مودی سرکار ہندوتواکو فروغ دے رہی، بھارت مقبوضہ کشمیرکی سابق حیثیت بحال کرے :وزیراعظم

هفته 26  ستمبر 2020ء





اقوام متحدہ ،اسلام آباد ( ندیم منظور سلہری سے ،سپیشل رپورٹر،92 نیوزرپورٹ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوزایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر اقوا م متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ بھرپور انداز میں اٹھاتے ہوئے کہاہے بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں اڑائیں جا رہی ہیں ، بھارت دنیامیں اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہاہے ، فوجی قبضے اور غیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کودبایاجا رہاہے ،بھارت 5اگست کو کیے گئے اقدامات واپس لے ،دنیا میں اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے ایک عالمی دن مقرر کیا جانا چاہیے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں ویڈیولنک خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا جب سے میری حکومت آئی ہے پاکستان کو نیا پاکستان بنارہے ہیں جو ریاست مدینہ کی طرز پر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے جومذاکرات سے ممکن ہے ۔جنرل اسمبلی واحد ادارہ ہے جو امن حاصل کرنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے ، ہم اس موقع پر امن، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا جو وعدے بطور اقوام متحدہ ہم نے اقوام سے کیے تھے وہ پورے کرسکے ؟ آج طاقت کے یکطرفہ استعمال سے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے ، اقوام کی خود مختاری پر حملے کیے جارہے ، داخلی معاملات میں مداخلت کی جارہی اور منظم طریقے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ بین الاقوامی معادوں کو پس پشت ڈالا جارہا ، سپر پاور بننے کی خواہاں مخالف طاقتوں کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہوچکی ، تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں،فوجی قبضے اور توسیع پسندانہ اقدامات سے حق خود ارادیت کو دبایا جا رہا ہے ۔ انسانیت کو پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں اور ایسا اسلئے ہے کہ جوہری تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے ، ماحولیاتی تبدیلی عروج پر ہے اور آمرانہ حکومتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔ مذکورہ خطرات سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا۔ عالمگیر وبا نے غریب ممالک کی معاشی حالت کو مزید ابتر کردیا ہے ،لاک ڈاؤن سے دنیا میں کساد بازاری ہوئی اور تمام ممالک غریب ہوئے ۔ ہم نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی اور ہم نے زراعت کے شعبے کو فوری کھول دیا جس کے بعد تعمیراتی شعبے کو بھی کھول دیا۔میری حکومت نے 8 ارب ڈالر صحت کے شعبے اور احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کی مدد کیلئے مختص کیا، اس سے ہم نے نہ صرف وائرس کو پھیلنے سے روکا بلکہ معیشت کو بھی بحال رکھا۔آج پاکستان کے اقدامات کورونا کو پھیلنے سے روکنے کیلئے ایک کامیاب کہانی بن چکی ہے ۔ہم کثیر جہتی اشتراک سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ کورونا وبا انسانیت کو متحد کرنے کیلئے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ہمارے پیغمبرؐ کی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایاگیا اور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے ۔ پیرس 2015 کے معاہدے پر مکمل عمل ہونا چاہیے ۔دنیا میں بھارت واحد ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا ہے اس کی وجہ آر ایس ایس کے نظریات ہیں جو بدقسمتی سے بھارت میں حکمران ہے ۔ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل1920 کی دہائی میں کی گئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے ، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ۔ نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے ، آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہیں اور عیسائیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔ 2002 میں بھارتی گجرات میں مسلمانوں کا قتل کیا گیا،2007میں سمجھوتہ ایکسپریس میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا،جس طرح نازی جرمن یہودیوں کیخلاف تھے ، آر ایس ایس مسلمانوں کیخلاف ہے ،یہ تمام کارروائیاں اس وقت کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کی نگرانی میں ہوئیں، آر ایس ایس نے 1992میں بابری مسجد شہید کی جبکہ آسام میں 20لاکھ مسلمانوں کو امتیازی قوانین کے ذریعے شہریت جیسے مسائل سے دوچار کیا گیا۔میرا ماننا ہے بھارت صرف ہندوؤں کیلئے ہے اور دیگر برابر کے شہری نہیں ہیں،اس تقسیم کے نتیجے میں عالمی سطح پر نیا بحران جنم لے سکتا ہے ۔ دنیا میں جب تک ہرشخص محفوظ نہیں، تب تک کوئی محفوظ نہیں۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے ۔ مقبوضہ علاقے کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنگی جرم ہے ،اس ظالمانہ مہم کا مقصد آر ایس ایس ، بی جے پی کے جموں و کشمیر کے خودساختہ حتمی حل کو عملی جامہ پہنانا ہے ،بین الاقوامی برادری لازمی طور پر ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے ،ان مظالم کی اقوام متحدہ کے انسانی کمشنر ،انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندوں کی رپورٹ گواہ ہیں ۔ سلامتی کونسل مشرقی تیمور میں اپنا موثر کردار ادا کرچکی ۔ بھارت 5اگست کو کیے گئے اقدامات واپس لے ۔ کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے جاری نسل کشی سے بچانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے ۔ بھارت پر دبائو بڑھایا جائے کہ وہ فوجی محاصرے اور انسانی حقوق کی دیگر پامالیوں کو ختم کرے ۔بھارت کوہندو ریاست بنانے کیلئے مسلمانوں کاقتل عام کیاجارہاہے ۔گاندھی اور نہروکانظریہ آرایس ایس نظریے میں بدل دیاگیا۔ بھارت میں آرایس ایس کا نظریہ غالب ہے اور بھارت دنیامیں اسلاموفوبیا کو فروغ دے رہاہے ۔ بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کیخلاف کوئی جارحیت کی توپاکستان دفاع کیلئے ہرممکن اقدام کرے گا۔ہم نے عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے جھوٹے آپریشن و دیگر اشتعال انگیزی کارروائیوں سے آگاہ رکھا ہے جبکہ پاکستان کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں کے باوجود ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے ۔ وزیراعظم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہوناچاہیے ،بھارت سب سے پہلے کشمیرکی سابق حیثیت بحال کرے ، پاکستان ہمیشہ سے مسئلہ کشمیرکے پر امن حل کاخواہاں ہے ۔ افغانستان کے اندر اور باہر سے بگاڑ پیدا کرنے و الے عناصر کو امن عمل خراب کرنے اجازت نہیں دیں گے ،پاکستان کو انتہائی اطمینان ہے کہ اس نے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائی ہے ،میرا ہمیشہ یہ موقف رہا کہ تنازع افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ پر امن حل کی بات کی ہے ۔ افغان پناہ گزینوں کی واپسی بھی افغان سیاسی حل کا حصہ ہونا چاہیے ۔ ہماری خارجہ پالیسی کامقصد ہمسایوں کیساتھ اچھے تعلقات، مسائل کا بات چیت سے حل ہے ۔فلسطین کا مسئلہ آج بھی ایک رستا ہوا زخم ہے ، اس کا حتمی اور منصفانہ حل مشرق وسطیٰ اور دنیا کیلئے ناگزیر ہوچکا ۔پاکستان فلسطین کے مسئلے پر فلسطینوں کی حمایت کرتا رہے گا۔ امیر ملک منی لانڈرنگ کرنیوالوں کو تحفظ دیکر انصاف کی بات نہیں کرسکتے ۔جنرل اسمبلی کوغیرقانونی مالیاتی منتقلی،لوٹی گئی رقم کی واپسی کیلئے موثر قانونی فریم ورک تشکیل دینا چاہیے ۔ لوٹی ہوئی رقم کو واپس غریب ممالک کو لوٹانے کیلئے فوری اقدامات ہونے چاہئیں،اگر اسے قابو نہ کیا گیا تو دنیا میں غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھے گا۔غریب ممالک کیلئے قرضوں کی ادائیگی کو موخر کیا جانا چاہیے ،قرضوں میں ریلیف کیلئے اضافی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔موسمیاتی تبدیلی سے دنیا کو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے ۔ ماحولیاتی تبدیلی سے ہماری آنیوالی نسلوں کو خطرات لاحق ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کیلئے پاکستان نے اگلے تین برسوں میں 10 ارب درخت لگانے کا پروگرام شروع کیا۔ وزیر اعظم نے کہا وولکن اوسکرکوجنرل اسمبلی کا75واں صدرمنتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتاہوں۔موجودہ صدر کی ماہرانہ قیادت کابھی معترف ہوں جنہوں نے کورونا کیخلاف بہترین خدمات انجام دیں۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں

آج کے کالم