مشترکہ مفادات کونسل نے 2017 ء میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج منظور کرنے کے ساتھ نئی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔نئی مردم شماری کا عمل رواں سال ستمبر اکتوبر سے شروع ہوگا اور مارچ2023 ء تک مکمل کر لیا جائے گا۔پرانی مردم شماری کے نتائج کی سندھ نے مخالفت کی جبکہ بلوچستان نے مشاورت کے لئے وقت مانگا ہے ۔ 2017 ء کی مردم و خانہ شماری کے دوران مختلف نقائص سامنے آئے ۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار کو اداروں کے ساتھ بانٹنے سے اعداد و شمار کی رازداری کو نقصان پہنچا ہے۔مردم شماری کے عمل کی نگرانی پر مامور عالمی مبصرین کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق مردم شماری کے عمل کے آغازسے قبل تشہیری اور آگاہی مہم ناکافی تھی ۔ شمارکنندگان نے مذہب،قومیت، توانائی کے استعمال، پانی ،گھریلو سہولتوں اور خواندگی کے بارے میں سوالات پر قیاس آرائی سے کام لیا یاجواب سے متعلق شہریوں کو ہدایات دیں۔مبصرین کے مطابق شمارکنندگان نے معذوری اورخواجہ سرا ہونے سے متعلق محدودمعلومات پرنتائج اخذ کرلیے۔ رپورٹ کے مطابق مبصرین نے تفصیلی اوردیرپا تشہیری مہم کی ضرورت پر زور دیا ہے اگر ایسا ہوتا تو موصول ہونے والی شکایات میں کمی لائی جا سکتی تھی،مبصرین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ شمارکنندگا ن کو معاوضے کی ادائیگی میں تاخیرکی گئی۔ رپورٹ میں مردم شماری کے عمل میںفوج کی شمولیت کی بین الاقوامی سطح پرحمایت نہ ہونے کی بات کی گئی ،فوج کی جانب سے فارم 786 ایک مساوی مردم شماری کے مترادف ہے اوریہ بین الاقوامی سطح پرقابل قبول نہیں ہے تاہم ملک میں سکیورٹی مسائل کے باعث فوج کی مدد لینا ضروری ہوتا ہے ۔مبصرین کی جانب سے کہاگیاہے کہ اگرمردم شماری کو قانون سازی اورمردم شماری کے بنیادی اصولوں بشمول عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے توتمام مسائل کا فوری طورپرازالہ ضروری ہے۔ اس حوالے سے ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے عالمی مبصرین کو آزادانہ ماحول دیا ، جوڈیٹا بھی مرتب کیا گیا وہ شہریوں سے ملنے والے جوابات پرمبنی ہے، اگرجوابات قیاس آرائی یا ذاتی رائے پرمرتب کیے جاتے تو خواجہ سراؤں کی تعداد 10 ہزارنہ ہوتی۔پھر یہ کہ 1998ء کی مردم شماری میں بھی فوج کا فارم 786استعمال کیا گیا تھا اوراس کوعالمی اداروں نے تسلیم کیا تھا ۔ مردم شماری کے معاملے پر ہر صوبے کا موقف بسا اوقات دوسرے سے متصادم دکھائی دیتا ہے ۔رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بالعموم سیاسی جماعتوں کو خانہ و مردم شماری پر تحفظات نہیں لیکن بعض سیاسی قوتوں کو نقل مکانی کرنے والوں کی گنتی کے عمل پرتحفظات ہیں۔ بلوچستان میں قوم پرست حلقوں کو خدشہ ہے کہ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مقیم ہے اور اْنھوں نے پاکستانی دستاویزات حاصل کی ہوئی ہیں۔ اْن کے اندراج کی صورت میں بلوچ آبادی کا بڑا حصہ پشتون آبادی کے زمرے میں آجائے گا جس کا سیاسی اور سماجی دونوں لحاظ سے نقصان بلوچ آبادی پر پڑے گا۔جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے لگ بھگ 60 سے 70 ہزار افراد روزگار کے سلسلے میں بیرونی ممالک میں مقیم ہیں اور خطیر رقم زرِ مبادلہ کی صورت پاکستان بھیجتے ہیں لہذا اْنہیں بھی شمار کیا جائے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اْن کی غیر موجودگی میں اْن کے اہلِ خانہ کی مناسب نمائندگی نہیں ہو پاتی۔ صوبہ خیبرپختونخوا سے شدت پسندی یا پھر روزگار کے سلسلے میں ہر گھر سے کم از کم ایک فرد تو ملک سے باہر ہی ہے لیکن مطالبے کو عدالتوں یا متعلقہ حکام تک نہیں پہنچایا جاسکا۔البتہ صوبے کی سکھ برادری نے خود اپنے حق میں آواز اٹھائی اور اعتراض کیا تھاکہ مذہب کے خانے میں سکھ شامل ہی نہیں جبکہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بڑی تعداد میں سکھ موجود ہیں۔سندھ جیسے کثیر السانی صوبے میں شہری آبادی کو کم دکھانے پر ایم کیو ایم و دیگر شہری جماعتوں کو اعتراض ہے ۔تحریک انصاف سے اتحاد کے وقت سندھ کی شہری آبادی کی نمائندگی کی دعویدار جماعت نے پی ٹی آئی سے اتحاد کیا تو ساتھ شہری و دیہی آبادی کی تعداد درست نہ ہونے کی شکایت دور کرنے کا مطالبہ بھی کیاکہ دیہی سندھ کے شہروں گھوٹکی، لاڑکانہ اور شکارپور کی آبادیاں گزشتہ 19 سالوں میں تین سو اور چار سو فیصد بڑھ گئیں جبکہ سندھ کے شہری علاقوں کی آبادی صرف دو گنی ہوئی جو کہ غیر فطرتی اور غیر قدرتی بات ہے۔اِس کا ثبوت مردم شماری کے 'بلاک' کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔ قوم پرست جماعتوں یعنی جیئے سندھ قومی محاذ، قومی عوامی تحریک اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے لسانی یا سیاسی طور پر سابق مردم شماری پر اختلاف کا اظہار نہیں کیا۔ پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں اور قوم پرست جماعتیں اْن علاقوں میں مارکنگ اور مردم شماری کے عمل پر تحفظات ظاہر کرتی رہی ہیں جہاں صوبے اور وفاق میں حکمراں جماعت کی اکثریت نہیں تھی۔پیپلز پارٹی کچی آبادیوں میں ووٹروں کو تقسیم کرنے کی بات کرتی ہے لیکن جماعت نے اِس معاملے میں کوئی ثبوت یا دلیل پیش نہیں کی۔ سرائیکی بیلٹ اور جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کرنے والی قوم پرست جماعتوں کا مسئلہ اگلے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کے مطابق کرایا جانا ہے۔نئی مردم شماری کا اعلان ایک طرف حکومتی اتحادیوں کو مطمئن کر سکتا ہے دوسرا درست اعداد و شمار موثر سیاسی نمائندگی اور فعال منصوبہ بندی میں مدد دے سکتے ہیں۔