وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کاایک بارپھر نوٹس لیاہے۔قوم کو انھوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیںاور چند ہفتوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم ہوجائیں گی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزراء نے بھی یک زبان ہو کر قوم کو خوش خبری سنائی ہے کہ اب بس ہو گیا، وزیر اعظم عمران خان نے نو ٹس لے لیا ہے ۔ وہ براہ راست سب کچھ خود دیکھ رہے ہیں ۔اب کوئی مافیا نہیں بچے گا ۔وفاقی وزراء ، وزیر اعظم عمران خان کے نو ٹس کے بعد پھولے نہیں سما رہے ہیں جبکہ عوام کی سوچ اس کے برعکس ہے۔جب سے وزیر اعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کا نوٹس لیا ہے تو عوام کی اکثریت تشویش میں مبتلا ہے۔قوم کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ گز شتہ دوسالوں اور دو مہینوں میں وزیراعظم عمران خان نے جس بھی کسی چیز کانو ٹس لیا تو وہ ناپید رہی اور پھر اس کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کے نو ٹس کے بعد مہنگائی میں کمی ہوتی ہے کہ نہیں ،لیکن ان اسبات اور وجوہات کو تلاش کرنا ضروری ہے کہ کیوں موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی میں اس حد تک اضافہ ہوا کہ جس نے قوم کی اکثریت کی چیخیں نکال دی ہیں۔جب سے وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالا ہے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے ۔ ہر معاملے پر وزیر اعظم عمران خان نے حزب اختلاف کے ساتھ سینگ اڑائے ہیں۔کسی بھی اہم قومی مسئلے پر وہ حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت کے لئے تیار نہیں۔سیاسی رہنمائوں کی پکڑ دھکڑ روز کا معمول ہے ۔سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ دار ، صنعت کار اور کاروباری طبقہ پریشان ہے ۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاراپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔جب سرمایہ دار اور کاروباری طبقہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے تو پھر ذخیرہ اندوز حالات کا فائدہ اٹھاتے ہیں جس کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ اور ان کی قلت معمول بن جاتی ہے ۔ مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کی ایک اور وجہ خراب طرز حکمرانی بھی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے ۔آئے روز سرکاری افسران کے تبادلوں نے بیوروکریسی کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔وفاق،پنجاب اور خیبر پختون خوا میں تھوک کے حساب سے سرکاری افسروں کے تبادلوں کا سلسلہ جاری ہے ۔کسی بھی سرکاری افسر کو ایک جگہ کارکردگی دکھانے کے لئے مناسب اور معقول وقت نہیں دیا جا رہا ۔وفاقی اور صوبائی وزراء حزب اختلاف کے ساتھ دست وگریبان ہیں ، مگر اپنے محکموں پر توجہ نہیں دے رہے ۔مہنگائی کی اس موجودہ لہر میں وفاقی مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بالکل خاموش ہیں ۔آپ موجودہ حکومت کی دو سالوں اور دو مہینوں کی کارکردگی کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر اضافہ ہو رہا ہے ۔بجلی کے بلوں میں ٹیکس کے عجیب ناموں کو لکھ کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے بے دردی کے ساتھ لوٹا جا رہا ہے ۔وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے خسارہ کم کرنے کے لئے یہ طریقہ ڈھونڈنکلا ہے ۔مگر کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔گیس کی قیمتوں میں اس حد تک اضافہ کیا گیا ہے کہ لوگوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مقابلے میں کئی گناہ زیادہ ہے ۔بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ اگر حکومت چند مہینوں تک بجلی ،گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم رکھتی ہے تو ممکن ہے کہ مہنگائی کی اس عفریت کو قابو کیاجاسکے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ابھی تین مہینے قبل ملک میں گندم کی کٹائی ہو ئی ہے ۔ لیکن آٹے کا بحران کوہ ہمالیہ بن کر سامنے کھڑا ہے ۔وجہ کیا ہے ؟ صرف ایک ہی کہ متعلقہ محکمے اور ان کے وزراء لاپرواہی اور غفلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔متعلقہ محکمے یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہے کہ اس سال ملک میں گندم کی پیداوار کتنی ہوئی اور ملک کی ضرورت کتنی ہے ۔اس کوتاہی کی وجہ کیا ہے ؟ متعلقہ وزیروں کو وزیر اعظم کی خوشامد اور حزب اختلاف سے لفظی لڑائی سے فرصت نہیں جبکہ سرکاری افسران تماشہ دیکھ رہے ہیں۔رہی سہی کسر ذخیرہ اندوزوں نے پوری کردی ۔ ادویات مافیا کے خلاف بھی تمام ثبوت موجود ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔آٹا ، ادویات اور دیگر مافیا کے خلاف تمام ثبوت موجود ہونے کے باوجود ان پر ہاتھ نہ ڈالنابھی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کی ایک اہم وجہ ہے ۔انڈیا کے ساتھ تجارت بند ۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی تجارت پر متعلقہ وزارتیں توجہ نہیں دے رہی ہیں ۔اس لئے کہ وزیر اعظم عمران خان اور متعلقہ وزارتوں کے وزیروں کو حزب اختلاف سے ہی فرصت نہیں۔روپے کی قیمت روز بروز گرتی جارہی ہے مگر وفاقی مشیر خزانہ نے چپ کا روزہ رکھا ہے ۔مہنگائی کی اس موجودہ لہر میں وہ ایسے غائب ہیں کہ گویا وہ حکومت کا حصہ ہی نہیں یا ان کو غیر اعلانیہ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہو۔ وزیر اعظم عمران خان اگر سنجیدہ ہیں کہ ملک میں مہنگائی نہ ہو اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا خاتمہ ہو تو ان کو چاہئے کہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نکالیں۔ طرز حکمرانی کو بہتر کریں۔بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مستحکم کریں ۔روپے کی قیمت کو مزید گرنے سے روکیں۔وفاقی اور صوبائی بیوروکریسی کے اعتماد کو بحال کریں۔ ان کے سروں پر ہر وقت تبادلے کی لٹکتی ہوئی تلوار کو نیام میںڈال دیں ۔جن مافیاز کے خلاف ثبوت موجودہ ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں ۔ذخیرہ اندوزوں کو لگام دیں۔ سرکاری انتظامیہ کو منظم اور متحرک کریں۔پہلے سے بہت دیر ہوچکی ہے ۔ اب وقت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھیں ۔پوری قوم یک آواز ہے کہ مزید ہمیں تقریروں کی نہیں کارکردگی کی ضرورت ہے۔گزشتہ حکومتوں پر الزامات کا وقت گزر گیا اب اپنی کارکردگی سامنے رکھنے کا وقت ہے ۔