ڈی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں۔ الیکشن میں فوج تب آتی ہے جب دستور میں دیے گئے طریقہ کار کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لئے اسے طلب کیا جاتا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی ملاقاتوں کے دوران کم از کم دو موقع پر آراء دے چکے ہیں کہ ایسی تجاویز لائی جائیں یا پولیس کی استعداد بڑھائی جائے جس کے تحت الیکشن میں فوج کا کردار صفر ہو جائے۔ مولانا فضل الرحمن نو دن سے اسلام آباد پشاور موڑ پر خیمہ زن ہیں، بارش اور بڑھتی سردی میں انہوں نے اپنے کارکنان کو آزمائش میں ڈال رکھا ہے۔دھرنے کے لیے ان کے پاس سرے سے کوئی مطالبہ نہیں ،اب کارکنان کا جم غفیر ان کے لیے ایک ایسی چھپکلی کا روپ دھار چکا ہے جسے وہ نگل سکتے ہیں نہ ہی اگل سکتے ہیں ۔ان کے لہجے کی ترشی فیس سیونگ پر دلالت کر رہی ہے ۔جبکہ ان کی ملکی اداروں پر الزام تراشی بیرونی ایجنڈے کی نشاندہی کرتی ہے ۔اسی بنا پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن )کی صف اول کی قیادت ایک بار چہرہ کشائی کے بعد دوبارہ کنٹینر پر نہیں آئی ۔ دونوں جماعتیں سمجھتی ہیں کہ مولانا کا اصل ایجنڈے عوامی فلاح و بہبود یا عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا دلوانا نہیں بلکہ وہ کسی اور کی شہہ پر ملکی اداروں کو متنازع بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب انہوں نے ملک کے سب سے محترم اور غیر جانبدار ادارے کو بھی سیاست میں گھسیٹنا شروع کر دیا ہے۔ پاک فوج کی توجہ مشرقی اور مغربی سرحدوں سے ہٹائی جا رہی ہے، اس وقت جو چیلنج پاک فوج کو درپیش ہے، دنیا کی کسی اور فوج کو اس کا سامنا نہیں۔ مشرقی سرحد پر مکار دشمن دندنا رہا ہے،مغربی بارڈر پر ایک خاموش مگر بھیانک خطرے کا سامنا ہے ،اس کے علاوہ فرقہ واریت ‘ لسانیت‘ دہشت گردی اور غیر ملکی پروپیگنڈے جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ان چیلنجوں کا مقابلہ تبھی کیا جا سکتا ہے جب قوم کا ہر فرد اور سیاسی جماعتیں فوج کی پشت پر کھڑی ہوں لیکن اگر جتھے آپ کے دارالحکومت پر قبضے کا منصوبے بنا رہے ہوںتو ان حالات میں پاک فوج کی توجہ تقسیم ہو جائے گی۔پاکستان کا دشمن جو چاہتا تھامولانا نے انکے لیے وہ کام آسان کر دیا ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے آج کل ایک ہی رٹ لگا رکھی ہے کہ الیکشن میں فوج کا عمل دخل نہیں ہونا چاہیے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن قانون میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق اپنی مدد کے لئے فوج کو طلب کرتا ہے۔ پاک فوج نہ تو ازخود ڈیوٹی سرانجام دیتی ہے نہ ہی اسے بیرونی چیلنجز سے اس قدر فرصت ہے کہ وہ الیکشن کے بکھیڑے میں پڑے۔ دراصل 1970ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی شدید دھاندلی اور لاڑکانہ سے اپنے مخالف جماعت اسلامی کے امیدوار مولانا جان محمد عباسی کے اغوا کے بعد ہی الیکشن کمیشن نے امن و امان کی خاطر فوج کو الیکشن میں ڈیوٹی سونپنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ الیکشن سے پہلے ہی الیکٹ ایبل پارٹیاں میڈیا میں یہ مشہور کر دیتی ہیںکہ وہ الیکشن جیت چکی ہیں اسی بنا پر ان کے کارکنان الیکشن والے دن مخالفین کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔کئی مقام پر نوبت قتل وغارت تک جا پہنچتی ہے ۔ ایسے واقعات کے بعد ہی یہ مطالبہ زور پکڑتا گیا کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے اس کی نگرانی میں الیکشن کروائے جائیں۔دوسری طرف ہمارا دشمن یہ پروپیگنڈا کرتا ہے کہ پاک فوج کا کردار محدودکر کے عوام کے دلوں میں اس کی نفرت بٹھائی جائے۔جب فوج اور عوام میں دوریاں پیدا ہوں گی تو فوج لازمی طور پر کمزور ہو جائے گی ۔دشمن نے پہلے پی ٹی ایم جیسی جماعتوں کی فنڈنگ کر کے انہیں پاک فوج کے خلاف اکسایا۔ اب مولانا کو تھپکی دے کر کھڑاکر دیا۔ 2018ء کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ( ن) نے انتخابی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی تھی۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار اس کمیٹی کے سربراہ تھے۔ اس میں الیکشن کمیشن کو مکمل بااختیار بنایا گیا، جے یو آئی نے بھی اس کمیٹی کے تمام امور میں حصہ لیا تھا۔ تب مولانا خاموش رہے لیکن اب اپنی شکست کا بدلہ اداروں کو متنازع بنا کر لے رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے الیکشن میں فوج کی ڈیوٹیوں سے متعدد بار انکار کیا تھا،اس کے باوجودسیاسی جماعتیں فوج کی نگرانی میںالیکشن کرانے پر بضدرہیں۔ کیونکہ فوج کی نگرانی میںالیکشن کرانے کا مقصد ہر طرح کی غلط فہمی سے دوری تھی۔جے یو آئی نے بھی الیکشن میں فوج کے کردار کو تسلیم کیا تھا۔در اصل اس وقت مولانا فضل الرحمن کا دھرنا ناکام ہو چکا ہے اب انہیں فیس سیونگ چاہیے تاکہ وہ اپنے کارکنان کو منہ دکھانے کے قابل ہو سکیں۔ اس لئے وہ کبھی مذہب کا سہارا لے کر کرتار پور راہداری کو قادیان سے جوڑتے ہیں کبھی اسرائیل کی باتیں کرتے ہیں۔ حالانکہ کرتار پور راہداری کے باعث آج پاکستان کا دنیا بھر میں ایک سافٹ امیج بن چکا ہے ۔پوری دنیا میں بسنے والے سکھ آپ کی ایک قوت بن چکے ہیں ۔لیکن مولانا اس منصوبے پر تنقید کر کے اس کے ثمرات ضائع کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہر تقریر میںمولاناکے ساتھ کھڑے محمود خان اچکزئی پہلے ہی افواج پاکستان کے خلاف ہیں اب مولانا بھی بیرونی اشاروں پر چل کر پاک فوج کو متنازع بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔پاک فوج کے بارے یہی پالیسی بھارت ،امریکہ اور اسرائیل کی ہے ۔22کروڑ محب وطن عوام محترم ملکی ادارے کے ساتھ کھڑے ہیں ۔مٹھی بھر شرپسندوں کواپنے مذموم مقاصد میں کبھی بھی کامیابی نہیں ملے گی۔انشاء اللہ ۔