بھارتی حکومت نے جہاں عرصہ 14 ماہ سے کشمیرمیں مکمل لاک ڈاؤن کر رکھا ہے اور ذرائع ابلاغ ٹیلی فون، موبائل، اخبارات، انٹرنیٹ سب کچھ بند ہے جہاں 80 لاکھ کشمیری اپنے گھروں میں محسور ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اب مودی حکومت نے کشمیری صحافت پر ایک اور وار کر تے ہوئے بغیر کوئی وجہ بتائے یا نوٹس دیے معروف اخبار 'کشمیر ٹائمز' کے سرینگر کے دفتر کو سیل کر دیا جبکہ اخبار کے مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت نے کارروائی سے قبل نہ تو کوئی نوٹس جاری کیا اور نہ ہی دفتر سے بے دخل کرنے کے لیے کوئی وجہ بتائی اس لیے یہ غیر قانونی کارروائی ہے۔ کشمیر ٹائمز کا مرکزی دفتر جموں میں ہے تاہم اخبار سرینگر اور جموں دونوں شہروں سے شائع ہوتا رہاہے۔ سرینگر میں حکومت نے دیگر میڈیا اداروں کی طرح میں پریس اینکلیو میں واقع اپنی ایک عمارت دے رکھی تھی۔ پیر کے روز سرکاری حکام دفتر پہنچے اور اس پر تالاڈال دیا۔اخبار کی ایڈیٹر اور مالک انورادھا بھسین کا کہنا ہے کہ چونکہ حکومت کو اپنے خلاف تنقید قطعی پسند نہیں ہے اسی لیے اس نے 'کشمیر ٹائمز' کے خلاف انتقامی کارروائی کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اخبار کشمیر سے متعلق حکومت کی پالسیوں اور اس کی کارروائیوں پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے۔ ہم عوام کی آواز بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ ہمارے اداریوں اور مضامین میں حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کی جاتی رہی اور حکومت اپنے خلاف آواز سننے کو ہرگز تیار نہیں ہے مودی سرکار اپنے خلاف ہر آواز کو خاموش کردینا چاہتی ہے۔ انگریزی زبان کا اخبار کشمیر ٹائمز بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے شائع ہوتا ہے۔ اخبار کی اشاعت کا آغاز 1954 میں ہوا۔ اس وقت یہ ہفتہ وار اخبار تھا۔ 1964 میں اسے روزنامہ بنا دیا گیا۔ کشمیر ٹائمز جموں و کشمیر کا سب سے پرانا اور سب سے زیادہ شائع ہونے والا اخبار ہے۔ اس کے سبسکرائبرز کی تعداد 20 لاکھ ہے۔ اخبارکو کشمیر کے معاملات کو سمجھنے کے لیے دنیا بھر میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کشمیر میں آزاد میڈیا اور صحافیوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا جا رہاہے اس سے کون واقف نہیں ۔ آئے دن میڈیا ہائوسز اور صحافیوں کے خلاف کیسز درج کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹروں کو حراست میںلیا جاتا ہے ان کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوتی ہے اور تھانے میں طلب کر کے انہیں ڈرایا اور دھمکایا بھی جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بندش کی وجہ سے کئی میڈیا ہائوسز بند ہو گئے۔اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کم ہو گئی ۔بے روزگاری بڑھی ہے اور کئی صحافتی اداروں نے تنخواہوں میں کٹوتی بھی کر دی۔گزشتہ تین دہائیوں کے دوران اعداد و شمار کے مطابق اب تک 18 صحافی مار ے جاچکے ہیں۔ گزشتہ چودہ ماہ کے دوران کئی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ صحافیوں کو کرفیو پاسز جاری کرنے سے انکار کیا گیا جس کی وجہ سے وہ کئی اہم واقعات کی کوریج سے محروم رہے۔ پانچ اگست 2019ء کے بعدگرچہ مرحلہ وار فون اور کم رفتار ٹو جی انٹرنیٹ خدمات بحال کی گئیں تاہم تیز رفتار 4 جی انٹرنیٹ سروسز ایک سال گزرنے کے باوجود معطل ہے۔ صحافیوں کو ہراساں کرنے، انہیں پولیس تھانوں یا پولیس افسران کے سامنے پیش ہوکر اپنی رپورٹس اور خبروں سے متعلق وضاحتیں پیش کرنے کے لیے طلب کیا جاتا رہا۔صحافیوں پر یہ دبائو بھی ڈالا جاتا رہا کہ وہ اپنی خبروں کے ذرائع بتائیں جس سے انکار پر انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایات بھی سامنے آتی رہیں۔ رواں سال اپریل میں پولیس نے تین کشمیری صحافیوں گوہر گیلانی، پیرزادہ عاشق اور فوٹو جرنلسٹ مسرت زہرا کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے۔ رواں برس جون میں بھارتی حکام نے ایک نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائی جس سے انہیں قابل اعتراض خبر شائع کرنے والے صحافی یا صحافتی ادارے کے خلاف کارروائی کا بھی اختیار حاصل ہو گیا۔ اگر حکومت نے کسی اخبار یا میڈیا ہاؤس کو دفتر مہیا کر رکھا ہے تو اس کی منسوخی کا بھی ایک ضابطہ ہے۔ حکومت کو پورا اختیار ہے کہ وہ معاہدے کومنسوخ کرسکتی ہے تاہم مذکورہ بالا معاملے میں ضابطہ اخلاق کو بالاطاق پر رکھ دیا گیا اور بغیر کسی نوٹس یا پھر پیشگی اطلاع کے ہی اسے سیل کر دیا گیا۔ عملہ کو دفتر خالی کرنے کا کوئی وقت بھی نہیں دیا گیا اور نہ ہی اب تک اس کی کوئی وجہ بتائی گئی ہے۔اخبار کی مالک کا کہنا تھا کہ دفتر خالی کرنے کا وقت نہ ملنے سے، کمپیوٹر اور اخبار کی اشاعت سے متعلق دیگر چیزیں اندر ہی رہ گئیں۔ اس سے ان کا کام کاج بری طرح متاثر ہوگا اور کورونا کی وبا کے بعد سرینگر سے اخبار کی دوبارہ اشاعت کی جو کوششیں جاری تھیں اسے بڑھا دھچکا لگا ہے۔ ایک رپورٹ میںانکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے صحافیوں پر تشدد، اغوا، قاتلانہ حملے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس ظلم و تشدد کی وجہ سے صحافیوں کیلئے مقبوضہ علاقے میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں کئی صحافی اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران زخمی ہو چکے ہیں اور بعض کو فوجیوں نے جھوٹے الزامات کے تحت نظر بند کر دیا گیاہے۔ گزشتہ برس بھارتی حکومت نے کشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والی دفعہ 370 کو ختم کر دیا تھا اور اس کے رد عمل سے بچنے کے لیے بھارتی حکومت نے تمام کشمیری رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ہی ایسی بندشیں عائد کی تھیں کہ میڈیا اور دیگر نشریاتی ادارے بھی بند ہوکر رہ گئے ۔ اس کارروائی کے بعد سے ہی کشمیر کے متعدد صحافیوں کے خلاف سخت قوانین کے تحت مقدمات درج ہوتے رہے ہیں اور متعدد صحافی حکومت کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔