BN

اپوزیشن کو میثاق معیشت کی پھرپیشکش، قومی مفاد ضد کی بھینٹ نہ چڑھائیں: وزیراعظم

اتوار 14  اگست 2022ء





اسلام آباد (سپیشل رپورٹر؍مانیٹرنگ ڈیسک؍ نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر میثاق معیشت کی پیش کش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی آزادی کے بغیر آزادی کا تصور ناممکن ہے ،وقت کا تقاضا ہے اب ہم بحیثیت قوم درست سمت میں اپنے سفر کو جاری رکھیں،نئی نسل کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ حقدار ہیں،قوم کو مایوسی کے ایک بحران کا سامنا ہے ، انتشار اور نفرت کے بیچ بوئے جا رہے ہیں، قوم کو تقسیم در تقسیم، اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پچھلی حکومت کے پیدا کردہ معاشی بحران نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا، آج مالی محتاجی جیسے ہماری قومی شناخت بن گئی ہے ،قومی مفاد کو ذاتی انا، ضد اور ہٹ دھرمی کی بھیٹ نہ چڑھنے دیں، سادگی کو اپناتے ہوئے خودار قوموں کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کریں گے ۔ہفتہ کو سر کاری ٹی وی اور ریڈیو پاکستان پر قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے لہو سے لکھی گئی داستان کا عنوان پاکستان ہے ، ہم ہر سال بڑی دھوم دھام سے یوم آزادی، یوم پاکستان، یوم قائد اور یوم علامہ اقبال منایا جاتا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ پچھلے 75 برسوں میں ہم نے ان دونوں کو محض منایا ہے مگر ان کے اصل مقاصد کو اپنایا نہیں۔وزیر اعظم نے کہااسی لئے یوم آزادی کے موقع پر میرا دل مسرور بھی ہے اور بے چین بھی، آج ہمیں کھلے دل سے اس سچائی کا اعتراف کرنا ہوگا کہ ہم نئی نسل کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ اصل میں حقدار ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے مختصر وقت میں ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لئے دن رات محنت کی جو اب بھی جاری ہے جس کی وجہ سے پاکستان معاشی طور پر دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔انہوں نے کہا کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ پچھلی حکومت نے کس کے اشارے پر سی پیک کے منصوبوں کو بند کرکے پاکستان کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، کیا یہ ہے حقیقی آزادی۔انہوں نے کہا ہم نے تہیہ کیا ہے کہ پاکستان کو معاشی خودانحصاری کے راستے پر لے کر جائیں گے ، اسی لئے اپوزیشن لیڈر کے طور پر میثاق معیشت کی پیش کش کی تھی اور بطور وزیراعظم آج ایک بار پھر خلوص دل سے اس کی پیش کش کررہا ہوں۔شہباز شریف نے کہا ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حقیقی سیاسی قیادت الیکشن پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل پر نظر رکھتی ہے ، ہمارا سامنا بے رحم حقائق سے ہے ، جن کا مقابلہ ہم قومی اتفاق رائے ، پالیسیوں کے تسلسل، معاشی اور سیاسی استحکام سے ہی کرسکتے ہیں، سب سے بڑھ کر ہمیں خودی، خوداری اور خود اعتمادی کے اسی جذبے کو زندہ کرنا ہے جس نے پاکستان بنایا تھا۔علاوہ ازیں وزیراعظم نے بلوچستان میں آنے والے سیلاب اور بارشوں کے باعث نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) اور بلوچستان حکومت کو امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں کے حوالے سے فوری طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعظم نے قلعہ سیف اللہ میں سیلاب سے دو بند ٹوٹنے اور نقصان کے مکمل تخمینے کے بعد رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے ہدایت دیتے ہوئے کہا سیلاب میں پھنسے لوگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے ، سیلاب متاثرین کی رہائش کیلئے خیمہ بستیاں اور کھانے پینے کی اشیاء کا فوری انتظام یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے قلعہ عبد اللہ سمیت بلوچستان بھر میں ہونے والی حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ قوی امکان ہے شہباز شریف جلد ضلع قلعہ عبد اللہ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے ۔مزیدبرآں وزیراعظم نے ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ 68 سال بعد ہمارے قومی ترانے کے عظیم الفاظ اور ساز نئے انداز میں قوم کی آواز بننے جا رہے ہیں، اس خوبصورت پیشکش اور ان تاریخی لمحات کو پاکستانی قوم کے نام کرتا ہوں، وزارت اطلاعات، سٹیرنگ کمیٹی، آئی ایس پی آر سمیت پوری ٹیم کو شاباش۔ پاکستان زندہ باد۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں










اہم خبریں