دو نامور صحافی اب چپ کا روزہ توڑ دیں! میاں شہباز شریف کے بیان کی وضاحت کریں کہ وہ پیغام کہاں سے اور کیا لائے تھے؟ یہ دو صحافی بھی اگر سول بالادستی کے اس تصور کے علمبردار تھے جس کا بیڑا میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف نے اٹھائے رکھا تو دونوں محترم حضرات کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ سول بالادستی کے قیام کا یہ کون سا جمہوری طریقہ ہے؟ نیب کی بار بار طلبی سے بعض کمزور دل افراد میاں شہباز شریف کی دوبارہ گرفتاری کا اندیشہ محسوس کرتے ہیں‘ وہ نہیں چاہتے کہ دوبارہ جیل یاترا سے قبل چھوٹے میاں صاحب ان دو یا دو نئے نامور صحافیوں کے نامہ وپیام کا ذکر کریں جس کے سبب وہ لندن سے پاکستان واپس آئے اور نیب نامی مصیبت میں پھنس گئے۔ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے مابین پیغام رسانی کے لئے اہل صحافت ماضی میں بھی اپنی خدمات پیش کرتے رہے‘ ڈان کے سابق ایڈیٹر الطاف حسین(مرحوم) ایڈیٹر وفاق مصطفی صادق (مرحوم) اور ہمارے محترم جناب مجید نظامی (مرحوم) کے بارے میں سب جانتے ہیں‘ بھارت میں یہ کارنامہ کلدیپ نیئر اور دیوان سنگھ مفتون انجام دیتے رہے ‘امریکہ میں بھی کئی نامور صحافی یہی شہرت رکھتے ہیں‘ میرے خیال میں یہ معیوب بات نہیں‘ البتہ پیامی کا کردار ایماندار ثالث کا ہونا چاہیے گماشتے اور آلہ کار کا نہیں‘ قومی سیاست میں توازن برقرار رکھنے‘ حکومت اور اپوزیشن کے علاوہ سیاستدانوں اور قومی اداروں کے مابین مفاہمت کے جذبے کو فروغ دینے کے لئے پیغام رسانی قومی خدمت ہے جس پر طعنہ زنی کا جواز مجھے کم از کم نظر نہیں آتا۔ میاں شہباز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین رابطوں کا آغاز کب اور کیسے ہوا‘ مجھے علم نہیں‘ البتہ ان رابطوں کی گن سن مجھے 2018ء کے انتخابات سے قبل اس وقت پڑی جب شاہد خاقان عباسی ملک کے وزیر اعظم تھے اور میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ ۔ان ملاقاتوں کا لب لباب ایک نامہ بر نے یہ بتایا کہ ’’ اسٹیبلشمنٹ میاں شہباز شریف کی مداح اور مسلم لیگ کے ساتھ کمفرٹ ایبل محسوس کرتی ہے‘ ‘چند روز قبل میں نے ایک بار پھر تصدیق کی کم از کم اس محترم صحافی نے میاں شہباز شریف کو یہی پیغام پہنچایا تھا اس سے کم نہ زیادہ‘ اس پیغام کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد میاں شہباز شریف نے کابینہ سازی کا کٹھن کام شروع کر دیا جو سیانے اور تجربہ کار سیاستدان بالعموم عام انتخابات میں کامیابی اور پارلیمانی پارٹی سے مشاورت کے بعد کرتے ہیں تو یہ ان کی ذہانت اور سیاسی بصیرت پر منحصر ہے‘ دوسرے پیامی نے چھوٹے میاں صاحب کو زیادہ تفصیل سے عہدو پیمان اور یقین دہانی کا سبز باغ دکھا کر گمراہ کیا تو اور بات ہے ورنہ متذکرہ پیغام کے بعد کابینہ سازی کا فیصلہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے جس کی بے تابی شدت کی آخری سطح کو چھو رہی ہو‘ زمینی حقائق مارچ اپریل 2018ء میں یہ تھے کہ مسلم لیگ(ن) میںٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع تھا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ مہم دم توڑ چکی تھی‘ فصلی بٹیرے مسلم (ن) کی منڈیر سے اڑ کر تحریک انصاف کے آنگن میں اُترنے کو بے تاب تھے اور مسلم لیگ و شریف خاندان میں داخلی رسہ کشی عروج پر تھی۔ ہمارے ایک بزرگ دوست 1990ء کی انتخابی مہم کا بیان کیا کرتے تھے کہ کنویسنگ کرتے ہوئے وہ ایک ایسی بستی چلے گئے جو رحیم یار خان سے کوسوں دور دریا کے کنارے آباد تھی اور ان کے روحانی خاندان کی عقیدت مند‘ بڑے بوڑھے سب جمع ہو گئے‘ میں نے ووٹ دینے کی درخواست کی سب نے صاد کیا‘ایک بزرگ نے اچانک پوچھا مخدوم صاحب!آپ کس پارٹی کے امیدوار ہیں‘ میں نے بتایا کہ عوام کی پارٹی‘ پیپلز پارٹی ‘ حقہ نوشی میں مصروف سادہ لوح نے برجستہ کہا ’’وہ پارٹی جسے چند دن قبل ایوان اقتدار سے نکالا گیا‘‘ ناں سئیں ناں‘ اساں اینجھی پارٹی کوں ووٹ نہ ڈیسوں جیڑھی دھکے ‘ ڈے کے حکومت توںکڈھی گئی ہووے‘(ہم ایسی پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے جسے دھکے دے کر حکومت سے نکالا گیا ہو) میں نے اسی دن پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف نے دل و دماغ اور پھیپھڑوں کا پورا زور لگا کر ووٹروں اور الیکٹ ایبلز کو باور کرایا کہ انہیں وزیر اعظم ہائوس سے دھکے دے کر نکالا گیا ‘ میاں شہباز شریف نے ڈیمیج کنٹرول کی کوشش کی اور اسٹیبلشمنٹ کو باور کرایا کہ وہ اور ان کا خاندان اب بھی تلافی مافات کے لئے تیار ہے‘ میں ہرگز یہ ماننے کو تیار نہیں کہ میاں شہباز شریف نے یہ کوشش برادر بزرگ کی آشیر باد اور پارٹی کے قابل ذکر لیڈروں کے صلاح مشورے کے بغیر کی ہو گی‘ مزاحمتی کوششوں کے نتائج اور الیکٹ ایبلز کی بے رخی دیکھ کر میاں نواز شریف اور ان کے بیانئے کے ہمنوا لیڈروں کو بھی یہ احساس ہو گیا تھا کہ مزید لڑائی جھگڑا خاندان کے مفاد میں ہے نہ پارٹی کے حق میں‘ مگر میاں صاحب کو اپنی برطرفی کے بعد جی ٹی روڈ پر دھکا دینے والے خیر خواہوںنے میاں شہباز شریف کی مفاہمتی کشتی میں سوراخ کیا اور بیگم کلثوم نواز کی عیادت میں مصروف باپ بیٹی کو پاکستان واپسی پر مجبور کر دیا‘ پٹی یہ پڑھائی گئی کہ مزاحمت و مفاہمت کے ملاپ سے تیار ہونے والی کاک ٹیل زیادہ مزیدار اور خمار آور ہو گی۔ ع نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں حقیقت یہ ہے کہ مفاہمتی کشتی کو تار پیڈو مزاحمتی بیانیے نہیں‘ شریف خاندان کی دو کشتیوں میں سواری کی بے تکی خواہش نے کیا‘حصول اقتدار کی بوتل پر سول بالادستی کا دلکش لیبل لگا کر خلائی مخلوق اور عوام دونوں کو بیک وقت بے وقوف بنانے کی مجنونانہ خواہش کا نتیجہ حسب توقع نکلا‘ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے خاموشی اور خلوت نشینی کے جس خوشگوارتجربے سے اب گزر رہے ہیں ‘اگر 2018ء کے انتخابات سے قبل اس پر راضی ہوتے‘ ایوان اقتدار سے نکل کر کوٹ لکھپت جیل اور ندامت آمیز خاموشی تک پہنچانے والے اپنے حاشیہ نشیں کاسہ لیسوں سے ہوشیار رہتے تو آج میاں شہباز شریف کسی سے یہ گلہ نہ کرتے کہ دو نامور صحافیوں کی طرف سے پیغام ملنے پر وہ تو کابینہ کے ارکان کی فہرست تیار کر رہے تھے مگر اقتدار کا خوش ذائقہ میوہ عمران خان کی جھولی میں ڈال دیا گیا۔ ہر سیاستدان کی طرح میاں شہباز شریف کو اپنی مرضی کا سچ بولنے کا حق حاصل ہے مگر دو نامور صحافیوں کو اب چپ کا روزہ توڑنا چاہیے۔ مولانا طارق جمیل نے ایک میڈیا ہائوس کے مالک کا حوالہ دیا اہل صحافت ہاتھ دھوکر پیچھے پڑ گئے کہ نام بتائیںورنہ معافی مانگیں میاں شہباز شریف نے دو نامور صحافیوں کو اسٹیبلشمنٹ کا پیغام رساں بتایا کسی نے پوچھنا گوارا نہ کیا کہ حضور! اسٹیبلشمنٹ کے یہ نامہ بر کون تھے؟ نامہ بروں کی طرح اقتدار کی جھلک دکھا کر ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ اور سول بالادستی کے بیانیے کا ٹائر پنکچر کرنے والے حلقے بھی خاموش؟ کوئی بولتا ہی نہیں ع آبلے پڑ گئے زباں میں کیا؟