اپوزیشن جماعتوں کے اتحادپی ڈی ایم نے گوجرانوالہ میں حکومت کے خلاف جلسہ کر کے جس تحریک کی ابتداء کا منصوبہ بنایا تھا وہ شروع سے ہی متنازع اور ریاست مخالف تقاریر کے باعث بے سمتی کا شکار ہوتی نظر آرہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں۔انہوں نے حکومت پر تنقید کی۔بلاول بھٹو زردار ی نے ملک میں بحران موجود ہونے کی بات کی۔ مریم نواز نے اپنی روایتی باتیں کیں جن میں ماضی سے کم آگاہی جھلکتی ہے بس شعلہ نوائی کا مظاہرہ کیا ۔ اس جلسے سے ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف کے خطاب نے ن لیگ کے اس خفیہ ایجنڈے کی نقاب کشائی کر دی ہے جو مسلسل ریاست پاکستان‘ ریاستی اداروں اور ریاستی مفادات پر حملے کے مترادف ہے۔ گوسابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی قومی اداروں سے محاذ آرائی کوئی نئی بات نہیں۔ وہ پچھلے تیس سال سے اپنی غیر جمہوری خواہشات کے لئے ان ہی اداروں اور ان سے وابستہ شخصیات سے معاملات کرتے رہے ہیں ،اچھی بات یہ کہ جب اس بار فوج نے سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے معذرت کی تو خواہشات کے مارے نواز شریف اپنے ایجنڈے کو نیا رنگ دے کر سامنے آ گئے۔بد قسمتی سے ان کی طبیعت میں بادشاہی کی خواہش نے ریاستی اداروں سے ان کے تعلقات کو جمہوری سطح پرمضبوط نہ ہونے دیا ۔ ان کی حکومت میں سپریم کورٹ پر حملہ ہوا ۔ اپنے ہی لگائے گئے اداروں کے سربراہوں سے وہ کبھی خوش نہ ہوئے ۔ ماضی میں اپنے تعینات کردہ الیکشن کمیشنر اور نیب چیئر مین سے وہ شاکی رہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ میں اپنے خلاف لگائے گئے الزمات کا وہ دفاع نہ کر سکے اور نااہل ہونے کے بعد عدلیہ پر چڑھ دوڑے۔ اب ریاست کے تما م آزاد ادارے ان کے نشانے پر ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنی بیماری کا بتا کر حکومت اور معزز عدالت سے بیرون ملک علاج کی اجازت چاہی تھی۔وزیر اعظم عمران خان اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کے سامنے جو رپورٹس پیش کی گئیں ان کی حساسیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ کابینہ کے ارکان کی اکثریت کی آنکھیںانسانی ہمدردی کی بنا پر پرنم ہو گئی تھیں اور ہمارا یہ خیال تھا کہ شاید نواز شریف چل کرجہاز پر بھی نہ پہنچ سکیں مگر لندن جا کے نواز شریف بھلے چنگے ہو گئے۔ وزیر اعظم کی بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ نواز شریف جب سے لندن گئے ہیں ،ایک دن بھی علاج کے لیے ہسپتال داخل نہیں ہوئے ،الٹا حکومتی اداروں کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ نواز شریف تین بار وزیر اعظم رہے، وہ اپنی تقاریر میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت خطرے میں ہے اور ریاستی ادارے عالمی روایات اور اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں ،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں یہ ساری باتیں لندن جا کر ہی کیوں یاد آئیں، موصوف ایک عرصہ تک جاتی امرا میں قیام پذیر رہے ،جب پاکستان میں تھے ،اس وقت تک انہوں نے اپنا یہ اچھوتا سچ چھپائے رکھا ،یہاں تک کہ مریم نواز کا ٹویٹر اکائونٹ بھی خاموش رہا بلکہ ان کے برادر خورداپنے انٹرویوز میں قومی سلامتی کے اداروں سے الیکشن سے پہلے مستقبل کی کابینہ کے مشوروں کا بھی انکشاف کرتے رہے، یہ تاثر بھی عام رہا کہ میاں نواز شریف ،مریم نواز اس لئے خاموش ہیں کیونکہ شہباز شریف ان کے لئے ریلیف کے لئے کوشش کر رہے ہیں، اس تاثر کی تائید گزشتہ برس مسلم لیگ ن کی طرف سے مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ میں بھرپور تعاون کی یقین دہانیوں کے باوجود دھرنے میں جے یو آئی ف کو تنہا چھوڑنے سے ہوتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اپوزیشن کی پارٹیاں نہ صرف عوام میں اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیںبلکہ عوام کو بے سروپا دعوئوں سے بہلا بھی رہی ہیں۔پاکستان میں جمہوریت ابھی مستحکم نہیں ہوئی۔ سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو ابھی اپنی صلاحیت اور استعداد کو پختہ کرنا ہے۔ سیاستدان ابھی تک تبدیلی کے لئے ووٹ پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ غیر جمہوری انداز میں حکومت ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اپوزیشن کے اپنے ایجنڈے سے اخلاص کا اندازہ گوجرانوالہ کے جلسہ میں باہمی رویہ سے بھی ہو جاتا ہے کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو کی تقاریر کے بعد جب پی ڈی ایم کے سربراہ کے خطاب کی باری آئی تو جلسہ گاہ میں چند سو کارکن بھی تقریر سننے کے لئے موجود نہ تھے ،اس صورتحال میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اپوزیشن کسی قومی ایجنڈے کے لئے عوام کو متحرک نہیں کر رہی بلکہ ہر جماعت کا اپنا ایجنڈا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ابھی تک جمہوری سوچ مضبوط نہیں ہو سکی ۔ان حالات میں سابق وزیر اعظم کا قومی اداروں کے خلاف بولنا نہ تو قومی مفاد میں ہو گا نہ ہی ایسا کرنے سے سیاسی جماعتوں کا بھلا ہونے والا ہے۔ بہتر ہو گا مسلم لیگ ن سمیت اپوزیشن کی جماعتیں مسلم لیگ کے قائد کو یہ بات باور کروانے کی کوشش کریں کہ ملک اور اس کے اداروں کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے حکومت کی ناکامیوں پر تنقید کی جائے اور جہاں حکومت کو قومی مفاد میں اپوزیشن کی ضرورت ہو، اپوزیشن اپنا جمہوری کردار بھر پور انداز میں ادا کرے اور عام انتخابات کا انتظار کرے تاکہ جمہوری نظام پختہ ہو ،جمہوری تسلسل سے ہی ملکی ترقی و خوشحالی ممکن ہو سکے گی۔