نریندر مودی کو اپنی مرضی کا بھارت بنانے کے لئے مطلوبہ اکثریت مل گئی۔ زیادہ تر اندازے تو یہی تھے کہ الیکشن بی جے پی ہی جیتے گی لیکن اکثر کا خیال تھا کہ پہلی جیسی اکثریت نہیں ملے گی اور مودی ایک کمزور مخلوط حکومت بنائیں گے لیکن انہیں تو شاید اپنی توقع سے بھی زیادہ سیٹیں مل گئیں اور کانگریس مزید پیچھے چلی گئی۔ اکیلی بی جے پی نے 543 کے ایوان میں تین سو سے زیادہ سیٹیں لے لی ہیں۔ اتحادیوں کو ملا کر 350سے بھی زیادہ۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ آئینی ترمیم کر کے بھارت کاسیکولر تشخص ختم کر دیں گے اور اسے ہندو راجیہ بنا دیں گے۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وہ ترمیم کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دیں گے جس کے تحت کشمیر میں باہر سے آ کر لوگ آباد نہیں ہو سکتے۔ یہ حیثیت ختم ہونے کے کچھ ہی برسوں اور ڈیمو گرافی بدل جائے گی اور مقبوضہ وادی میں مسلم اکثریت‘ اقلیت میں بدل جائے گی۔ اس وقت پوری مقبوضہ ریاست کی آبادی ایک کروڑ25لاکھ ہے اور 68فیصد مسلمان ہیں۔ یعنی کل 90لاکھ مسلمان اور 35لاکھ غیر مسلم ہیں۔ صرف پچاس لاکھ لوگ باہر سے لا کر آباد کرنے سے کشمیر کی مسلم حیثیت ختم ہو جائے گی۔ یہ بھارت کی واحد ریاست ہے جس کی ریاستی زبان ’’اردو‘‘ ہے۔ بی جے پی اسے بھی ہندی بیلٹ بنا دے گی۔ بھارت کو اس کام سے کون باز رکھ سکتا ہے‘ صرف اسلامی کانفرنس کا ادارہ جو آج کل ہماری نہ سننے کے برابر سنتا ہے اور بھارت کے لئے ہمہ تن گوش ہے۔ 550 کے ایوان میں مسلمان امیدوار اس بار صرف 22کی تعداد میں آئے ہیں۔22کروڑ کے لگ بھگ مسلمان آبادی ہے یعنی فی کروڑ ایک نمائندہ۔ تاریخ کی یہ سب سے کمتر تعداد ہے۔ آبادی کے تناسب سے ان کی سو سے زیادہ سیٹیں بنتی ہیں۔ بی جے پی نے جن مسلمانوں کو ٹکٹ دیئے ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہوا دراصل اس نے صرف ان سیٹوں پر مسلمان کھڑے کئے جہاں وہ جیت بھی نہیں سکتی تھی۔ مسلمان بہت خوف میں ہیں۔ پچھلے پانچ سال ان کے لئے ڈرائونا خواب تھے لیکن اس امید کے ساتھ کہ مدت پوری ہونے پر یہ خواب ختم ہو جائے گا۔ بی جے پی دوبارہ شاید نہ جیت سکے لیکن اب لگتا ہے ان کا خوف دو چند ہو گیا ہے۔ بی جے پی میں جرائم پیشہ افراد کی بہت بڑی تعداد شامل ہو گئی ہے جن کا نشانہ کمزور ہوتے ہیں اور بھارت میں کون کمزور ہے؟ سب سے زیادہ مسلمان‘ پھر دلت ‘ پھر عیسائی، سکھ پھر بھی اچھے رہے کہ ان کی 90فیصد آبادی ایک ہی علاقے میں مرتکز ہے۔ ان کے اپنے صوبے میں ان پر وہ قہر نہیں ڈھائے جا سکتے جو بکھری ہوئی مسلم اقلیت پر ڈھانے بالکل آسان ہیں۔ سب سے زیادہ ڈر یو پی کے مسلمانوں میں ہے‘ پھر گجرات‘ مہاراشٹر اور بہار میں۔ ٭٭٭٭٭ مودی نے الیکشن سے پہلے کئی بار یہ دعوے اور وعدے کئے کہ وہ پاکستان سے امن چاہتے ہیں۔ یہی بات پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں بھی کہتے ہیں۔ مودی منتخب ہو کر ‘ وہ بھی بھاری اکثریت سے حکومت میں آئے ہیں۔ اب دونوں لیڈروں پر ہے کہ وہ کیسے امن کا وعدہ پورا کرتے ہیں۔ قضیہ کشمیر تو قضیٰ ماقضیٰ ہوا‘ یوں اب آگے بڑھنے میں آسانی ہو گئی۔ الا یہ کہ کوئی کپواڑہ ‘ کوئی پلوامہ نہ ہو جائے۔ پلوامہ کے واقعے اور مابعد کی صورتحال‘ بالا کوٹ پر حملے‘ ایف 16مار گرانے کے جھوٹے سچے دعوئوں نے بی جے پی کے لئے غیبی امداد کا کام دیا۔ بھارتی پریس بتا رہا تھا کہ پائلٹ ابھی نندن کی تصویر بی جے پی کی انتخابی مہم کا حصہ تھی۔ عمران خاں کا کہنا تھا کہ بی جے پی کی جیت سے امن کا راستہ ہموار ہو گا۔ خدا کرے ان کی یہ ایک بات‘ کم سے کم ایک بات تو سچ نکلے۔1965ء سے پہلے تعلقات کی جو سطح تھی وہ بحال ہو۔ دونوں ملکوں کی معیشت بہتر ہو اور ہمیں اندازہ ہے کہ معیشت کو بہتر بنانا بھارت کی ضرورت کم‘ ہماری زیادہ ہے۔ بھارت کی معیشت پہلے ہی بہت بہتر ہو چکی ہے۔ خط غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد دن بدن کم ہو رہی ہے‘ ہمارے ہاں تو کمال برق رفتاریسے بڑھ رہی ہے۔ وسط ایشیا سے بنگلہ دیش کا تجارتی روٹ سارے خطے کے لئے بالعموم‘ ہمارے لئے بالخصوص زندگی کی نوید لا سکتا ہے۔ پاک چین کاریڈور(سی پیک) تو خیر سے‘ حسب ایجنڈا‘ معطل اور مفلوج بھی ہو چکا۔ ٭٭٭٭٭ دونوں ملکوں کے شہریوں کی آمدورفت کا دائرہ بڑھانا بھی پاکستان کی زیادہ ضرورت ہے جس کی دو وجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ بھارتیوں کے جتنے رشتے دار پاکستان میں ہیں‘ ان سے کہیں زیادہ پاکستانیوں کے بھارت میں ہیں۔ چار کروڑ تو صرف اردو بولنے والے مہاجر ہیں جن کے عزیز و اقارب بھارت کے بڑے حصے‘ بالخصوص یو پی‘ ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں آباد ہیں۔ دوسری وجہ مذہبی زیارت گاہیں ہیں۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ خواجہ معین الدین چشتی اور خواجہ نظام الدین اولیا کی درگاہوں پر جانے کی حسرت رکھتے ہیں۔ بھارتی ہندوئوں کے لئے پاکستان میں ایسا کوئی خاص مقام نہیں۔ ہاں‘ سکھوں کے مقدس مقامات بہت ہیں لیکن اچھی بات ہے کہ سکھوں کے آنے جانے میں دونوں طرف سے کوئی خاص رکاوٹ نہیں اور سکھ اس صورتحال پر خوش ہیں۔ بھارت میں محض درگاہیں ہی نہیں ہیں۔ مسلمانوں کے تمام فرقوں کے بنیادی مذہبی مراکز(بریلی شریف‘ دیو بند‘ بنارس‘ لکھنو‘) بھارت ہی میں ہیں۔ دونو ملکوں کے تعلقات کی خرابی سے دونوں طرف کے علمائے کرام اور مشائخ کا رابطہ بھی کٹ گیا ہے۔ بھارتی مسلمان مذہبی طور پر بھی محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اچھے تعلقات اور امن کے دور کی بدولت ان کا یہ محاصرہ بھی نرم ہو گا۔ اب جبکہ دہشت گرد تنظیموں کا گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ امن کے لئے پیشرفت آسان ہو جانی چاہیے۔