ایک مذہبی جماعت کے احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ملک بھر کی شاہراہوں پر ٹریفک جام کی وجہ سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گزشتہ برس نومبر میں جب اس مذہبی جماعت نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ لے کر ملک بھر میں احتجاج شروع کیا تھا تو اس وقت حکومت نے معاملہ کو پارلیمنٹ میں لے جانے کا وعدہ کر کے احتجاج ختم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس مذہبی جماعت کی طرف سے حکومت سے معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونے پر احتجاج کی دھمکی دی گئی اور گزشتہ روز قیادت کے گرفتاری پر ملک بھر میں ایک بار پھر احتجاج اور سڑکیں بند کر دی گئیں۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ناموس رسالتؐ کسی بھی مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے اور مسلمان تحفظ ناموس رسالتؐ کے معاملے میں کٹ مرنے کے لیے تیار ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا بھر کے 55اسلامی ممالک میں فرانسیسی صدر کے بیان پر غم غصے کا اظہار توضرور ہوا مگر کسی بھی اسلامی ملک نے فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع نہیں کیے۔ حکومت کو بھی چاہیے تھا کہ جس پر عمل کرنا ممکن نہ تھا ایسا معاہدہ ہی نہ کرتی، دوسری طرف مذہبی جماعت کی قیادت کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے ملک میں جلائو گھیرائو اور سرکاری اہلکاروں پر تشدد کسی لحاظ سے بھی اسلام کی خدمت نہیں۔ بہتر ہو گا حکومت احتجاج اور دھرنا ختم کروائے تا کہ عوام کو آئے روز کی پریشانی سے نجات مل سکے۔