رمضان المبارک کا آخری عشرہ اختتام پذیر ہونے کو ہے اور عیدالفطر کی آمد آمدہے۔ قرآن کا آفاقی پیغام ہمیں عید کے موقع پر ہمدردی، مواخات، بھائی چارے ،ضرورت مند سفید پوش گھرانوں ،یتیموں ،بیوائوں اور مساکین کو ان کی عزت نفس مجروح کئے بغیر ان کی مدد کرنے اور انہیں عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کا حکم دیتا ہے۔اب جبکہ عید کی آمد میں چند روز باقی ہیں تو بہتر ہو گا کہ ہم زکوٰۃ،فطرانہ ،اور صدقا ت و خیرات ان ضرورت مندوں تک پہنچا دیں جو مستحق تو ہیں لیکن اپنی خودداری اور سفید پوشی کے باعث کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا نہیں چاہتے۔ اصل میں یہی لوگ ہماری مدد کے مستحق ہیں۔ آج کل کورونا کی وبا کے باعث بہت سے سفید پوش عسرت اور معاشی تنگی کا شکار ہیں‘ عید ہم سے متقاضی ہے کہ عید سے پہلے پہلے ہم اپنے شہر ،گائوں اور گلی،محلوں میں ایسے لوگوں کو تلاش کر کے ان کی مالی مدد کریں لیکن اس طرح کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو ۔ یہ ہمارا قومی ، اخلاقی اور مذہبی فریضہ بھی ہے اور اس میں ہی ہماراروحانی سکون اور اللہ اور اسکے رسولﷺ کی رضا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کورونا کی اس غم آلود فضا میں عید سادگی سے منائیں ،خریداری کم کریں اور اس رقم کو ان سفید پوشوں اور مساکین تک پہنچا دیں جو اس کے مستحق ہیں۔ یہی ہماری عید ہوگی اور اس میں ہی اللہ اور اس کے بندوں کی خوشنودی ہے۔