سید الانبیاء ﷺ کا قائم کردہ مدینہ کا بازار، ’’انسانی تاریخ‘‘ کا وہ پہلا بازار ہے جس نے ’’جدید معاشی اصول‘‘ وضع کیئے۔ آج انہی جدید معاشی اصولوں پر دنیا بھر کی معیشتوں کے لیئے اعلیٰ معیارات ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ جب ان دونوں بنیادوں پر یہ بازار قائم ہوگیا،کہ اوّل یہ مکمل طور پرایک ’’ٹیکس فری‘‘ زون ہو گا اور دوسرا اصول یہ کہ اس بازار اور پیداوار کے اصل مالک، کسانوں، جولاہوں، ترکھانوں اور دیگر کاریگروں کے درمیان کسی قسم کا کوئی ’’مڈل مین‘‘نہیں ہو گا (وہ جو سرمائے کی بنیاد پر چیزیں سستی خرید کر اپنی مرضی کے داموں پر بازار میںفروخت کرتا ہے)، تو سید الانبیاء ﷺ نے اس ’’مارکیٹ کی معیشت‘‘ (Market Economy)کوایک اور ’’ سنہرا اصول ‘‘یہ دیا کہ کسی کو بھی اس بازار میں قیمتیں مقرر کرنے کا ذرا برابر بھی اختیار نہیںہو گا، خواہ وہ چیزیں بنیادی ضرورت کی ہی کیوں نہ ہوں۔ امام احمد بن حنبل ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ ’’رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قیمتیں بڑھ گئیں تو لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسولؐ! قیمتیں مقرر کر دیجئے، فرمایا: اللہ ہی پیدا کرنے والا، مارنے والا، وسعت دینے والا، رزق دینے والا، قیمتیں مقرر کرنے والا ہے۔ میں تمنا کرتا ہوں کہ اللہ سے اس حال میںملاقات کروں کہ کوئی مجھے سے اس ظلم کے بدلے کا مطالبہ نہ کرے، جو میں نے ان کی جان اور مال پر کیا ہے‘‘۔ جدید معاشیات کا یہ سنہری اصول جو میرے آقاﷺ نے چودہ سو سال قبل دیا، آج مارکیٹ ’’اکنامی کی بنیاد‘‘ ہے ۔ اسلام کسی قسم کے نرخ نامے کو حرام قرار دیتا ہے، کیونکہ اس سے ذخیرہ اندوزی کا راستہ کھلتا ہے اور مارکیٹ سے ضرورت کی اشیا غائب ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔طلب و رسد (Demand & Supply)کے اصول پرہی آج دنیا کی بڑی سے بڑی مارکیٹ کھڑی ہے۔ جب مدینہ کی اس مارکیٹ کی بنیاد ان زریں اصولوں پر رکھ دی گی، تو اب ان افعال اور اعمال کا تعین کرنا بہت ضروری تھا ،جو کسی بھی مارکیٹ میں لوٹ مار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ان میں پہلا’’ تعزیری‘‘ قانون، ’’ذخیرہ اندوزی‘‘ یا مال روکنے کے بارے میں تھا۔’’ ذخیرہ اندوز ‘‘اس شخص کو کہتے ہیں ، جو قیمتیں بڑھنے کے انتظار میں اشیاء ذخیرہ کرتا ہے تاکہ انہیں مہنگے داموں پر فروخت کرے، اسے عربی میں ’’احتکار‘‘ کہا جاتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، ’’تاجر کو رزق دیا جاتا ہے اور احتکار کرنے والا ملعون ہے‘‘ (مشکوٰۃ )۔’’ ملعون‘‘ کا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے مکمل دوری۔ فرمایا، ’’جو شخص غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے جذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے‘‘ (مشکوٰۃ)۔ذخیرہ اندوزی کی اسقدر وعید ہے کہ آپ نے فرمایا ، ’’جس نے چالیس راتیں ذخیرہ اندوزی کی وہ اللہ تعالیٰ سے بری ہوگیا اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہو گیا‘‘ (مسندِ احمد)۔ مشکوٰۃ شریف میں اس کے الفاظ یوں ہیں ، ’’جو شخص قیمت بڑھانے کے لئے چالیس روز تک ذخیرہ اندوزی کرتا ہے تو وہ اللہ سے لا تعلق اور اللہ اس سے لاتعلق ہو گیا‘‘۔ یعنی اس کے بعد وہ خواہ عبادت کرے، خیرات کرے، تزکیہ کرے، اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں ہو گا۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف قانون کے اطلاق کے بعدمدینہ کے بازار میں ’’کاروباری اخلاقیات‘‘ کا نفاذ بھی بہت ضروری تھا۔ اس ضمن میں آپ ؐ نے ہر موقع کے لیئے احکامات دیئے ہیں۔سب سے بڑی برائی ’’تجارت میں عیب کو چھپانا‘‘ (Deciet in trade) ہے۔ آنحضرت ﷺ ایک غلّہ فروخت کرنے والے کے پاس گئے، آپؐ نے اپنا ہاتھ اس کے غلے میں ڈالا تو انگلیوں پر تری آگئی۔ آپؐ نے پوچھا! اے اناج کے مالک یہ تری کیسی ہے؟ اس نے کہا، اے اللہ کے رسولؐ اس پر بارش ہو گئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا، تو پھر بھیگے ہوئے اناج کو اوپر کیوں نہ رکھا، تاکہ لوگ اسے دیکھ لیتے۔ پھر فرمایا، ’’جو شخص فریب اور دھوکہ دے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ (مسلم: کتاب الایمان)۔ یہ چھوٹی سی وعید نہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ اسے اپنی امت سے خارج کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔ عرب کے لوگ جب بکریاں بازار میں لاتے تو اس کا دودھ نہیں دھوتے تھے، تاکہ یہ تھنوں سے زیادہ دودھ دینے والی معلوم ہوں۔ رسول اکرمﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا اور ایک قانون رائج کیا کہ جو کوئی ایسی بکری خرید کرلے جائے،تو گھر جا کر اسکا دودھ دھوئے ،تو پھر اسے اختیار ہے کہ اسے رکھ لے یا پھر ایک صائع کھجور کے ساتھ واپس کر دے۔ کاروبار میں معمولی دھوکے کو بھی مدینہ کے بازار میں حرام قرار دیا گیا۔جن تین اشخاص کے بارے میں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا کہ ’’نہ اللہ ان سے کلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظر کرم کرے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لیئے درد ناک عذاب ہے، ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال بیچتا ہے‘‘(صحیح مسلم)۔دھوکے اور فراڈ کے معاملے میں اسقدر احتیاط کے لیئے کہا گیا ہے کہ، آپؐ نے فرمایا، قیمت میںبھی دھوکہ مت دو، یعنی آپ کواگر معلوم ہو کہ فلاں چیز کی قیمت زیادہ ہے اور بیچنے والے کو اس کی قیمت معلوم نہیں ہو،تو اس سے سستی چیز مت خریدو، اسے’’ غبنِ فاحش‘‘ (Crimnial Fraud)کہا گیاہے (مسند احمد)۔کاروبار کی اگلی خباثت جس سے منع کیا گیا تھا وہ ’’جوائ‘‘ ہے۔ جواء وہ عمل ہے جس پر جدید معاشی دنیا میں قیاس (Speculation) کا بازار گرم ہوتا ہے۔’’ بازار حصص‘‘ میں لوگ اجڑتے ہیں اور اجارہ دار استحصال سے کماتے ہیں۔لاٹری، شرط اور خالص جوئے کے اڈوں سے دنیا بھر میںبازار آباد کیے جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں سیاحت کے بازار دو چیزوںکے گرد گھومتے ہیں، فحاشی کے کلب جنہیں (Night Life) کہا جاتا ہے اور جوئے کے کسینو (Casino)۔ اس سارے کاروبارکے پیچھے ایک ’’استحصالی طبقہ‘‘ موجود ہے، جو مارکیٹوں کے ڈان اور مافیا کی صورت غنڈہ گردی، قتل و غارت، اغوا اور منشیات فروشی جیسے دھندوں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ لیکن ان سب برائیوںکاآغاز اس آسان آمدنی سے ہوتا ہے،جو جوائ، شرط، قیاس اور لاٹری سے کمائی جاتی ہے۔معیشتِ مدینہ کے یہ تمام قوانین صرف اخلاقی نصیحتوں پرمبنی حکایتیںنہیں ہیںبلکہ آپؐ نے انہیں نافذ کر کے دکھایا۔یہ تمام اصول ایسے ہیں، جنہیں سزا و جزا کے بنیادی معیارات کے مطابق قوانین کی صورت با آسانی مرتب کیا جا سکتا ہے۔ مدینہ میں جب ایسا بازار وجود میں آگیاتو جس اہم پابندی کا اعلان اللہ نے فرمایا اور اللہ کے رسول ﷺ نے اسے نافذ کیا، وہ ’’سود‘‘ تھا۔ دنیا کے تمام معیشت دان اس بات پر متفق ہیں کہ قیمتوں میں اضافے اور کاروبار کو مشکل بنانے کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ سود ہے۔ مارکیٹ میںصرف ’’شکر ‘‘ کے کاروبار کو دیکھیں،اس پر لاگت اگر پندرہ روپے کلو آتی ہے، تو بیج ، کھاد،کارخانے کا قرضہ، کیمیکل کی خریداری وغیرہ پر تقریباًبیس روپے اس میں سود کے بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ یوںشکر کی لاگت ہی 35روپے فی کلو ہو جاتی ہے۔ یہی شکر اگر اسلام کے بنیادی’’ مضاربہ‘‘ کے اصولوں پر بنائی جائے اور قیمتوںپرکسی قسم کا کنٹرول نہ ہو، مارکیٹ’’ طلب و رسد‘‘ (Demand & Supply)کی بنیاد پر چلے ،تو سولہ(16) روپے سے زیادہ بازار میں نہ بکے۔رسول اکرم ﷺ نے ایک اور پابندی یہ لگائی کہ کاروبار سونے، چاندی، کھجور، جو، چاول اور نمک میں کرو، یعنی کسی ایسی چیز کے بدلے کاروبارمت کرو، جو تنہا بازار میں بیچی جا سکتی ہو،یعنی جسے معاشیات کی زبان میں ’’Intrinsic Value‘‘کہا جاتاہے ۔ کاغذ کے نوٹ اگر علیحدہ بازار میں بیچیں تو ردّی کے مول بھی نہ بکیں۔ جدید دور کی افراطِ زر، مہنگائی اور اشیا کی قلت اسی’’ کاغذی کرنسی ‘‘سے جنم لیتی ہے۔ یہ ہے ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے بازار کا ایک مختصر سا خاکہ ہے، جس کے مرتب کردہ قوانین اگر آج نافذ کر دیئے جایئں، انسان سکھ کا سانس لینے لگیں۔مہنگائی کا نام و نشان نہ رہے۔ تاجر کے لیئے رزق کمانا آسان ہو اور کسان کو اس کی محنت کا ثمر ملے۔ انہی اصول و قوانین کو’’ جدید معاشی ماہرین‘‘بھی بہترین قرار دیتے ہیں، لیکن اس دنیا کو جس ’’عالمی سودی مالیاتی نظام‘‘ نے جکڑا ہواہے ،اس کی موجودگی میں انسانی زندگی میں سکون ، آرام، سکھ ،چین اور خوشحالی کبھی بھی نہیں آسکتی۔