پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے سیاست اور فوج میں تعلق تلاش کرنے والوں کو یاد دلایا ہے کہ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت کرتی ہے نہ ہی اسے گھسیٹا جائے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے بعض رہنمائوں کی جانب سے جی ایچ کیو کے سامنے یا راولپنڈی میں احتجاج کے بیانات کے متعلق انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے راولپنڈی آنے کی کوئی وجہ نہیں لیکن ایسا ہوا تو پی ڈی ایم والوں کو چائے پانی پلایا جائے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمومی سوالات کی بجائے بعض ایسے سوالات کے کھل کر جواب دیئے جن کا تعلق موجودہ سیاسی ماحول سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے فوج پر الزامات اچھی بات نہیں۔ انہوں نے فوج کو حکومت کا ذیلی ادارہ قرار دیا۔ میجر جنرل بابر افتخار کی جانب سے پاک افغان سرحد پر لگائی گئی باڑ اکھاڑنے کی باتیں کرنے والے عناصر کو سخت لہجے میں انتباہ کیا گیا‘ انہوں نے کہا کہ کسی کی مجال نہیں کہ سرحد پر باڑ کو اکھاڑ سکے۔ وطن عزیز میں جن دنوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کے لیے فوج کے سربراہوں کو مداخلت کی درخواست کیا کرتی تھیں تو ساتھ ہی ذرائع ابلاغ میں سول ملٹری تعلقات کی بحث چھیڑ دی جاتی تاکہ عوام کو ایسا لگے گویا حکومت کی غیر آئینی تبدیلی فوج کے افسران کے ایما پر ہوتی ہے۔ یہ ایک غلط اورناقابل قبول روایت تھی جس نے پاکستان میں جمہوری اقدار کو توانا نہیں ہونے دیا۔ 2006ء میں پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ ن کوقائل کیا کہ جنرل پرویز مشرف سے نجات کے لیے انہیں مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ اس مشترکہ جدوجہد کے نتیجہ خیز ہونے کی صورت میں دونوں نے عہد کیا کہ وہ ایک دوسرے کی منتخب حکومت کو آئینی مدت سے پہلے ہٹانے کے لیے فوج سے مداخلت کا نہیں کہیں گے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ مسلم لیگ ن اس عہد پرکاربند نہ رہ سکی۔ سید یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے خلاف میاں نوازشریف خود کالا کوٹ پہن کر عدالت جا پہنچے۔ یہ مسلم لیگ ن ہی ہے جس نے اپنی غلطیوں سے سبق نہیں حاصل کیا اور جب کبھی اپوزیشن میں بیٹھنا پڑا اس نے غیر جمہوری انداز میں حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی۔2018ء کے عام انتخابات میں عوام کی اکثریت نے دونوں سابق حکمران جماعتوں کی بجائے عمران خان کی تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف کی جیت نے دونوں سابق حریف جماعتوں کو ایک کردیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے ایجنڈے پر احتساب کا وعدہ سرفہرست تھا۔ حکومت میں آتے ہی احتساب کے اداروں کو آزادی دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ عمران خان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا نظام بہتر کرنے کا اعلان کیا۔ سابق وزیراعظم نوازشریف پنامہ سکینڈل کے نتیجے میں ہونے والی تحقیقات کی زد میں آئے اور مالیاتی جرائم پر عدالت سے سزا پائی۔ سابق حکمرانوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات نے اپوزیشن کو سیاسی سطح پرایک ہونے کا راستہ دکھایا۔ یہ صورت حال ایسے گروہوں اور چھوٹی جماعتوں کے لیے موزوں ثابت ہوئی جو ریاست کو کمزور کرنے والوں کے ہم آواز بن جاتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے سوا سال پہلے اسلام آباد میں دھرنا دیا۔ دھرنے کے دوران وہ مسلسل اس کوشش میں رہے کہ فوج ضامن کے طور پر سامنے آئے۔ اس سلسلے میں ان کی ایک خفیہ ملاقات کی کہانی بھی سننے کو ملتی ہے۔ پی ڈی ایم کی تشکیل اور پھر ستمبر اکتوبر 2020ء میں اس کی جانب سے جلسوں کے اعلان کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اپوزیشن رہنما آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت کو ہٹا دیا جائے۔ اس وقت جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا کہ فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹاجائے ‘فوج کا سیاسی عمل سے براہ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے حالیہ قانون سازی ‘انتخابی اصلاحات ‘ سیاسی اموریا نیب کے معاملات میں فوج کا عمل دخل نہ ہونے کا بتایا‘آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج کو سیاسی امور میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں ‘موجودہ منتخب حکومت جو کہے گی ہم وہ کریں گے ہم ملک میں کسی کو کوئی فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اپوزیشن رہنما گلگت بلتستان کے معاملے پر مشاورت کے لئے آرمی چیف سے ملے تو اس وقت بھی ان رہنماوں کا لہجہ شکایات سے بھرا تھا ۔ اپوزیشن رہنماوں نے نیب پر تحفظات کا اظہار کیاجس کے جواب میں آرمی چیف کا کہناتھاکہ چیئرمین نیب کا تقرر اورالیکشن کمیشن کی تشکیل آپ نے کی ہے ‘آپ جانیں اورآپ کا کام جانے‘آپ کا فرض ہے کہ دیکھیں ٹھیک بندہ لگایاہے یا غلط۔شیخ رشید احمد کے بقول ملاقات میں شہباز شریف ‘ بلاول بھٹوزرداری ‘سراج الحق ‘مولانا اسعد محمود اور شاہ محمود قریشی نے وفود کے ہمراہ شرکت کی۔ یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر اسے سیاست میں الجھا دیا گیا۔ملاقات میں ایک اپوزیشن رہنما کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیانات کا بھی ذکر کیا گیاکہ وزیراعظم توہین آمیز بیانات دیتے ہیں ،جس پر آرمی چیف نے کہا کہ تمام سیاست دان ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیتے ہیں۔ اپوزیشن رہنمائوں کو سردست اپنی ساکھ بحال کرنے‘ جمہوری اقدار پر ہر حال میں عمل پیرا رہنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ فوج یا عسکری قیادت کو سیاست میں گھسیٹنے کی بجائے اپوزیشن پارلیمنٹ میں اپنی کارکردگی پر توجہ دے‘ بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما ادارے پر الزامات عائد کرکے پی ڈی ایم قوم کی کوئی خدمت نہیں کر سکے گی۔