23جون 2017ء کی گرم دوپہر، کانسٹیبل عطاء اللہ کوئٹہ کے جی پی او چوک پر بطور ٹریفک سارجنٹ اپنی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی کہاں تھا کہ وہ چوراہے پر فرائض کی انجام دہی میں مصروف نہیں بلکہ اپنی قتل گاہ میں کھڑا ہے۔ اس کا قاتل، کروڑوں کی لینڈ کروزر پر سوار ایک بدمست ہاتھی کی طرح، اس کے جیتے جاگتے وجود کو روندنے اور کچلنے کے لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت آتی جاتی گاڑیوں کے درمیان کھڑا ہوا کانسٹیبل عطاء اللہ، اپنے چھ بچوں میں سے کسی بچے کی آنے والی سالگرہ کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ ہو سکتا ہے، وہ اپنے خیالوں میں چھٹی کا کوئی پروگرام ترتیب دے رہا ہو، کہ بڑے دن ہو گئے بچوں کو نہیں دیکھا تو اس بار چھٹی لے کر ڈی جی خان کا پھیرا لگا آئوں گا۔ اماں ابا سے بھی مل لوں گا اور پھر اس کی نظر میں اس کی شریک حیات کا چہرہ گھوم گیا ہو گا۔ سب کی ضرورتیں پوری کرتے کرتے۔ بس اس کی ضرورت رہ جاتی ہے اس بار اس کے لیے نیا جوڑا لے کر جائوں گا، خوش ہو جائے گی بھلی مانس۔ اور اس خیال سے بھی عطاء اللہ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ٹریفک کے ازدحام میں، آتی جاتی گاڑیوں کے ہارن کی آوازیں اور ان کے درمیان کھڑا ہوا چھوٹے چھوٹے سفید پوش خواب بنتا ہوا، کانسٹیبل عطاء اللہ، بے خبر کھڑا تھا کہ بے قابو ہوتی ہوئی، تیز رفتار لینڈ کروزر آندھی کی طرح آئی اور عطاء اللہ کو اس کے خوابوں سمیت روند کر چلی گئی۔ اس گاڑی کو چلانے والا سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالمجید اچکزئی تھا۔ کوئٹہ کے جی پی او چوک میں لگے ہوئے کیمروں نے اس ہولناک منظر کو لینز پر محفوظ کر لیا۔ اب تک کروڑوں لوگوں سے اس خوفناک ویڈیو کو دیکھ چکے ہیں۔ اس طرح کروڑوں لوگ کانسٹیبل عطاء اللہ کے قتل کے گواہ بن چکے ہیں۔ گاڑی کے راستے میں کوئی، کتا بلی بھی آ جائے تو، گاڑی چلانے والا اس جاندار کی جان کا احترام کرتا ہے۔ اس پر گاڑی نہیں چڑھا دیتا۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے ٹریفک کانسٹیبل عطاء اللہ کو جس بے دردی، بے رحمی سے عبدالمجید اچکزئی نے اپنی گاڑی کے نیچے دیا۔ وہ ایک دل دہلا دینے والا منظر ہے۔ اس کے بعد کا منظر ویڈیو میں نہیں ہے۔ اگر ہوتا بھی تو کیا دیکھنے کی سکت ہوتی۔ چھ بچوں کا باپ، بوڑھے والدین کا سہارا، اپنی گھر والی کا سرتاج۔ ریاست کا شہری، سرکار کا ملازم کانسٹیبل عطاء اللہ تارکول کی سڑک پر، اپنے خوابوں سمیت لہو لہان پڑا ہے۔ اثررسوخ رکھنے والے عبدالمجید اچکزئی کے ہاتھوں، بے کس سرکاری ملازم کانسٹیبل عطاء اللہ کا بہیمانہ قتل جون 2017ء میں ہوا۔ اس کے بعد وہی کچھ ہوا جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایسے کیسوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ قتل جس کے کروڑوں گواہ موجود ہیں۔ اس کے قاتل کو ناکافی ثبوت کی بنا پر کیس سے باعزت بری کر دیا گیا۔ کانسٹیبل عطاء اللہ کے خون کے ساتھ یہ انصاف مرحلہ وار ہوا۔ آغاز میں اس کے غمزدہ اور غربت زدہ خاندان پر دبائو ڈالا گیا کہ قتل کا خون بہا لے کر خاموش ہو جائیں۔ ان کی دنیا اجڑ گئی تھی، وہ خاموش کیسے رہتے، دوٹوک انداز میں اچکزئی کو پیغام بھیجا کہ عطاء اللہ کے خون کو کیش نہیں کروانا چاہتے۔ قاتل کو سزا دلوانا چاہتے ہیں۔ تین سال مقدمہ چلا، پہلے یہ کیس انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا پھر انصاف کی شاندار مثال قائم کرنے کے لیے یہ کیس ماڈل کورٹس میں منتقل ہو گیا۔ یاد رہے کہ ماڈل کورٹس کے قیام کا مقصد ہی انصاف کی فوری فراہمی ہے اور ایسا انصاف فراہم کرنا جس کی مثال دی جا سکے۔ ہو سکتا ہے کہ جس وقت یہ کیس ماڈل کورٹ میں منتقل ہوا ہو۔ عطاء اللہ کے غمزدہ خاندان کو امید بندھتی ہے کہ اب انہیں فوری اور مثالی انصاف مل کر رہے گا۔! پاکستان کے عدالتی نظام نے شاندار انصاف کی جو مثال قائم کی وہ پوری سماج کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان میں رہنے والے، اسی فیصد غریبوں اور بے کسوں کا مذاق ہے۔ یہ ملک صرف ایسے اچکزیوں کے لیے بنایا گیا ہے، جو نشے میں بدمست گاڑی کے نیچے عطاء اللہ کی زندگی روند کر چلا جائے اور پھر بھی عدالت، قانون انصاف اس قاتل با عزت بری کر دیں۔کروڑوں لوگوں کو اللہ نے کانسٹیبل عطاء اللہ کے بہیمانہ قتل کا گواہ بنا دیا ہے۔ ہر بار جب کوئی اس ویڈیو کو دیکھتا تو اس کے قاتل پر لعنت بھیجتا ہے، اس کے دل سے بددعائیں نکلتی ہیں اور اسی قاتل کو اس بنیاد پر بری کیا گیاکہ کانسٹیبل عطاء اللہ کے قتل کے ثبوت نہیں مل سکے۔! کوئی ہے جو اس خرابے میں عطاء اللہ کے ناحق خون کا حساب لے! صدر مملکت، وزیر اعظم، قانون نافذ کرنے والے ادارے، چیف جسٹس پاکستان کوئی اہل دل۔ انسانیت رکھنے والا۔ ضمیر نامی شے اپنے وجود میں رکھنے والا۔ اہل اختیار عطاء اللہ کے قتل پر اس کو انصاف دلوائے! ہاں جانتی ہوں، اس خرابے میں انصاف کے لیے یہ آہ فغاںصدا بصحراہی رہے گی۔ عطاء اللہ کا قاتل باعزت بری ہونے پر سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان اٹھا ہے مگر چند روز اور کہ یہ طوفان تھم جائے گا۔ پھر ہمیں یاد بھی نہ رہے گا کہ کوئی کانسٹیبل عطاء اللہ بھی تھا جو ظلم اور نا انصافی کی تاریک راہوں میں مارا گیا۔ اس کا قاتل باعزت بری ہو کر اگلے الیکشن کی تیاریوں میں مصروف ہے تا کہ منتخب ہو کر عوام کی ’’خدمت‘‘ کر سکے۔ مجھے اس سماج سے گھن آنے لگی!!