن پر لے جایا گیا تاکہ اکبر بگٹی کو گزارا جا سکے ، اکبر بگٹی ٹرین4بجکر 36منٹ پر لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، ذرائع کا کہنا ہے جب مال گاڑی ولہار ریلوے سٹیشن آ رہی تھی تو اس سے قبل ٹرین کو لوپ لائن پر لے جانے کیلئے کانٹا تبدیل کیا گیا جس کے بعد دوبارہ کانٹا تبدیل نہیں کیا گیا اور اکبر بگٹی ٹرین لوپ لائن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، ذرائع کے مطابق ریلوے کی تحقیقاتی ٹیم نے ریلوے سٹیشن ماسٹر ولہار، پوائنٹس مین اور دیگر عملے کے بیان ریکارڈ کر لئے ہیں جبکہ اس بات پر بھی انکوائری کی جا رہی ہے کہ جب مال گاڑی کو لوپ لائن پر لے جانے کے لئے کانٹا تبدیل کیا گیا تو ا سکے بعد دوبارہ کانٹا تبدیل کیا گیا تھا یا نہیں۔ لاہور، رحیم یارخان، نوشہرہ ورکاں، شاہکوٹ (نیوز رپورٹر ، نمائندگان) رحیم یار خان کے قریب ٹرین اکبر بگٹی ایکسپریس کو حادثے میں جاں بحق افرادکی تعداد 24 ہوگئی ، جمعہ کو حادثے میں زخمی ہونے والی ایک خاتون شیخ زاید ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئی۔ڈی پی او عمر سلامت نے بتایا کہ رات گئے امدادی کارروائیوں کے دوران ایئر فورس ملازم غلام محمد کی 4 سالہ بیٹی کی نعش برآمدکرلی گئی، ملبے سے ایک بچی کی لاش نکالی گئی جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی۔ڈی پی او عمر کے مطابق اب تک ملبے سے 23 لاشیں نکالی جاچکی ہیں ،حادثے کے 90 سے زائد زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ نوشہرہ ورکاں کے علاقے کڑیال کلاں کے رہائشی تیرہ سالہ فرا زاور تین سال احمد رضا بھی ٹرین حادثہ میں جاں بحق ہوئے جن کو سپرد خاک کردیا گیا، اکبر ایکسپریس ٹرین حادثہ ہلاک ہونے والے مسافروں میں نئی پوسٹوں پر تعینات ہونے والے پاکستان ایئر فورس کے شہید 5جوان کی میتوں کو کینٹ منتقل کیا گیا جہاں نماز جنازہ کی ادائیگی اور فوجی اعزازات کے ساتھ شہید ہونے والے پانچوں جوانوں کی میتوں کو تدفین کیلئے آبائی علاقوں کو بھجوادیا گیا، جاں بحق شاہ کوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے میاں بیوی اور دو بیٹیوں کی نماز جنازہ مقامی قائد اعظم سپورٹس کمپلیکس میں ادا کر دی گئ، نماز جنازہ میں مقامی ایم پی اے میاں محمد عاطف ، چوہدری طارق محمود باجوہ ، چوہدری محمد ارشد ساہی اور سماجی و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ صادق آباد ولہار ریلوے سٹیشن پر حادثے کی ابتدائی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ تیار کر لی گئی ۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ٹرین حادثے کا ملبہ ٹرین ڈرائیور مقصود احمد اور اسسٹنٹ ڈرائیور ارسلان پر ڈال دیا گیا اور کہا گیا حادثہ اوور سپیڈ اور غیر ذمہ داری کے باعث پیش آیا، اکبر ایکسپریس کیلئے لائن نمبر 3 کا روٹ بناتے وقت کانٹا پھنس گیا، کانٹا پھنس جانے پر اکبر ایکسپریس کو روکنے کیلئے سٹیشن سے 400 میٹر دور آوٹر سگنل سرخ کیا گیا، ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیو نے سرخ سگنل پر دھیان نہ دیا، اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکڑا گئی۔