وزیر اعظم عمران خان نے انتخابی اصلاحات پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے نامور قانون دان بیرسٹر علی ظفر کو جنہوں نے ان سے منگل کو ملاقات کی ہے، کہا کہ انتخابی اصلاحات پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے۔سینٹ انتخابات سے قوم نے بہت کچھ سیکھا ہے، انتخابات میں پیسے کے استعمال اور بدعنوانی کو روکنا لازم ہو گیا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ سینٹ انتخابات میں غیر جمہوری رویوں نے انتخابی اصلاحات کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل سے نہ صرف تمام جماعتوں کو نمائندگی ملے گی بلکہ اس سے ملک کو انتخابی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ انتخابات میں کسی کی ہار کسی کی جیت تو ہوتی ہے لیکن ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزام لگانا اور نتیجے کو قبول نہ کرنا ہماری ایسی غیر جمہوری وغیر سیاسی روایت بن چکی ہے، جس کا تدارک ضروری ہے۔ لیکن جب بھی اس سلسلہ میں انتخابی اصلاحات کی بات کی جاتی ہے تو ایک آدھ کے سواتمام سیاسی جماعتیں اسے حکومتی حربہ کہہ کر عدم تعاون کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے انتخابی عمل میں پائے جانیوالے سیاسی، جمہوری اور اخلاقی سقم آج تک دور نہیں ہو سکے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام جماعتیں انتخابی اصلاحات کیلئے تعاون کریں اور انتخابی اصلاحات کمیٹی میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں تاکہ ملک کے انتخابی عمل میں برسوں سے جاری ‘ دھاندلیوں اور پیسہ چلانے کے رجحان کا خاتمہ کرکے مستقبل میں ایک صاف، شفبدعنوانیوںاف اورجمہوری انتخابی عمل کی راہ ہموار کی جا سکے۔