خواب کم خواب کا احساس کہاں رکھیں گے اے گلِ صبح تری باس کہاں رکھیں گے اے مہ گنبدِ گرداں تو ستارے نہ گرا ہم زمین زاد تری آس کہاں رکھیں گے بہار اپنے جوبن پر ہے، اوپر سے ابر بھی چھائے ہوئے ہیں۔ آنگن میں لگے پیڑ اور پودے رات کی بارش میں دھلے ہوئے نہال نظر آتے ہیں۔ پرندوں کی چہکار میں صبح سانس لیتی محسوس ہوتی ہے اور فطرت مسکراتے ہوئے۔ محلے سے گزرتی کوئی چاپ بھی سنائی نہیں دیتے۔ لوگ گھروں میں دبک کر بیٹھے ہیں۔ ایک تو خود ساختہ جلا وطنی ہوتی ہے، یہ خود اختیار کردہ قید ہے کہ شہر لاک ڈائون ہے۔ صرف پرندے آزاد ہیں۔ آوارہ کتوں کو بھی اب پتھر لگنے کا کوئی ڈر نہیں۔ سارا منظر نامہ بدل چکا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ اب بقا اسی احتیاط میں مضمر ہے، ہاتھ ملانا ہے کسی سے نہ گلے ملنا ہے۔ ایک دوسرے سے فاصلہ قائم رکھنا ہے۔ دیکھا جائے تو اسی تدبیر سے وائرس کو تنہا کر کے بے اثر کیا جا سکتا ہے۔ لاک ڈائون کا اقدام بہت پہلے ہو جاتا تو وائرس ناک ڈائون ہو چکا ہوتا۔ ہمیں اس سے جنگ نہ لڑنا پڑتی۔ بہرحال اس وبا نے لوگوں کو شعور ضرور بخشا ہے کہ دشمن کے خلاف یکجان اور صف آرا کیسے رہنا ہے۔ دشمن بھی ایسا کہ جو دکھائی نہیں دیتا مگر عقل تو اللہ نے انسان کو دی ہے۔ دوسری طرف اسے دل بھی دیا ہے کہ اپنے اعمال کے بارے میں سوچے، قدرت کی طرف سے عذاب اور وبال یونہی نہیں آیا کرتے۔ اب خیال آتا ہے کہ کشمیر کے مظلوم کن حالوں میں ہیں اور پوری دنیا کی بے حسی پتھروں کو شرماتی ہے۔ اب تو یقین آنے لگا کہ کوئی کہیں ہے کہ جس کی مرضی چلتی ہے اور وہاں کسی کی عرضی بھی چلے یا نہ چلے۔ جو بھی ہے میں بھی گھر میں بیٹھا ہوں اور اسلم کولسری کا شعر یاد آ رہا ہے حالانکہ یہ عید کا روز نہیں بلکہ وعید کا ہے: عید کا روز ہے کمرے میں پڑا ہوں اسلم گھر کے دروازے کو باہر سے مقفل کر کے کیا کیا جا سکتا ہے کہ بیوی سراپا احتجاج تھی کہ آپ باہر کیوں جاتے ہیں گھر پر نماز پڑھ لیں ۔ اپنا خیال رکھیے‘‘ واقعتاً یہ اپنا خیال رکھنا دوسروں کا خیال رکھنا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے بھی صاف صاف کہہ دیا ہے کہ ایسے میں نماز گھر پر پڑھ لیں کہ تدبیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ چلیے ہمارے شاعربشیر بدر نے بھی تو مشورہ دے رکھا ہے کہ ’’یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کسی شام گھر بھی رہا کرو‘‘ ویسے گھر بیٹھنا حکومت سے تعاون کرنے کے مترادف ہے کہ بیماری جتنی پھیلے گی حکومت کے لیے مشکل بڑھے گی۔ اکیلی حکومت کچھ نہیں کر سکتی۔ ہمیں ان کا ساتھ دینا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کا ضرورسوچنا ہے جو دیہاڑی دار اور مزدور ہیں۔ وہ جو ٹھیلہ وغیرہ لگاتے ہیں اور روزانہ کما کر گھر چلاتے ہیں۔ سچی بات ہے اس حوالے سے میں نے تو جماعت اسلامی والوں کو کچھ رقم جمع کروائی ہے مگر میں پھر بھی مضطرب ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ خود بھی ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر مدد کروں۔انشاء اللہ۔ فی الحال تو میں گھر پر مطالعہ وغیرہ کر رہا ہوں۔ پہلی مرتبہ ایسا ہے کہ میں تقریباً ساری نمازیں گھر پر ادا کرتا ہوں۔ شکر ہے عمران خان کو جلدی خیال آ گیا اور اس جلدی میں وہ پندرہ روز لے گئے۔ چلیے اچھا ہوا۔ انہوں نے 70لاکھ دیہاڑی داروں کو 3ہزار روپے ماہانہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ شاید اس میں بھی مراد علی شاہ کی تحسین کرنی چاہیے کہ خیال انہیں پہلے آیا۔ آرمی چیف نے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔ اس حوالے سے پاکستانی بہت فراخدل ہیں۔ انشاء اللہ وہ اپنے مجبور بھائیوں کے لیے اپنا دل بھی نکال کر رکھ دیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موجود کروشل صورت حال کو ہم سمجھیں۔ بلوچستان میں جیسے وزیر اعلیٰ خاندان سمیت پکنک پر ہیں۔ پہلی دفعہ مجھے پولیس اچھی لگی کہ انہوں نے آوارہ اور سیر سپاٹے کرنے والوں کو لبِ سڑک مرغے بنا رکھا ہے۔ یقینا اس سے سبق سیکھیں گے۔ فوج کو درست طلب کیا گیا ہے کہ لوگوں کو ڈسپلن صرف وہی سکھا سکتے ہیں۔ سب کو شہید ڈاکٹر اسامہ ریاض کے جدا ہونے کا دکھ ہوا کہ وہ مریض کو کرونا سے بچاتے ہوئے خود زندگی کی بازی ہار گیا۔ ظاہر انسانیت کے لیے شہید ہونے والے کا اجر اللہ کے پاس ہے۔ اللہ اس کے لواحقین کو حوصلہ دے۔ ڈاکٹر اسامہ ریاض ہمارا ہیرو ہے۔ وہ جوانی کی بھری بہار میں چمن چھوڑ گیا۔ اسے سلام۔ طارق چغتائی نے سب کو نصیحت کی ہے کہ: ایک دوجے سے دور ہو جائیں ایک دوجے کی زندگی کے لیے دیکھا جائے تو ہم کرونا سے دور ہونے کی جسارت کرتے ہیں۔ اس وقت دوست کو خود سے دور کرنا ہی اس پر احسان ہے اور وہ زیادہ خوش قسمت ہے کہ ایسے میں جسے صرف خدا یاد آیا اور خدا تو وہ جسے اپنے بندوں سے پیار ہے۔ جس سے پیار ہوتا ہے سرزنش بھی اسی کی ہوتی ہے۔ احسان دانش نے بھی تو کہا تھا ’’جس روز تم آ جائو گے حالات کی زد میں، کھل جائے گا تم پر کہ خدا ہے کہ نہیں ہے‘‘۔ یہ بھی درست ہے کہ مردوں کے لیے گھر میں ٹھہرنا آسان نہیں مگر مشکل کا حل بھی تو یہی ہے اچھا ہے کہ مردوں کو بھی اندازہ ہو کہ گھر کی مشقت کیا ہوتی ہے۔ کچھ دوست لکھ رہے ہیں کہ اب بیویوں سے بنا کے رکھنی ہے کہ اب آپ کو گھر کی کھانی پڑے گی۔ چلیے یہ موقع ملا تو گھر کے بچے بوڑھے سب مل بیٹھیں گے اور اجتماعی زندگی کی برکتیں بھی نظر آئیں گی۔ 14دن انشاء اللہ گزر ہی جائیں گے۔ ضرورت کی اشیا خریدنے جائیں تو کوشش کریں کہ ایک آدھ چکر ہی بازار کا لگے، اردگرد غریب پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں۔ ایسے میں ایک دوسرے کی مدد بھی ہو سکتی ہے۔ آپ گھر کے کام کاج میں بھی ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ پھر اخبارات ہیں، کتابیں ہیں اور نیٹ ہے۔ مصروفیت ہی مصروفیت مگر سب سے اچھی بات تو یہ کہ اس ابتلا میں آپ اللہ کی طرف یکسو ہوں۔ اس سے مغفرت طلب کریں، قرآن کا مطالعہ کریں۔ اس کو یاد کریں جو امید بخشتا ہے اور پھر اس میں رنگ بھر دیتا ہے۔ اصل میں امید ہی زندگی ہے اور اس مالک کا احسان، جس نے ہمیں یہ نعمت عطا کی ہے اور جس کا حق ہم ادا کر ہی نہیں سکتے۔ ایک اور بات کہ نعمت کی قدر کرنا احسان مندی ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم پر فرض ہے اور اس کا شکرانہ ہم پرقرض۔ آئیے ہم سب مل جل کر ایک قوم ہونے کا ثبوت دیں۔ اقبالؔ کے شعر پر بات ختم کرتے ہیں: فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں