اسلام آباد ( وقائع نگارخصوصی)پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی وزارتوں ،ڈویژنوں اور محکموں میں تین سال سے زائد ایک ہی آسامی اور سٹیشن پر تعینات افسران کے ٹرانسفر کی سفارش کردی، کنوینر کمیٹی نے ہدایت کی ہے کہ تمام وفاقی ادارے اور خود مختار ادارے پی اے سی کے احکامات پر عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں ۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس گزشتہ روز کنوینر نورعالم خاں کی سربراہی میں ہوا ۔ کنوینر نے وزارت مواصلات کے سیکرٹری کو احکامات دیئے کہ وزارت اور اسکے ماتحت ذیلی اداروں کے افسران پی اے سی یا پارلیمنٹرینز کو تبادلے رکوانے کیلئے سفار ش نہ کرائیں ورنہ انکے خلاف انضباطی کارروائی ہوگی ۔ سیکرٹری مواصلات شعیب صدیقی نے بتایاکہ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کی روشنی میں این ایچ اے نے 5سال سے تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ صرف این ایچ اے میں تعینات خواتین اور آئی ٹی ایس افسران کو مستثنیٰ قراردیا گیا ۔ کنوینر نے کہا کہ این ایچ اے سمیت وفاقی وزارتوں اور اس کے ماتحت اداروں میں تین سال سے زائد ایک ہی سٹیشن پر تعینات گریڈ 17سے 22کے افسران کے تبادلے کردیئے جائیں ۔بعدازاں کمیٹی کا اجلاس کمیٹی روم نمبر 2کی بجلی ٹرپ کرجانے کے باعث ملتوی کردیا گیا ۔ سی ڈی اے عملہ نہ ہونے کے باعث گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے باوجود بجلی بحال نہ ہوسکی ۔ کنوینر کمیٹی نے آڈٹ حکام کو آئیسکو اور سی ڈی اے کے خلاف پرفارمنس آڈٹ کا پیرا بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کر لی۔ ذیلی کمیٹی آج سی ڈی اے کے آڈٹ اعتراضات کو نمٹائے گی۔