لاہور،کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ، مظفر آباد ( سٹاف رپورٹر،خصوصی نمائندہ، نیوز رپورٹر،اپنے رپورٹرسے ، خبر نگار خصوصی، نمائندگان، مانیٹرنگ ڈیسک) آزاد کشمیر سمیت ملک بھرمیں جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر منایاگیا ۔کرچی تاخیبر شہر شہراحتجاجی مظاہرے کیے اورریلیاں نکالیں ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے بھی نذر آتش کئے گئے ۔ مساجد میں اجتماعات جمعہ پر بھارت کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں۔ملک بھر کے سرکاری دفاتر میں میں بھی یوم یکجہتی کشمیربھرپورجوش وخروش کیساتھ منایا گیا۔مقبوضہ کشمیرپربھارتی قبضے ومظالم اور ظالمانہ کرفیوکیخلاف اور مظلوم کشمیر یوں کے حق میں ملک بھرمیں جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔ مختلف دینی ،سیاسی وسماجی جماعتوں کے کارکنوں نے کرچی تاخیبر شہر شہراحتجاجی مظاہرے کیے اورریلیاں نکالیں ۔ مساجد میں اجتماعات جمعہ پر بھارت کیخلاف مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں جبکہ بڑی بڑی مساجد کے باہر بعدنماز جمعہ یکجہتی کشمیرمظاہرے کیے گئے اور جلوس وریلیاں نکالی گئیں ۔ تحریک انصاف نے لاہور میں ناصرباغ سے چیئرنگ کراس تک ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیری عوام کے حق میں اور مودی کیخلاف نعرے لگائے ۔ریلی میں بڑی تعداد میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ ضلعی انتظامیہ لاہورکے زیر اہتمام کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ڈی سی آفس میں ریلی کا انعقا د کیا گیا ۔ریلی میں ضلعی انتظامیہ کے افسران و ملازمین نے بھر پور شرکت کی۔ ریلی میں پاکستان اور کشمیر کے ترانے چلائے گئے اور شرکانے ہاتھوں میں کشمیر بنے گا پاکستان کے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ۔ شرکانے بھارتی جارحیت کیخلاف نعرے بازی بھی کی۔ لبرٹی مارکیٹ لاہور کی مرکزی جامع مسجد کے باہر چاروں مسالک علماء بورڈ کے چیئرمین حافظ شعیب الرحمن قاسمی کی قیادت میں مظاہرہ کیاگیا ۔ تحریک صراط مستقیم کے بانی ڈاکٹراشرف آصف جلالی کی قیادت میں داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک ’’لبیک یارسول اﷲ ﷺ چلو کشمیر مارچ‘‘کا اہتمام کیا گیا ۔شرکا نے بھارتی حکومت کیخلاف اور کشمیریوں کے حق میں زبر دست نعرے بازی کی۔جماعت اہلحدیث پاکستان کے زیراہتمام "یوم یکجہتی کشمیر و تحفظ حرمین شریفین" منایا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کی اپیل پر سرکاری دفاتر میں میں بھی یوم یکجہتی کشمیربھرپورجوش وخروش کیساتھ منایا گیا۔دفاتر پر پاکستان اور کشمیر کے قومی پرچم لہرائے گئے جبکہ قومی ترانے بھی پڑھے گئے ۔کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ٹریفک بھی رک گئی۔مریدکے ،حافظ آباد، منڈی بہائوالدین، سرگودھا ، گوجرانوالہ، گجرات ، سیالکوٹ، فیصل آباد، چنیوٹ، اوکاڑہ،ساہیوال، چیچہ وطنی ،ملتان ،وہاڑی ،مظفرگڑھ ، بہاولپور،سمہ سٹہ ،احمد پورشرقیہ،ترنڈہ محمد پناہ، لیہ ، بھکر ،جہلم، راولپنڈی اور ا سلام آباد سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے تمام شہروں میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جانیں قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کا اعادہ کیا گیا۔سندھ، خیبرپختونخوا، بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھی ریلیاں نکال گئیں۔ کراچی میں پاکستان کوسٹ گارڈ ز کے زیر اہتمام کشمیری بچوں کیساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے گارڈز پبلک سکول اور کالج کے بچوں نے ریلی نکالی۔ مقررین اورشرکا نے ریلیوں اور مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ایک دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ضرور رنگ لائے گی۔عالمی برادری بھارت کو مجبور کرے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کو حق خود ارادیت دے ۔ نیویارک (ندیم منظور سلہری سے ، مانیٹرنگ ڈیسک ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی ظلم و جبر کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔امریکہ بھر سے کشمیری، پاکستانی اور سکھ کمیونٹی نے بڑی تعداد میں احتجاج میں شرکت کی ۔ پاکستانی اور کشمیری پرچم اٹھائے خواتین اور بچے نریندر مودی کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔ مظاہرین نے مودی قاتل کے فلک شگاف نعرے بھی لگائے ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز بھی اٹھارکھے تھے جن پر مودی دہشتگرد ہے درج تھا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جبری پابندیاں اور کرفیو ختم کرنے کے مطالبات بھی تحریر کیے گئے تھے ۔مظاہرین نے کہا بھارت کشمیریوں سمیت اقلیتوں کا قتل عام کررہا ہے ۔اگر افغانستان سے 19 سال کے بعد امریکہ جیسی سپر پاور شکست کھا کر نکلنے پر مجبور ہے تو بھارت بھی زیادہ دیر تک کشمیریوں کی آواز دبا نہیں سکے گا۔ پاکستانی کمیونٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ، بھارت کی خوش فہمی ہے کہ وہ کشمیر کو زیادہ عرصہ تک اپنے زیر تسلط رکھ سکے گا۔دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں جاری بحران کی کوریج کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین نے لندن میں ممتاز امریکی اور برطانوی نشریاتی اداروں کے سامنے احتجاج کیا ہے ۔ سینکڑوں افراد برطانوی نشریاتی کارپوریشن بی بی سی کے صدر دفتر کے باہر جمع ہوئے ۔مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ عالمی میڈیا مقبوضہ کشمیر میں جاری بحران اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحا ل کو موثر طریقے سے دنیا کے سامنے پیش کرے ۔ اسی طرح کا مظاہرہ سی این این کے لندن دفتر کے باہر بھی ہوا۔مظاہرین نے پوسٹرز اٹھا رکھے تھے اور "بی بی سی ، جاگو" ، "سی این این ، جاگو" اور "ہم کیا چاہتے : آزادی " کے نعرے لگارہے تھے ۔