وزیر اعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم نے محکمہ تعلیم بلوچستان میں کلریکل سٹاف کی تعیناتیوں میں بے ضابطگیوں کی تصدیق کر دی ہے۔ بلوچستان میں کرپشن کے آئے روز انکشافات معمول بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی محکمہ ایسا ہو جو کرپشن کے الزامات کی زد میں نہ ہو۔ ماضی میں بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ کے گھر سے کرپشن اور لوٹ مار کے 76کروڑ روپے نقد اور اربوں کی جیولری اور جائیدادوں کا انکشاف ہوا تھا۔ اندھیر نگری چوپٹ راج کے مصداق نیب بلوچستان گزشتہ چھ ماہ میں 50میگا کرپشن کیسز کی انکوائریاں شروع کر چکا ہے جہاں تک محکمہ تعلیم میں کرپٹ عناصر کی من مانیوں کا تعلق ہے تو گزشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع بارکھان میں 7سات بوگس بھرتیوں کے الزام میں ڈپٹی ایجوکیشن آفسر بارکھان کوبرطرف کر دیا گیا تھا۔ اب کلریکل سٹاف کی تقرریوں میں وسیع پیمانے پر بے ضابطگیوں کی شکایت سامنے آئی ہے بلوچستان کے غریب اور پس ماندہ شہریوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر زیادتی اور کیا ہو سکتی ہے کہ صوبے میں جو نوکریاں نکلتی ہیں ان پر غیر مقامی افراد کو بھرتی کر لیا جائے۔ اطلاعات کے مطابق کلریکل سٹاف کی بھرتیوں میں افسر شاہی کی من مانیوں کا یہ عالم تھا کہ ہزاروں اہل امیدواروں کی حق تلفی کرکے واٹس ایپ پر وصول ہونے والے کوائف پر غیر مقامی افراد کو تعینات کر دیا گیا۔ اس کی تصدیق وزیر اعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم کر چکی ہے بہتر ہو گا وزیر اعلیٰ بلوچستان میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ صوبے میں لوٹ مار کا سلسلہ تھم سکے۔