BN

پی آئی سی حملہ: 46 وکلا جوڈیشل ریمانڈپر جیل منتقل، مزید29 گرفتار

جمعه 13 دسمبر 2019ء





لاہور، اسلام آباد،راولپنڈی ، ملتان ، فیصل آباد(اپنے نیوز رپورٹر سے ،نمائندہ خصوصی سے ،جنرل رپورٹر،کر ائم ر پو ر ٹر،نامہ نگار خصوصی، لیڈی رپورٹر، سپیشل رپورٹر،نیوز رپورٹر،92 نیوز رپورٹ ، نمائندگان ، نیوز ایجنسیاں )پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے کے الزام میں گرفتار 46 وکلاکو عدالتی ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ مزید 29وکلا کو گرفتار کر لیا گیا، وکلا اور ڈاکٹرز نے پنجاب بھر میں ہڑتال کی اور ریلیاں نکالیں ۔ انسداد دہشتگردی عدالت نے پی آئی سی حملہ کیس میں گرفتار 46 وکلا کو14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ گرفتار وکلا کوپولیس نے چہروں پر نقاب ڈال کرسخت سکیورٹی میں عدالت پیش کیا۔انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج عبدالقیوم خان نے سماعت کی۔ تفتیشی افسر نے ملزم وکلا کے پندرہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔تفتیشی افسر نے کہا گرفتاروکلا پر توڑپھوڑ، ہنگامہ آرائی ،دہشتگردی اور اقدام قتل کے الزامات ہیں ۔ تفتیش کیلئے جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کیا جائے ۔ گرفتار وکلا کے وکیل غلام مرتضیٰ چودھری نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا پرامن وکلا پر پولیس نے بے بنیادمقدمہ درج کیا۔عدالت نے گرفتاروکلا کو 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔سماعت کے موقع پر عدالت کے اندر اور باہرپولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ گرفتار وکلا نے انسداد دہشتگردی عدالت میں درخواست ضمانت دائر کر دی ، عدالت آج سماعت کرے گی۔پولیس نے پی آئی سی حملے میں ملوث مزید29وکلاکوگرفتارکرلیا جبکہ مقد مے میں نا مز د متعد د وکلا انڈ ر گراؤنڈ اور نا معلو م مقامات پر روپوش ہو گئے جبکہ کئی گزشتہ روز ہا ئیکو رٹ با ر کے اجلا س میں شر یک بھی ہو ئے لیکن ان کو گر فتا ر نہ کیا جا سکا ۔ادھر وکلا اور ڈاکٹروں نے لاہور، حافظ آباد،شیخوپورہ ،سرگودھا، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، اسلام آباد، راولپنڈی ، ملتان، ڈیرہ خازیخان ،مظفر گڑھ ودیگر شہروں میں ہڑتال کی ، ریلیاں نکالیں اور احتجاجی مظاہرے کئے ۔پنجاب بار کونسل اور خیبرپختونخوا بار کونسل کی اپیل پر وکلا کی گرفتاری، پولیس تشدد اور ڈاکٹرز کے رویے کیخلاف دونوں صوبوں میں وکلا نے ہڑتال کی۔ وکلا نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور مقدمات کی سماعت کیلئے پیش نہیں ہوئے ۔وکلا نے عدالتوں اور کچہریوں کے دروازے بند کردیئے جس کے نتیجے میں ہزاروں مقدمات التوا کا شکار ہوگئے اور سائلین کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلانے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث ڈاکٹروں کی گرفتاری اور اپنے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ وکلا نے جی ٹی روڈپر مظاہرہ کیا اور ٹائروں کو آگ لگاکر لاہور اورگوجرانوالہ روڈ کو بند کردیا۔ لاہورمیں سپریم کورٹ،ہائیکورٹ اورلاہوربارزسمیت متعدد وکلا تنظیموں کے اجلاس ہوئے جن میں گرفتاروکلاکی فوری رہائی اورمقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔وکلاکی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی سی واقعے کا جائزہ لیاگیا۔وکلا رہنمائوں نے مطالبہ کیا کہ واقعہ کی جوڈیشنل انکوائری کراکرحقیقت سامنے لائی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایساواقعہ نہ ہو۔ وکلا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے نامزد چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ سے ان کے چیمبر میں ملاقات کی اور وکلا کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ وکلا کی گرفتاری کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کر دی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلا کو زبردستی ہڑتال پر مجبور کرتے ہوئے انہیں عدالتوں سے نکالنے اور عدالتی کارروائی میں رکاوٹ بننے پر سیکرٹری اسلام آباد ہائیکورٹ بار عمیر بلوچ کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا جبکہ 19 دسمبر کو آئندہ سماعت تک ان کا ہائیکورٹ میں پریکٹس کیلئے وکالت کا لائسنس بھی معطل کر دیا۔عدالت نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری حکمنامے میں کہا سیکرٹری بار نے دوران سماعت وکلا کو عدالت سے نکلنے پر مجبور کیا۔ عمیر بلوچ روسٹرم پر آئے اور ایسے لہجے میں بات کی جو کسی وکیل کا نہیں ہو سکتا۔ فاضل عدالت نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 19 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے ۔ ڈاکٹرز نے بھی پی آئی سی واقعہ پر احتجاج بھی کیا۔لاہورو دیگر شہروں کے سرکاری ہسپتالوں میں یوم سیاہ منایا گیا اور ینگ ڈاکٹرز سراپا احتجاج بنے ۔ ڈاکٹرز تنظیموں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں اور وکلا گردی کیخلاف نعرے لگائے ۔ ڈاکٹروں نے پی آئی سی بچاؤ مہم کا اعلان کردیا۔آج پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے مشعل جلائی جائیں گی اور اظہاریکجہتی کیلئے ریلی بھی نکالی جائے گی۔ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور گرینڈ ہیلتھ الائنس نے تین روزہ سوگ کے تحت ایمرجنسی میں ڈاکٹرز نے بازوئوں پر کالی پٹیاں باندھ کر کام کیا۔ ڈاکٹرز کے احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مریضوں اور ان کے لواحقین کو شدید پریشانی کا سامنا رہا۔ شہریوں کا کہنا ہے زندگی کے 2 اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کے اس افسوسناک رویے کی قیمت عوام کو چکانا پڑ رہی ہے ۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ پی آئی سی پر حملے میں ملوث تمام لوگوں پر دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے جائیں۔ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں آئی ایس آئی، آئی بی اور پی ایم اے کے نمائندگان ہوں اور اس کیس کو خصوصی عدالت میں چلایا جائے ۔ڈاکٹر سید مسعود السید، صدر پی ایم اے پنجاب پروفیسر اشرف نظامی، صدر پی ایم اے لاہورر، ڈاکٹر تنویر انور صدر الیکٹ پی ایم اے پنجاب و دیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا اس سارے سانحہ کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ ، وزیر قانون ، محکمہ داخلہ پنجاب کے ذمہ داران پر عائد ہوتی ہے ۔ ہم اِن تمام ذمہ داران کے فوری استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشن اور لاہور کو فی الفور معطل کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وکلاریلی کا اجازت دی گئی اور اْنکے کچہری سے پی آئی سی تک کے 3کلومیٹر کے سفر میں اْن کی مدد کی اور جب وکلا نے پی آئی سی کا گیٹ توڑا تو اْس وقت پولیس خاموش تماشائی تھی۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سانحہ پی آئی سی پر16دسمبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ منائے گی۔وفاقی حکومت کی سطح پر 11دسمبر کو ہر سال پاکستان کی تاریخ کے سیاہ دن کے طور پرمنانے کا اعلان کیا جائے ۔ادھر وکلا گردی کا نشانہ بننے والا امراض قلب کا ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی دوسرے روزبھی بندرہا۔ڈاکٹرز و دیگر طبی عملہ نہ ہونے کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مایوسی کا سامنا ہے ۔ پی آئی سی کی او پی ڈی، ایمرجنسی اور وارڈز سب بند ہیں اور مریضوں کے آپریشن اور چیک اپ منسوخ کردیے گئے ہیں جبکہ بعض مریضوں کو دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔ مریضوں کا کہنا ہے دل کے ہسپتال میں علاج معالجہ کیلئے کئی ماہ پہلے ڈاکٹرز سے وقت لینا پڑتا ہے ۔وکلا کی توڑ پھوڑ کی وجہ سے ہسپتال کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے ۔ عملہ نے ٹوٹنے والی چیزوں اور شیشوں کو ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے اور وارڈز کی صفائی جاری ہے تاہم توڑ پھوڑ والی جگہوں کو کرائم سین قرار دیکر بند کردیا گیا ہے ۔وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشدنے پی آئی سی میں گرینڈہیلتھ الائنس کیساتھ میٹنگ کی۔اے ایم ایس ڈاکٹر صغیر ارشدکے مطابق ہسپتال میں ٹوٹ پھوٹ سے ہونے والی خرابیاں دورکی جارہی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹریاسمین راشد نے کہا حکومت تشددکانشانہ بننے والے ڈاکٹرزکیساتھ کھڑی ہے ۔ حکومت تمام ڈاکٹرزکی گاڑیوں اورسرکاری املاک کے نقصان کاتخمینہ لگاکرمالی امدادکرے گی۔ کسی بھی شخص کوہسپتالوں پرحملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پی آئی سی حملہ میں ملوث تمام ملزمان کو کیفرکردارتک پہنچایاجائے گا۔انہوں نے کہا پی آئی سی میں توڑ پھوڑ سے 7 سے 8 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ۔اس نقصان میں ہسپتال کی مشینری سمیت دیگر املاک شامل ہیں, ایمرجنسی وارڈ میں محکمہ مواصلات و تعمیرات نے بحالی کا کام شروع کر دیا ہے ۔سی سی پی اوذوالفقارحمید بھی پی آئی سی پہنچے اورحالات کا جائزہ لیا،ڈی آئی جی آپریشنزرائے بابرپی آئی سی پہنچے توشہریوں نے ان کیخلاف احتجاج کیا۔سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پولیس نے چائنہ چوک پر وکلا کو روکا تھا لیکن انہوں نے یقین دلایا احتجاج پرامن ہوگا۔ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ۔ پی آئی سی واقعے کی تمام فوٹیجز حاصل کر لی ہیں۔ تشدد میں ملوث وکلا کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔ بہت سے لوگوں کی شناخت ہوگئی ہے ۔ آنسو گیس کا استعمال معاملے کو دیکھتے ہوئے کیا۔ پولیس نے 2 مرتبہ وکلا کو پی آئی سی سے باہر دھکیلا اور تیسری بار ہسپتال میں داخل ہونے پروکلا کیخلاف طاقت کا استعمال بھی کیا۔ قبل ازیں ذوالفقار حمید نے شہرکے مختلف مقامات کا دورہ کرکے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ ایم ایس پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی جانب سے نقصان کی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو وصول ہو گئی ۔ ابتدائی رپورٹ ایوان وزیر اعلی اور ایوان وزیر اعظم کو بھی ارسال کر دی گئی۔ معتبر ذرائع کے مطابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے بھجوائی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ وکلا گردی سے دس کارڈیک مانیٹر، چار ایکو مشینیں، تین وینٹی لیٹرز،ایمرجنسی بیک ہال، 15 سیلنگ پیسز،اے ایم ایس ڈاکٹرز روم کے دو دروازے ، فارمیسی کے دو شیشے ،سات گملے توڑ دیے گئے ۔ ہسپتال میں کھڑی 15 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں