BN

سینٹ: اپوزیشن کا ملک گیر بلیک آئوٹ پر عمرایوب سے استعفے، حقائق سامنے لانے کا مطالبہ

بدھ 13 جنوری 2021ء





اسلام آباد(نامہ نگار)سینٹ اجلاس میں اپوزیشن نے بجلی کے ملک گیر بلیک آؤٹ کے اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا نوازشریف اتنے اچھے تھے تو آج وہ اور ان کے بچے اشتہاری کیوں ہیں۔ وفاقی وزیر علی محمد خان نے کہا کہ نواز شریف کو سپریم کورٹ اور اداروں پر اعتماد نہیں تو بھارتی سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر دیں۔سینیٹ اجلاس کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا جس میں حکومت کی جانب سے پارلیمان اورصوبائی حقوق کو سلب کرنے کے بارے اپوزیشن کی تحریک پربحث ہوئی ۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت پر کڑی تنقید کی۔میاں رضا ربانی نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پارلیمان مرچکی ہے ، بجلی کے بلیک آؤٹ کے اصل حقائق سامنے آنے چاہئیں اورمتعلقہ وزیرعمرایوب کو مستعفی ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے مگر مچھوں کو چھوڑ دیا گیا، چھوٹے ملازمین کو برطرف کردیا گیاموصوف وفاقی وزیر نے ایوان میں آکر بات ہی نہیں کی،حکومت کے کان پر تو جو نہیں رینگی مگر اس معاملہ کو سینٹ کی متعلقہ کمیٹی کو بھیجا جائے ۔مسلم لیگ ن کے سینیٹرپرویزرشید نے کہاکہ برطانوی عدالت کے حکم پرپاکستان کے لندن کے بینکوں سے سات سو کروڑ روپے براڈ شیٹ کمپنی کوادا کئے گئے ہیں۔ پرویز رشید کا چیلنج دیتے ہوئے کہنا تھاحکومتی لوگوں کے ساتھ کسی بھی شہر کے بازار جانے کو تیار ہوں، سرکاری ٹی وی کیمرے پر لوگوں سے پوچھیں گے اشیا ماضی کے مقابلے میں مہنگی ہیں یاسستی؟ جو جواب آئے گا وہ سرکاری ٹی وی پر چلایا جائے ۔ حکومتی سینیٹرز نے کہاکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے اپنے اپنے ادوار میں ایک دوسرے کی حکومتوں کو ختم کرنے کے لئے سازشیں کیں اور آج ایک چھتری تلے جمع ہوگئے ہیں۔وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے پارلیمنٹ اورصوبوں کے حقوق غصب کرنے کے بارے میں اپوزیشن کے الزامات کومستردکردیا۔ سینیٹ میں وفاقی وزیر مراد سعید نے اپوزیشن جماعتوں کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ان کیمرہ این آراومانگتے ہیں،اپوزیشن کو آئین کو پڑھ کر جزائر پر بات کرنی چاہیے ،براڈ شیٹ کمپنی کو اثاثے چھپانے پر رشوت کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے ٹھکرا دی۔ اجلاس جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں