گذشتہ ہفتے فرانس کے ایک قصبہ بیونے میں 84برس کے معمر شخص نے ایک مسجد کو نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی۔جب قریب سے گزرنے والے دوراہگیروں نے اُس کو ایسا کرنے سے منع کیا تو اُس بوڑھے شخص نے دونوں کو زخمی کردیا ،تاہم بعدازاں وہ گرفتار کر لیا گیا۔اُسی دِن پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اپنی سرکاری رہائش گاہ،السی محل میں مسلم رہنمائوں سے ملاقات کررہے تھے۔یہ ملاقات اس مقصد کے تحت نہیں ہورہی تھی کہ فرانسیسی صدر اُن کی برادری کے خلاف خطرات کو زیرِ بحث لارہے تھے ،بلکہ ملاقات کا مقصدیہ تھا کہ مسلم برادری پر دبائو بڑھایا جائے کہ وہ مذہبی انتہاپسندی کے خلاف اپنی کوششوں کو مزید تیز کریں۔ اُس دِن کے واقعات صرف اُس شیطانی چکراور جو شیطانی کام فرانس میں شروع ہوا ،کا ردِعمل تھے، جو واقعہ تین اکتوبر کو رُونما ہواتھا،جب ایک پولیس اہلکار جس نے تازہ اسلام قبول کیا تھا،نے اپنے چار پولیس کے ساتھیوں کو چاقوکے وار کرکے قتل کردیاتھا۔اس واقعہ نے ،دُنیا کی توجہ اپنی طرف اُس انداز میں مبذول نہ کروائی ،جس انداز میں پیرس میں دوہزار پندرہ اور نائس میں دوہزار سولہ کے واقعات نے توجہ مبذول کروائی تھی۔لیکن یہ واقعہ فرانس میں اسلاموفوبیا بڑھانے کا سبب ضرور بن گیا۔اس امر کی جھلک فرانسیسی صدرایمانوئل میکرون اور دوسرے سیاسی رہنمائوں کے رویوں میں واضح محسوس کی جارہی ہے۔چارمقتول پولیس اہلکاروں کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے مطالبہ کیا کہ فرانسیسی معاشرے کو چوکس رہنا ہوگا اور اسلامک ہائیڈرا کے خلاف رکاوٹ کے طورپر کام کرنا ہوگا۔اُن کا مزیدکہناتھاکہ فرانسیسی قوم کو زیرِ زمین اسلام ازم کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا ہو گا ،جو ہمارے بچوں پر اپنی شناخت کے ذریعے اثرات مرتب کررہے ہیں اور یہ چھوٹی چیزیں بڑے المیوں کا رُوپ دھارلیتی ہیں۔ فرانسیسی قوم کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں ،کام کرنے کی جگہوں میں اور اپنے علاقوں میں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔فرانسیسی صدر کے اس خطاب کے تین بعد فرانس کے شہر ڈی جون میں ایک مقامی دائیں بازو کے سیاسی رہنما نے ایک مسلم خاتون ،جس نے سکارف پہن رکھا تھا اور وہ اپنی مقامی کونسل میں ایک سکول کا دورہ کررہی تھی ،کے خلاف بھڑکایا۔اُس سیاست دان نے کونسل کے صدر کو کہا کہ وہ اس مسلم عورت کو کہیں کہ یا تو یہ سکارف اُتاریں یا پھر یہاں سے چلی جائیں۔اُس کا کہناتھا کہ چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں کے بعد اس خاتون کی مسلم شناخت یعنی سکارف پہن کر یہاں موجودگی قابلِ قبول نہیں۔مسلم خواتین کیا پہن رہی ہیں ،سب اس طرف متوجہ ہیں ،دراصل سب لوگ پولیس اہلکاروں کو چاقوکے وار سے قتل کردینے کے پس منظر سے جذباتی ہیں۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر مباحثے ہوئے ،جس میں کوئی خاتون سکارف پہنے ہوئے شامل نہیں تھی۔اُسی دِن جس دِن بیونے کی مسجد کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی ،فرانسیسی سینیٹ نے ایک بل پر غور کیا ،جس کے ذریعے مسلم خواتین کو سکول کے دورہ کے دورا ن سکارف پہن کر جانے سے روکنا ہوگا۔واضح رہے کہ 2011ء میں فرانس میں پورے چہرے کے پردے پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ سمیت سرکاری اہلکار خواتین کو سکارف پہننے سے روکا گیا تھا۔ فرانسیسی صدر کے مطابق کسی کو پردہ کرنے یا سکارف پہننے پر برابھلا نہ کہا جائے۔پھر بھی فرانسیسی حکومت کی انتہاپسندانہ تشددسے نمٹنے کی کوششیں ،اسلامی رواج و رسوم پر ایک ثقافتی حملہ دکھائی دیتی ہیں۔فرانسیسی وزیرِداخلہ نے اپنی قومی اسمبلی کی ایک حالیہ تقریر میں ،قدامت پرست مذہبی رویہ ،بشمول باقاعدہ یا عارضی عبادت ،داڑھی بڑھانا اور خواتین کے ساتھ سلام کرتے ہوئے بوسہ لینے سے انکار کرنا،ان سب کوبنیادپرستی کی امکانی علامت قراردیا تھا۔اس کے بعد پیرس سے باہر ایک سرکاری یونی ورسٹی سیرگی پونٹاز نے اپنے سٹاف سے کہا کہ وہ اپنے طالب علموں کی ایسی لسٹ تیار کریں ،جس میں اُن کے بنیاد پرست ہونے کی علامات پائی جاتی ہوں۔تاہم بعد میں جب یونی ورسٹی کے اس اقدام پر تنقید کی گئی تو اُس نے ایسا کرنے پر معذرت کرلی۔فرانس پہلے ہی ایک ایسی حکومت سمجھا جاتا ہے جو بہت زیادہ جارحانہ اقدام سے مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے۔فرانس کے شہر پیرس میںجب نومبر دوہزا رپندرہ میں حملے ہوئے توان جارحانہ اقدامات کا آغا ز بھی ہنگامی طور پر کیا گیااور پھر دوسال بعد قانون پاس کیا گیاکہ بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس معلومات کے بغیر ،انفرادی رہائش کے لیے ،آزادنہ نقل و حرکت پر ،گھر لینے اور چھوڑنے پر پابندی ہوگی۔اس پس منظر کے خلاف ،افراد تھانوں میں طلب کیے جانے کی اطلاع دے رہے ہیں اور اُن کے رویوں پر شکایت کررہے ہیں۔ایک خاتون جس نے اسلام قبول کیا ،اُس نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر سترہ اکتوبر کو انٹرویو نشر کیا ،جس میں اپنی مسجد ،اپنے شوہر ،اپنی فیملی اور جس انداز کا اُس نے لباس پہن رکھا تھا ،پر سوالات شامل تھے۔اُس نے لکھا کہ دوآدمیوں کی جانب سے تفتیش کیے جانے کے سامنے خود کو اکیلے تلاش کرنا ،واقعی ذلت آمیز ہے۔اس کا اختتام کہاں ہونا ہے؟ فرانس کو اپنے مسلم شہریوں کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے اور تخریب کاری یا دہشت گردی کو روکنے کے لیے الزام تراشی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔(فرانس میں 50 لاکھ سے زائد مسلمان اورتقریباً 6 لاکھ یہودی آباد ہیں جو یورپ میں ان مذہبی اقلیتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔فرانس کے طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو، پولیس افسروں اور سپر مارکیٹ پر حملہ کے بعد حکومت نے دس ہزار فوجیوں کو عوامی مقامات، حساس عمارتوں اور عبادت گاہوں کی حفاظت پر جہاں لگایاتھا وہاںیہ سوال بھی اُس وقت اُٹھا تھا کہ فرانس میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کا کیا مقام اور مرتبہ ہے؟جبکہ پیرس حملوں کے کچھ عرصہ بعد کم از کم 50 ایسے مقدمات سامنے آئے تھے جن میں فائرنگ، اسلامی عمارتوں پر دستی بم سے حملے کے ساتھ ساتھ دھمکیوں اور تذلیل جیسے واقعات شامل تھے۔یوں پیرس حملوں کے بعد اسلاموفوبیا میں اضافہ دیکھا گیا ) ( بشکریہ الجزیرہ،ترجمہ :احمد اعجاز)