انیس فروری کو ڈسکہ میں انتخابی دنگل سجا۔ یہ ایک حلقے سے بڑھ کر پورے پنجاب کی جنگ بن گئی۔ مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ ان انتخابات میں کامیابی کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہ رہی تھی کہ اس کا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ ملک میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس پر حکومت کے کنٹرول کی ناکامی کے ماحول میں ایک ایسے حلقے میں جہاں مسلم لیگ کے امیدوار تقریبا چالیس سال سے جیتتا آرہا تھا ن لیگ کی ناکامی اس کے سیاسی بیانیہ کی موت سمجھی جا سکتی تھی۔ لیکن دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف ان انتخابات میں جیت کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہ رہی تھی کہ پنجاب کے عوام مہنگائی اور بے روزگاری سے ستائے ہوئے ہونے کے باوجود کسی صورت میں سالہا سال سے اقتدار میں رہ کر دونوں ہاتھوں سے ملکی وسائل لوٹنے والوں کو دوبارہ اقتدار دینے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ مزید برآں وہ سینٹ کے انتخابات کے لئے قومی اسمبلی میں ایک اضافی نشست سے اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاہ رہی تھی۔ لہذا دونوں جماعتوں نے پورا زور لگایا اور انتخابات جیتنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا اور ان میں سے ایک ان پولنگ اسٹیشنز جہاں سے ناکامی یقینی تھی پر خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا بھی شامل تھا۔ موجودہ دور میں خوف ہراس پھیلانے کا بہترین طریقہ اسلحہ کا استعمال ہے۔لہذا پورا دن دونوں جماعتوں کے قائدین اور مقامی لیڈرز سیکورٹی کے نام پر اسلحہ سے لیس گارڈز کے ساتھ حلقے میں گھومتے رہے اور گاہے بگاہے ہوائی فائرنگ بھی ہوتی رہی۔ اس سارے پس منظر میں 19 فروری کے دن دو سیاسی کارکن فائرنگ کے تبادلہ کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انتخابات کے نتائج میں تاخیر پر کیس الیکشن کمیشن گیا جس نے نتائج کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا۔ پی ٹی آئی اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ اپیل میں چلی گئی جہاں چند دنوں تک کوئی فیصلہ ہو جائے گا۔ لیکن جو دو جوان کارکن اس سارے دنگل میں جان سے گئے ان کے قتل کے ذمہ داران کے تعین کے لئے نہ الیکشن کمیشن نے کوئی ریمارکس دئیے نہ سپریم کورٹ میں اس پر کوئی بات متوقع ہے۔ زندگی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ صرف ایک ہی دفعہ ملتی ہے۔ ان دونوں جوانوں کی زندگی کی بھی کیا کوئی قیمت ہے ؟ پاکستان کے اداروں اور سیاستدانوں کی نظر میں عوام اور سیاسی کارکن کی جان کو بھی کوئی اہمیت دی جاتی ہے ؟ اس کا جواب آپ کو 19 فروری سے لیکر اب تک انتخابات کے حوالے سے دیئے جانے والے تمام بیانات اور اقدامات سے بآسانی ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے تمام اداروں اور سیاست دانوں کا الا ماشآء اللہ اسی اشرافیہ سے تعلق ہے جن کے نزدیک عوام اور جماعتوں کے کارکن بس ایک قابل استعمال شے ہیں۔ اگر دو کارکن مر گئے تو کیا ہوا۔ کئی اور دستیاب ہو جائیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ان لیڈروں کو ان کارکنوں کی موت کا کوئی دکھ نہیں۔ یہ لیڈر کوئی پتھر دل تھوڑی ہیں ! ان کی دلوں کو یقینا ملال ہوا ہوگا دوکارکنوں کے ضیاع کا۔۔ لیکن شاید اتنا ہی جتنا کسی کو اپنی گاڑی کے ہولناک ایکسیڈنٹ کا ہوتا ہو جس میں ان کی اپنی اور ان کے عزیزوں کی جان بچ جائے۔ جس طرح وہ اس موقع پر گاڑی کے نقصان پر افسوس کرتے ہیں ویسے ہی وہ ان کارکنوں کی جان جانے پر بھی دکھی ہوئے ہوں گے۔ لیکن ساتھ مطمئن بھی کہ وہ گولی ان کو یا ان کے کسی پیارے کو نہیں لگی۔ ان کی اپنی جان بچ گئی۔ایسی ہی ایک صورت حال جس میں کئی جانیں گئیں لیکن اہم لوگ بچ گئے کے تذکرے کے دوران کسی کے یہ جملے کانوں میں ہمشیہ گونجتے رہتے ہیں کہ" شکر کی بات ہے کہ چھوٹا نقصان ہوا۔۔ اللہ نے بڑے نقصان سے بچا لیا"۔ ڈسکہ الیکشن کا کھیل جاری ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی ایک جماعت اپنی فتح کا جشن منانے گی یا 18 مارچ کو دوبارہ انتخابات کے بعد۔ پورے پنجاب میں اس کی گونج ہو گی۔ ٹی وی چینلز پر مذاکرے ہونگے۔ اخبارات میں چرچے ہوں گے۔ اس جشن کے ماحول میں ان دو شہید نوجوانوں کے والدین اور بہن بھائیوں کا دل کس کرب سے گزرے گا۔ کسی نے ایک لمحے کے لئے رک کر اس پر سوچنا بھی نہیں ہے۔ کسی ٹی وی چینل میں ایک لفظ بھی ان کے بارے کسی نے بولنا بھی نہیں۔ کسی اخبار میں ایک سطر بھی کسی نے لکھنا نہیں۔ کسی عدالت کے جج کو انتخابی پٹیشنز یا مقدمات کے دوران ان ضائع ہونے والی جانوں کے بارے خیال تک نہیں آنا۔ جی اس لئے کہ یہ وہ دونوں نوجوان اشرافیہ کے بیٹے نہیں تھے۔ وہ عام کارکن تھے اور کارکن تو ہوتے ہی استعمال کرنے کی ایک شے ہیں۔ کیا یہ سلسہ کبھی رکے گا ؟ کب عوام کے جان و مال کو بھی وہی احترام ملے گا جو اشرافیہ کے جان و مال کو حاصل ہے ؟ اگر پورے عالم مغرب اور کافروں کے معاشرے میں ایسا ہونا ایک عام سی بات ہے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ کیونکر ناممکن ہے۔ امید پر دنیا قائم ہے۔ ایسا ضرور ہوگا لیکن اس دن ہوگا جس روز یہ کارکن بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھے لیڈروں کی گاڑیوں پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرنے اور ان کے سامنے بھنگڑے ڈالنے سے انکار کر دیں گے۔ جب وہ سکیورٹی گارڈز کے لشکر میں گھرے لیڈروں سے ہاتھ ملانے یا سیلفی بنانے کے لئے دھکے کھانے چھوڑ دیں گے۔ جب ان کو یہ سمجھ آئے گی کہ بحیثیت انسان ان کی اور ان کے لیڈرز کی عزت میں کوئی فرق نہیں۔ آئین پاکستان اور قانون ان کی بھی جان، عزت اور آبرو کی حفاظت کی برابر ضمانت دیتا ہے۔کسی ورکر کی جان کا نقصان چھوٹا نقصان نہیں ہوتا اور ایسا سمجھنے والا انسان در حقیقت چھوٹا ہوتا ہے چاہے دنیا اس کو کتنا بڑا کیوں نہ سمجھ رہی ہو۔ کسی غلام کو یہ یقین دلانا سب سے مشکل کام ہے کہ اللہ نے اس کو آزاد پیدا کیا ہے۔ لیکن جس دن پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے کارکن کو اپنی آزادی اور عزت نفس کا احساس ہو گیا وہ دن پاکستان میں اصلی انقلاب اور سچی تبدیلی کا حقیقی آغاز ہوگا۔ ٭٭٭٭٭