لاہور(اشرف مجید)ضلعی انتظامیہ کے چہیتے ٹھیکیداروں نے راتوں رات امیر ہونے کیلئے جنرل بس سٹینڈز سے نہ چلنے والی گاڑیوں سے بھی پرچی فیس کے نام پر بھتہ لینا شروع کر دیا ،فیس نہ دینے والے ٹرانسپورٹروں کو سر عام زدوکوب کرنے کے ساتھ دھمکیاں دی جانے لگی ہیں جس پر ٹرانسپورٹروں کی جانب سے ٹھیکیداروں اور انکے کارندوں کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ تھانے میں ٹھیکیداروں کے خلاف درخواستیں بھی جمع کرا دی ہیں،تفصیلات کے مطابق ضلعی انتطامیہ کی جانب سے لاری اڈا سمیت شہر کے تمام خارجی راستوں جن میں سگیاں ،گوجرانوالہ روڈ ،فیروز پور روڈ ،رائے ونڈ روڈ ،ٹھوکر نیاز بیگ ،ماچس فیکٹری شاہدرہ ،25نمبر سٹاپ شیخوپورہ روڈ پر انٹر سٹی گاڑیوں سے پرچی فیس وصول کرنے کا ٹھیکہ 22کروڑ 48لاکھ 72ہزار روپے میں مختلف ٹھیکیداروں کو دے دیا ہے ،جنہوں نے ایسی تمام گاڑیاں جن میں مختلف فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین اور سکول و کالج کے بچوں کو لانے لیجانے کا کام کرتی ہیں سے بھی فی گاڑی 200روپے سے 400روپے لینا شروع کر دیا ہے جس مد میں ان ٹرانسپورٹروں سے بھی لاکھوں روپے پرچی فیس وصولی شروع کر دی گئی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کے صدر چودھری فلک شیر ،چیئر مین تنویر خان کی جانب سے تھانہ شاہدرہ میں ٹھیکیداروں کے کارندوں ملک رمضان اور پپو جٹ کے خلاف درخواست بھی دے دی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ پرچی فیس کے نام پر بھتہ وصول کیا جا رہا ہے اور نہ دینے پر ٹرانسپورٹروں کو اسلحہ کے زور پر زدوکوب کرنے کے ساتھ جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی گئی ہیں ،اس حوالے سے پاکستان ٹرانسپورٹ کونسل کے صدر چودھری فلک شیر ،چیئر مین تنویر خان کا کہنا ہے کہ انکی جانب سے عدالت سے بھی رجوع کیا گیا ہے اور عدالت کی جانب سے پرچی فیس پر انہیں حکم امتناعی بھی دی گئی ہے جسے ٹھیکیداروں کو دکھایا گیا لیکن انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا ،انہوں نے کہا کہ اگر پرچی فیس فوری بند نہ کی گئی تو ڈی سی دفتر کا گھیراؤ کر کے احتجاج کیا جائے گا جبکہ ایڈمنسٹریٹر لاری اڈاحمد رضا بٹ نے کہا ہے کہ جب تک ٹھیکہ نہیں ہوا تھا اس وقت تک انکا عملہ تمام خارجی راستوں پر خود پرچی فیس وصول کر رہا تھا لیکن فیکٹری ملازمین اور سکول بچوں کو لانے لیجانے والی گاڑیوں سے پرچی فیس وصول نہیں کی جاتی تھی اب جبکہ ٹھیکہ دے دیا گیا ہے جس پر اب دونوں فریقین کو بیٹھا کر معاملات حل کرانے کی کوشش کی جائے گی ۔