اسلا م آ با د (خصوصی نیوز رپورٹر،آن لائن)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 6 ارب ڈالر کے معاشی پیکیج کے تحت پاکستان کو 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط فراہم کردی جس کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب4 کروڑ 31 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں ۔آئی ایم ایف کی جانب سے 6 ارب ڈالرکے پیکیج میں سے ایک ارب ڈالر فوری طور پر پاکستان کو دینے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت پہلی قسط جاری کی گئی۔گزشتہ روزسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان نے بتایا کہ قومی بینک کو آئی ایم ایف کے توسیعی سہولت فنڈ (ای ایف ایف) کے تحت 991.4 ملین ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوگئی ہے جو کہ آئی ایم ایف کے مانیٹری ریزروکرنسی میں 716 ملین کے مساوی ہے ۔3 جولائی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے انتظامی بورڈ نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالر کے قرضہ کے ضمن میں توسیعی فنڈ سہولت کی منظوری دی تھی، اس سہولت کے تحت پاکستان کو 39 ماہ کے عرصہ میں مجموعی طورپر6 ارب ڈالر کا قرضہ اقساط میں ملے گا۔انتظامی بورڈ سے منظوری کے بعد پاکستان کیلئے فوری طورپر تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کی گئی ہے جس کا مقصد ملک میں پائیدارترقی اوربڑھوتری کیلئے اصلاحات کے عمل میں معاونت فراہم کرنا ہے ۔سٹیٹ بینک کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے 99 کروڑ 14 لاکھ ڈالر کی پہلی قسط ملنے سے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب4 کروڑ 31 لاکھ ڈالر ہوگئے ہیں۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے گزشتہ روز پاکستان کی معیشت پر رپورٹ جاری کی جس میں ٹیکسوں کو بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کی قیمت اڑھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہو گی۔ پاکستان نے بجٹ میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں جبکہ پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ستمبر تک ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکسز جمع کرنا ہونگے ، پاکستان کو اپنی معیشت کی بہتری کیلئے 25 ارب ڈالرکی ضرورت ہے ۔ مئی سے کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کررہی ہے لیکن سٹیٹ بینک اسے ماننے کو تیار نہیں۔