سانحہ اے پی ایس پشاور سکیورٹی کی ناکامی، سپریم کورٹ کے حکم پر جوڈیشل انکوائری رپورٹ پبلک

هفته 26  ستمبر 2020ء





اسلام آباد (92 نیوز رپورٹ،خبر نگارخصوصی،خبر نگار)سانحہ اے پی ایس سکیورٹی لیپس تھا، سپریم کورٹ کے حکم پر جوڈیشل کمیشن نے سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور سے متعلق رپورٹ پبلک کر دی۔ رپورٹ 525 صفحات اور 4 حصوں پر مشتمل اورکمیشن کے سربراہ جسٹس محمد ابراہیم خان نے مرتب کی ۔ رپورٹ میں سکول کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے گئے جبکہ دھمکیوں کے باوجود سکیورٹی گارڈز کی کم تعداد اور درست مقامات پر عدم تعیناتی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ افغانستان سے دہشتگرد ممکنہ طور پر مہاجرین کے روپ میں سکول کے عقب سے بغیر کسی مزاحمت داخل ہوئے ،دہشتگردوں نے گاڑی کو آگ لگا کر گشت پر مامور اہلکاروں کو دھوکہ دیا اور سکول میں داخل ہوئے ۔ دھماکوں اور شدید فائرنگ سے سکیورٹی گارڈز پریشانی کا شکار تھے ، دہشتگردوں کو مقامی افراد کی طرف سے ملنے والی سہولت کاری ناقابل معافی ہے ، کوئی ایجنسی ایسے حملوں کا تدارک نہیں کر سکتی بالخصوص جب دشمن اندر سے ہو۔دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے سانحہ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں کو پس پشت ڈالا، المیہ ہے چھوٹے لوگوں کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے ، بڑوں سے کچھ پوچھا نہیں جاتا، یہ روایت ختم ہونی چاہئے ، وہ لوگ جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے انہوں نے حاصل کیا، سکیورٹی اداروں کواس سازش کی اطلاع ہونا چاہئے تھی۔ چیف جسٹس نے 16 دسمبر کو پشاور میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت بھی قبول کرلی۔اسلام آباد سے خبر نگار خصوصی کے مطابق جوڈیشل انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر سکیورٹی گارڈز مزاحمت کرتے تو شاید اتنا جانی نقصان اتنا نہ ہوتا، غداری سے سکیورٹی پر سمجھوتہ اور دہشتگردوں کا منصوبہ کامیاب ہوا، اپنا ہی خون غداری کر جائے تو نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں، نیکٹا نے عسکری مراکز، حکام اور انکی فیملیز پر حملوں کا عمومی الرٹ جاری کیا، نیکٹا الرٹ کے بعد فوج نے دہشتگردوں کیخلاف کارروائیاں شروع کیں لیکن سانحہ اے پی ایس نے فوج کی کامیابیوں کو پس پشت ڈالا۔ سپریم کورٹ نے سانحہ سے متعلق اٹارنی جنرل کے رپورٹ پرکمنٹس بھی پبلک کرنے کا حکم دیا، سماعت کے دوران شہدا کے والدین نے کہا سانحہ آرمی پبلک سکول ٹارگٹ کلنگ ہے ۔جسٹس فیصل عرب نے کہا اس کیس کو ہم چلائیں گے ۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پوری قوم کا دکھ ہے ۔چیف جسٹس نے کہا حکومت کو ایکشن لینا چاہئے کہ ایسے واقعات نہ ہوں، اتنی سکیورٹی میں بھی عوام محفوظ نہیں،عدالت نے سماعت ایک ماہ تک ملتوی کرتے ہوئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ اورحکومت کے جواب کی کاپی شہدا کے والدین کو فراہم کرنے کا بھی حکم دیدیا۔ این این آئی کے مطابق اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا واقعہ میں ملوث لوگ گرفتاربھی ہوئے اورانہیں سزابھی دی جاچکی ہے ،یہ بھی حقیقت ہے ہم متاثرہ والدین کیساتھ آنکھیں نہیں ملاسکتے ۔ عدالت نے امان اﷲ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کرکے حکومت کو کمیشن رپورٹ پر لائن آف ایکشن بنانے کا حکم دیدیا۔خبرنگارکے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے اٹارنی جنرل سے کہا کس کی غفلت کی وجہ سے واقعہ ہوا، کس نے معلومات نہیں دیں، پتا چلانا چاہئے ۔امان اللہ کنرانی نے کہااگر کورونا میں ریلیف پیکج دیا جا سکتا ہے تو شہدا کے والدین کی بھی مدد ہونی چاہئے ، شہدا کے والدین نے کہاسپریم کورٹ اوپر والوں کو پکڑے ، نیچے سب ٹھیک ہوجائے گا،منصوبہ بندی کے ساتھ بچوں کو ایک ہی ہال میں جمع کیا گیا، واقعہ دہشت گردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنگ تھا۔ سانحہ کی تحقیقات کیلئے قائم کمیشن نے اپنی کارروائی مکمل کرنے کے بعد جولائی 2020 میں سربمہر رپورٹ عدالت عظمی کو بھجوائی تھی،کمیشن نے سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کئے گئے ،101 گواہان اور 31 پولیس، آرمی اور دیگر افسران کے بیانات بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہمارا ملک دہشگردی کے خلاف جنگ میں برسرپیکار رہا، اس دوران ملک میں دہشتگردی اپنے عروج پر پہنچی اس کے باوجود ہماری حساس تنصیبات یا سافٹ ٹارگٹس پر ہونے والے حملوں کو جنگ کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا، ہمارا شمال مغربی بارڈر بہت وسیع اور غیر محفوظ ہے ، شمال مغربی بارڈر سے حکومت اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت مہاجرین کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ سکول کے پیچھے گشت پر موجود فورس جلتی ہوئی گاڑی کی جانب چلی گئی، سکیورٹی فورسز کا دوسرا دستہ بروقت سکول کی حفاظت کو نہ پہنچ سکا، دوسرا دستہ ریپڈ رسپانس فورس اور کوئیک رسپانس فورس کے آنے تک دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام رہا، نتیجتاً اندوہناک سانحہ رونما ہوا۔ سکیورٹی پر مامور گارڈز کی صلاحیت دہشتگردوں کو روکنے کے لیے ناکافی تھی، کوئیک رسپانس فورس اور ایم وی ٹی۔2 کے اہلکاروں نے بچوں کے بلاک کی طرف بڑھتے ہوئے دہشتگردوں کی پیشرفت کو روکا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں