لاہور(جوادآراعوان)چیئرمین سینٹ کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ پیچیدہ اور سخت ہوتا جا رہا ہے ،حکومت کے اپوزیشن جماعتوں کے سینیٹرز سے بیک چینل رابطے شروع ہو گئے ،مسلم لیگ (ن) کے 10سے زائد سینیٹرز اپوزیشن کے امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے ۔سینئر ممبران وفاقی کابینہ نے روزنامہ 92نیوز کو بتایا کہ حکومتی اتحاد ایوان بالا میں اپنی برتری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے گا، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کے حکومت سے بیک چینل رابطے شروع ہو چکے ہیں،ن لیگ کے 10سے زائد سینیٹرز اپوزیشن کے امیدوار کو ووٹ نہیں کریں گے ، جبکہ متحدہ مجلس عمل اور نیشنل پارٹی کے سینیٹرز سے بھی اسی نوعیت کے رابطوں کا آغاز ہو چکا ہے ،انکا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے سینیٹرز کی سپورٹ حکومتی اتحاد کے چیئرمین سینٹ امیدوار کو خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹ کاسٹ کر کے ملے گی یا الیکشن ڈے والے دن غیر حاضر رہ کر ملے گی۔انہوں نے بتایا اپوزیشن کی بڑی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ(ن)حکومتی اتحاد کی بجٹ برائے مالی سال 2019-20کی مرکز اور پنجاب میں منظوری کے لئے غیر حاضر ہونے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے سپورٹ کر چکی ہے ۔انہوں نے بتایا حکومت اپوزیشن جماعتوں کے اندر سے خاموش سپورٹ کے بدلے میں انکو ساتھ لیکر چل رہی ہے اور آئندہ بھی اس پالیسی پر عمل جاری رہے گا۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ سینٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو گی اور انکا چیئرمین سینٹ آئے گا، اپنے سینیٹرز سے ایوان بالا کے معرکے میں شرکت سے پہلے اپوزیشن کے امیداور کی سپورٹ کا حلف لیں گے ۔104 رکنی سینٹ میں حکومتی اتحاد کے ممبران کی تعداد 40ہے ، جس میں تحریک انصاف کے 17 ،بلوچستان عوامی پارٹی کے 11،ایم کیو ایم (پاکستان )کے 5سینیٹر ،آزادسینیٹر5،بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل)اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا 1،1سینیٹر شامل ہیں،جبکہ اپوزیشن کے ممبران سینٹ کی تعداد 64ہے ،جس میں مسلم لیگ (ن)کے 30، پیپلز پارٹی کے 20سینیٹر،متحدہ مجلس عمل کے 6،نیشنل پارٹی کے 5س،پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے 2 اور عوامی نیشنل پارٹی کا ایک سینیٹر شامل ہے ۔