جنیوا(نیٹ نیوز،92نیوزرپورٹ،نیوز ایجنسیاں) اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچلیٹ نے کہا ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں کرفیو میں نرمی اور کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں تک رسائی فراہم کرے ،پاکستان نے بیان کا خیرمقدم کیا ہے ۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 42ویں اجلاس سے خطاب میں میشیل باچلیٹ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات سے انسانی حقوق متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکشمیر سے متعلق انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شکایات روزانہ مل رہی ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ اور ذرائع مواصلات معطل ہیں، پرامن مظاہروں پر پابندی ہے اور سیاسی رہنماوں کو بند کردیا گیا ہے ، کشمیر کے مستقبل سے متعلق ہر فیصلے میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے ۔انہوں نے کہابھارت کشمیر میں انسانی حقوق کے احترام و تحفظ ،خدمات عامہ تک عوام کی رسائی اور زیرحراست افراد کے حقوق کی پاسداری و تحفظ یقینی بنائے ۔میشیل باچلٹ نے کہا لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف انسانی حقوق کی صورتحال پر اطلاعات مل رہی ہیں،ہمیں کمیونیکیشن کی پابندیوں، اجتماع کے حق، سیاسی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں پر بھی شدید تشویش ہے ۔اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر نے بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں سمیت 19 لاکھ سے زائد افراد کی شہریت منسوخ کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا آسام میں 19 لاکھ افراد کی شہریت کی منسوخی نے غیر یقینی اور پریشانی کو جنم دیا، بھارت شہریت منسوخی کیخلاف اپیلوں کے دوران قانونی ضابطوں پر عملدرآمد یقینی بنائے اور متاثرہ افراد کو ملک بدر یا قید نہ کرے ۔ادھروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کشمیریوں کامقدمہ لڑنے جنیوا پہنچ گئے ،وہ او آئی سی اورڈبلیوایچ او کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 42ویں اجلاس میں شرکت اور خطاب کریں گے ،شاہ محمود قریشی مندوبین کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کریں اور یک طرفہ بھارتی اقدامات اور مظالم سے آگاہ کریں گے ۔ ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں دنیا بھر سے مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ میڈیا نمائندگان سے گفتگو بھی کرینگے ۔جنیوا پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ نے کہا اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر کامقبوضہ کشمیر پربیان انتہائی حوصلہ افزاۂے ، اگلے دو یوم میں جنیوا میں دنیا کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنے کا موقع ملے گا ۔ ہم عرصہ دراز سے جو کہتے آئے ہیں ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کے آغاز میں اس کا اظہار ہوگیا ہے ،دنیا دیکھ رہی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ظلم و بربریت آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہی ہے ۔دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق ہائی کمشنر کے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی صورتحال پر بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے میشیل باچلیٹ کے خدشات اور مطالبات انتہائی سنجیدہ ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر کے بیان میں چند نکات نہایت اہم ہیں۔ بیان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال، مسلسل پابندیوں، کشمیری عوام کی آزادی اور بنیادی حقوق پر کریک ڈائون پر اقوام متحدہ کے نظام کے موقف کے مطابق ہے ۔