BN

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: رحمن بھولا، زبیرچریاکو264بار سزائے موت

بدھ 23  ستمبر 2020ء





کراچی( سٹاف رپورٹر،92 نیوزرپورٹ ) انسداد دہشتگردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس کا تحریری فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے جرم ثابت ہونے پررحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت کا حکم دیا، عدالت نے دونوں مجرموں کو ملازمین کو مارنے کے جرم میں 264 مرتبہ عمر قید کی سزا بھی سنائی ہے ، 60 لوگوں کو زخمی کرنے کے جرم میں 10 ،10 سال قید اور 1 ، 1 لاکھ جرمانہ بھی عائد کردیا،عدا لت نے سانحے میں 264 جا ں بحق افراد کے مقتولین کے ورثا کو 2 ، 2 لاکھ روپے دینے کا حکم دیا ۔ تفصیلات کے مطابق مجرم رحمٰن بھولا اور زبیر چریا کو بھتہ خوری کے جرم میں 10 ، 10 سال قید اور 1 ،1 لاکھ جرمانہ عائد کیا ہے ، عدالت نے شا ہ رخ، علی محمد ،فضل محمد، ارشد محمود کو زبیر چریا اور رحمٰن بھولا کو سہولت فراہم کرنے کے جرم میں 264 مرتبہ عمر قید سنا دی ،ہر جان کے عوض 2،2 لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے ، فیصلے میں کہا گیا کہ سہولت کاری فراہم کرنے والے چاروں ملزمان نے مرکزی ملزمان جنہوں نے پلاسٹک کے شاپر میں کیمیکل کے ساتھ فیکٹری میں داخل ہونے میں مدد کی ان ملزمان لواحقین کو 27،27لاکھ دیت ادا کریں گے ، عدالت نے ضمانت پر رہا ملزم شاہ رخ ، علی محمد ، فضل محمد اور ارشد محمود کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے جیل بھیج دیا، عدالت نے کہا کہ رئوف صدیقی ، حسن قادری ، ڈاکٹر عبدالستار ، اور ادیب خانم کے خلاف استغاثہ جرم ثابت نہیں کر سکے ،چاروں ملزمان کو عدم ثبوت کے بنا پر رہا کیا جاتا ہے ۔ عدالت نے کیس کے مفرور ملزم حماد صدیقی اور علی حسن قادری کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے اور کہا کہ مفرور ملزمان جب بھی ملیں ان کو زندہ یہ مردہ حالت میں گرفتار کیا جائے ۔فیصلے کے بعد رؤف صدیقی نے کہا کہ مجھے عدالت سے انصاف ملا ، لواحقین کی چیخیں آج تک میرے کانوں مین گونجتی ہیں، وہ رات بھول نہیں پاتا تھا ، ڈاکٹر فاروق ستار نے 92 نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے لواحقین کے دلوں کو اطمینان پہنچا۔ پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہاکہ جتنا بڑا کیس تھا اس میں بہت کم لوگوں کو سزا ملی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ رؤف صدیقی کی بریت سے ثابت ہوگیا کہ سانحہ سے ایم کیوایم کا تعلق نہیں تھا،امیرجماعت اسلامی کراچی کا کہنا ہے کہ فیصلہ لواحقین کی امیدوں پرپورا نہیں اترا،منصوبہ سازوں کو پکڑا جائے ،فیصل سبزواری اورسعید غنی میں ویب سائٹ پرلفظی جھڑپ ہو گئی جبکہ ورثا نے اصل کرداروں کو کٹہرے میں لانے اور سرعام پھانسی کا مطالبہ کر دیا، لواحقین نے مطالبہ کیا کہ فیکٹری کے مالکان کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ، مجرمان کو جلد سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے ۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں