نوازشریف حکومت ،فوج تاریخی ہم آہنگی ختم کرنا چاہتے؛ اپوزیشن استعفے دیگی توضمنی الیکشن کرادیں گے :عمران خان

هفته 26  ستمبر 2020ء





اسلام آباد (سپیشل رپورٹر،92 نیوزرپورٹ،مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے اپوزیشن استعفے دے گی توضمنی الیکشن کرادینگے نوازشریف مایوس ہوچکے ،حکومت اور فوج کے درمیان موجودہ ہم آہنگی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے ، نواز شریف حکومت اور فوج کے درمیان اس تاریخی ہم آہنگی کو توڑناچاہتے ہیں،نواز شریف کھیل سے باہر ہو چکے ، نواز شریف کی پالیسی ہے نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ۔مجھے اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں،اپوزیشن کا ایجنڈاہے کہ میری حکومت اورفوج کولڑادیاجائے ۔ مختلف ٹی وی چینلزکے ڈائریکٹرزنیوزسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا نواز شریف کی اے پی سی میں فوج کیخلاف تقریر کی خوشیاں بھارت میں منائی گئیں،نوازشریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاس تھی،اخلاقی اعتبارسے نوازشریف کی تقریر دکھانی ہی نہیں چاہئے تھی،تقریرکی اجازت اسلئے دی کہ آزادی اظہاررائے کاشورمچ جاتا،نوازشریف امیرالمومنین بن کر اداروں کو کنٹرول کرناچاہتاہے ،موجودہ حکومت کرپٹ نہیں اسلئے فوج حمایت کرتی ہے ،اپوزیشن ضمنی انتخابات میں ایک سیٹ بھی نہیں لے سکے گی،یہ مولانا فضل الرحمان کو اسلئے ساتھ رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لوگ نہیں،پاک فوج ہمارے منشور کے مطابق پالیسیوں پر کام کرتی ہے ،چاہے افغانستان سے متعلق ہویابھارت سے متعلق، میری پالیسی چلتی ہے ،میں مانتا ہوں میری حکومت میں میڈیا سے رابطوں کا فقدان ہے ، میں نے پاکستان میں سب سے زیادہ سٹریٹ پاور استعمال کی ، مجھے سب سے زیادہ سٹریٹ پاور استعمال کرنے کا پتہ ہے ،ہماری کابینہ میں ایسے بھی وزرا ہیں جو اپنی طرف گول کردیتے ہیں،سیاسی جماعتوں میں نظم ضبط بنانا ممکن نہیں،ہر جماعت میں اختلاف رائے ہوتارہتاہے ،یوٹرن ہمیشہ ایک مقصدکیلئے ہوتاہے ،اپوزیشن کوتکلیف ہے فوج میری پالیسی پرچلتی ہے ۔فوجی قیادت کی ملاقاتوں کا مجھے پتہ ہوتا ہے ، جو فوجی قیادت سے چھپ کر ملتے ہیں ان کے بارے میں کیا کہوں، نواز شریف اور آصف زرداری کاکوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتا،’’ن‘‘ہو یا ’’ش‘‘ ہودونوں جماعتیں نہیں چل سکتیں اسیلئے جی ایچ کیوبھاگ کرجاتے ہیں،کرپشن پر کسی کواین آراونہیں دوں گا ،مشرف نے این آراودیکرغلطی کی تھی،اس غلطی کے نتیجے میں پاکستان میں 10سال میں لوٹ مارانتہاکوپہنچ گئی،میں نے مشرف کو این آر او دینے پر ہی چھوڑا تھا۔شوگر مافیاسے نمٹ رہے ہیں،جس طرح چینی کی قیمتیں بڑھیں ہم اس پرایکشن لے رہے ہیں، اگلے سال سے ملک میں چینی اورگندم کاکوئی مسئلہ نہیں ہوگا، آئندہ اسطرح مافیا کو چینی کی قیمتیں نہیں بڑھانے دیں گے ،18ویں ترمیم میں زرعی شعبہ صوبوں کو دیدیا گیا جو نہیں دینا چاہئے تھا،18ویں ترمیم نے نظام کو فریکچر کردیا، زندگی بچانے والی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو چکی تھیں،15سال سے جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھیں،اب قیمتیں بڑھائی ہیں تاکہ مارکیٹ میں سپلائی بہترہو گی،پاکستان کامستقبل روشن ہے ،2، 3سال میں پاکستان تمام مشکلات سے باہرآ جائیگا، پاکستان خوش قسمت ہے کہ چین ہمارا دوست ہے ،اچھی بات یہ ہے چین کوپاکستان کی اتنی ضرورت ہے جتنی پاکستان کوچین کی۔میرا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جس کے ہاتھ میں کشکول نہ ہو۔ملک میں مغربی فلموں کی وجہ سے فحاشی بڑھ رہی ہے ، جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں،ہمیں اپنی فلموں کے ذریعے فحاشی کیخلاف کلچرکو اجاگرکرنے کی ضرورت ہے ،بھارت گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہاہے ۔گیس کا بحران اس سال سخت اور آئندہ سال اس سے بھی سخت ہوسکتا ہے ، ہم مہنگی گیس نہیں خریدسکتے ،عوام کو گیس سے متعلق آگاہی دیناہوگی۔وزیراعظم نے افغان صدراشرف غنی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔اعلامیہ کے مطابق افغان امن عمل اور باہمی تعلقات مزیدمضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیراعظم نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی پختہ حمایت کا اعادہ کیا۔وزیراعظم نے کہا تمام افغان شراکت داروں کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان حکومت اور افغان عوام کی قیادت میں اجتماعی جامع سیاسی معاہدہ کیلئے ملکر کام کرنا چاہیے ۔ پاکستان افغان عوام کی جانب سے اپنے مستقبل کیلئے کئے جانے والے فیصلوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیراعظم نے افغانستان کے دورہ کی دعوت دینے پر صدر اشرف غنی کا شکریہ ادا کیا اور جلد دورہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔دریں اثناء وزیراعظم نے کہاعوام خصوصاً معاشرے کے کمزور طبقوں کو صحت کی معیاری سہولیات فراہم کرناحکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں قومی صحت کارڈ پروگرام کے تحت مستحقین کو صحت کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا غریب افراد کو صحت کی سہولیات کی فراہمی اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے ۔اجلاس میں خیبر پختونخوامیں قومی صحت کارڈ کی یونیورسل کوریج کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے وزیرِ صحت پنجاب کو ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کی طرز پر ابتدائی طور پر پنجاب کے دو بڑے شہروں میں یونیورسل کوریج کا اجرا کرنے پر غور کیا جائے ۔وزیراعظم سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں عوامی مفادات کے تحفظ کیلئے زیرغور قانون سازی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے کہاآئین و قانون کے تحت عوام کے حقوق کے تحفظ اور فراہمی میں مقننہ کا اہم ترین کردار ہے ، عوام کے حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین میں اصلاحات یا ترامیم کیلئے بھر پور کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ عوامی مفاد کے حوالے سے دیگر پارلیمانی پارٹیوں کو قانون سازی کے عمل میں ساتھ لیکر چلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم سے معاون خصوصی نوجوانان عثمان ڈار نے ملاقات کی۔ملاقات میں ٹائیگرفورس کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں پر مشاورت کی گئی۔وزیراعظم نے نوجوانوں کا کنونشن بلانے کی ہدایت کردی۔وزیراعظم ٹائیگرفورس رضاکاروں کیلئے آئندہ روڈمیپ کا اعلان کریں گے ،وزیراعظم ٹائیگر فورس کے رضا کاروں میں خصوصی اسناد بھی تقسیم کریں گے ۔ وزیراعظم سے وزیر تعلیم بلوچستان سردار یارمحمد رند نے ملاقات کی ۔ملاقات میں بلوچستان کی مجموعی صورتحال، سیلاب سے متاثرہ علاقوں بشمول نصیر آباد میں بحالی کے اقدامات، میگا ترقیاتی منصوبوں، سکلیجی ڈیم پر پیشرفت اور پارٹی کے حوالے سے امور پر تفصیلی تبادلہ کیا گیا ۔ وزیراعظم نے کہا بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں