سچ پوچھیں عمران خان کے پاکستانی سیاست میں وارد ہونے سے عوام کے ذہنوں و دلوں میں ایک امید کی کرن پھوٹی اور اُنھیں وہ تازہ ہوا کا جھونکا لگا۔ اس ملک کے لوگ دو تین خاندانوں کی حکمرانی سے تنگ آ چکے تھے۔ہر زبان پہ یہی تھا کہ عمران خان پاکستانی سیاست میں ایک نیا چہرہ ہے ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور شوکت خانم ہسپتال جیسا فلاحی کام اس کے کریڈٹ پر ہے ، اسے ضرور موقع ملنا چاہیے ۔لو گ آگے بڑھے ، خود اپنی سواریوں کا بندوبست کر کے پولنگ سٹیشنز پہنچے اور اس کی پارٹی کو ووٹ دیئے ۔ یہاں تک کہ اس کی پارٹی کراچی سے بھی آٹھ سیٹیں لے گئی ۔ صوبہ خیبر پختونخواہ جہاں اس کی پہلے بھی حکومت تھی وہاں اس کی دوبارہ حکومت بن گئی ۔ اسی طرح صوبہ پنجاب جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اور جہاں کی حکومت کو وفاق کی حکومت حاصل کرنے کا پہلا زینہ سمجھا جاتا تھا، اس کی جھولی میں آگرا اور پھر وہ اس ملک کا وزیراعظم بن گیا ۔سچ پوچھیں یہ ایک بہت بڑا انقلاب تھا ۔آپ کے علم میں ہے کہ جس خطہ میں ہم رہ رہے ہیں، یہاں کئی سو سال مغلوں کی حکمرانی رہی، جو یہاں کی زبان سے بھی نا بلد تھے اور ان کی زبان فارسی تھی ۔ یہاں انھوں نے سرکاری زبان’فارسی‘ کو قرار دلوا دیا اور سرکاری دفاترمیں تمام لکھت پڑھت فارسی زبان میں ہونے لگی۔ پنجاب حکومت کے سول سیکریٹریٹ میں واقع انار کلی کا مقبرہ مغلوں کے دور کی سرکاری فائلوں سے بھرا پڑا ہے اور ان سب کی زبان فارسی ہے۔اسی طرح مغلوں کی حکمرانی کے بعد انگریزوں کی حکومتیں آ گئیں اور سرکاری زبان انگریزی ہو گئی ۔ انگریزوں کی حکمرانی سے تو ہم نکل آئے لیکن ہمارے ذہنوں سے صدیوں کی غلامی نہ نکل سکی اور ماشا اللہ آج بھی سرکاری دفاتر میں انگریزی ہی میں لکھا پڑھا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس ملک میں دو خاندان حکومت کر رہے تھے، ایک لاہور کا شریف خاندان اور دوسرا سندھ کا زرداری خاندان۔ عمران خان کا اس ملک کا وزیر اعظم بننا اور اس کی پارٹی کی صوبہ پنجاب میں حکومت بننا ایک قسم کا انقلاب ہی تھا لیکن بد قسمتی سے اس کی پنجاب کی حکومت سے لوگ نالاں ہی رہے ۔ ہر قسم کی کرپشن عام آدمی کو بھی نظر آتی تھی ۔ اسی طرح وفاق میں بھی حکومتی نا اہلی اور کرپشن کی کہانیاں عام تھیں اور پھر اس کے ہاتھوں سے دونوں حکومتیں چلی گئیں۔اس کی واضح وجہ وہی دوفقرے ہیں جو میرے دل و دماغ میں بیٹھ کر رہ گئے ہیں اور وہ ہیں ’’ جنہوں نے سردی گرمی بند کمروں کے شیشوں سے دیکھی ہو اور جنہوں نے بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو وہ عام آدمی کی نمائندگی اور اس کے مفادات کی نگہبانی نہیں کر سکتے ‘‘۔ کیا عمران خان نے کبھی لاہور کی ویگنوں یا اومنی بسوں میں سفر کیا ہے!کیا اس نے کبھی میانوالی سے یا رحیم یار خان سے لاہور تک کا سفر بسوں میں خصوصاً پچھلی سیٹوں پر بیٹھ کرکیا ہے جہاں جمپ لگنے کا منطقی نتیجہ مسافر کا سر بس کی چھت سے جا ٹکرانا ہو تا ہے ۔ کیا اس نے کبھی ایل ڈی اے (LDA (سے نقشہ منظور کرایا ہے۔ یقیناً آپ کا جواب’ نہیں‘ میں ہے۔سچ پوچھیں اسے عام آدمی کے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہے اور نہ ہی ہو سکتا ہے ۔ آپ نے اس کی پارٹی کی حکومت اسی صوبہ میں دیکھ لی ہے جہاں صوبہ پنجاب کو ایک نو آموز سیاستدان ’ بزدار‘ کے حوالے کر دیا گیا اور خانصاحب اسی پر ڈٹے رہے۔ آج بھی صوبہ پنجاب میں خانصاحب کی پارٹی کی حکومت ہے ، نتائج بتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کے سامنے سب کچھ ہے ، جن دفاتر میں پہلے رشوت دے کر کام ہوتے تھے وہاں آج بھی رشوت اسی طرح چل رہی ہے۔ لاہور جیسے تاریخی شہر کے جو حالات ہو چکے ہیں وہ کس سے پو شیدہ نہیں ہیں اور اگر ہیں تو صر ف عمران خاں سے کیونکہ انھوں نے گھر سے نکلنا ہے تو شہر کی پوری مشینری الرٹ ہو جاتی ہے ۔ کاش کبھی وہ پرویز الہی سے کہیں کہ چلو آج لاہور شہر کی سیر کرتے ہیں ، دونوں اکیلے بغیر کسی پروٹوکول کے نکلیں اور پھر انجوائے کریں لاہور ۔لیکن آپ کو بھی پتہ ہے اور مجھے بھی کہ وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتے۔تو سوال اٹھتا ہے کہ اس ملک کے لوگ کیوں اس کے پیچھے پیچھے بھاگے پھرتے ہیں ، اور وہ ضمنی انتخابات کی نو سیٹوں پر اکیلا کھڑا ہو جاتا ہے اور آٹھ پر جیت جاتا ہے۔ اس کی واحد اور اکلوتی وجہ صرف یہ ہے کہ جن لوگوں کے سامنے لوگ منہ سیدھا کر کے بات نہیں کر سکتے تھے وہ انھیں چوراہوں میں کہتا ہے کہ تم چور ہو ، ڈاکو ہو، تم اس غریب قوم کی دولت لوٹ کر اس ملک سے باہر لے گئے ہو،وہاں اپنی اولادوں کے لیے محلات بنا لیے ہیں اور ان کے لیے بڑے بڑے کاروبارestablish کر لیے ہیں۔ خانصاحب پر جان لیوا حملہ ہوتا ہے اور وہ اپنی ایف آئی آر (FIR) میں وہ نام درج کرانے کی کوشش کر تے ہیں جن کا نام اس ملک کا عام آدمی خواب میں لیتے ہوئے بھی ڈر کے اور ہڑا بھڑا کے جاگ جاتا ہے۔ اگرچہ خانصاحب بھی ایف آئی آر درج کرانے میں ناکام رہے لیکن نہ جانے کیوں مجھے ڈاکٹر علامہ اقبال کا یہ مصرعہ ذہن میں آ رہا ہے ع تو میرا شوق دیکھ میرا انتظار دیکھ خانصاحب کی یہ بات بھی لوگوں کے دلوں کو بھاتی ہے کہ میر ا جو کچھ ہے وہ پاکستان میں ہے۔ میں نے اس ملک کو چھوڑ کر کہیں نہیں جانا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ عمران خان نے اس ملک کے عوام کے ذہنوں سے خوف کی دیوار تو گر ا دی ہے۔ ٭٭٭٭٭