لاہور(نیوز ایجنسیاں )احتساب عدالت لاہور کے ایڈمن جج جواد الحسن نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرتے ہوئے 26جون کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔ احتساب عدالت نے حمزہ شہباز کیخلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کی۔جج نے پوچھا ملزم کہاں ہے ،کیا عدالت میں موجود ہیں۔حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا وہ کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔عدالت نے پوچھا کیا حمزہ شہباز کو ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی گئیں۔نیب پراسیکیوٹر نے کہاانہیں گرفتاری کی وجوہات فراہم کی گئی ہیں۔نیب کے تفتیشی افسر حامد جاویدبتایا حمزہ شہباز کے بینک اکاؤنٹس سے مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں، 2003 میں ان کے اثاثے سوا 2 کروڑ روپے تھے جبکہ 2005 سے 2007 تک انہوں نے اپنے اثاثے ظاہر نہیں کئے ۔2009 میں ان کے اثاثے بڑھ کر 21 کروڑ ہوگئے ، انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیسے کس نے بھیجے اور کن ذرائع سے کمایا۔ جب بھی اس بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا اس سوال کا جواب عدالت میں دونگا۔ حمزہ شہباز 9 کال اپ نوٹسز کے نتیجے میں صرف 5 مرتبہ پیش ہوئے ،ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ چاہیئے ۔حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے کہا نیب نے میرے موکل سے جو بھی سوالات کیے ان کے جوابات دے دئیے گئے ، انہوں نے اپنے تمام اثاثے بھی ظاہر کئے ہیں،نیب قوانین کے مطابق ملزم کو گرفتاری کی وجوہات اور ثبوت فراہم کیے بغیر گرفتار نہیں کیا جا سکتا،موکل سب سے بڑے صوبے کے قائد حزب اختلاف ہیں اور ان کی گرفتاری میں بنیاد حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے ۔امجد پرویز نے منی لانڈرنگ کے الزام کو لطیفہ قرار دیتے ہوئے کہا لوگوں کو نیب کا یہ لطیفہ سچ لگنے لگا ہے ۔جس مواد پر نیب انحصار کر رہا ہے آج تک ملزم کو نہیں دیا گیا، اگر ہمارے پاس وہ مواد ہی موجود نہ ہو تو اپنا دفاع کیسے کریں، آج تک ایسا کیس نہیں دیکھا جس میں ملزم کا ریمانڈ لیا جائے مگر شواہد نہ دیئے جائیں۔نیب نے پہلے 85 ارب کا الزام لگایا، اب 18 کروڑ کہہ رہی ہے ۔نیب کہتی ہے 2005 سے 2009 تک منی لانڈرنگ کی، اس دور میں بعض اوقات حمزہ شہباز کو شہر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔حمزہ شہباز کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ۔ پولیس نے سول سیکرٹریٹ کے باہر کنٹینرز لگا کر راستوں کو بند کیا اور لیگی کارکنوں کو سول سیکرٹریٹ تک محدود رکھا گیا۔لیگی رہنما اور کارکن حمزہ شہباز کے حق میں اور حکومت او رنیب کے خلاف نعرے لگاتے رہے ۔لیگی رکن صوبائی اسمبلی رخسانہ کوثر اور لیڈیز پولیس کے درمیان تکرار ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی۔صباح نیوز کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں نے رخسانہ کوثر کو تشدد کا نشانہ بنایا۔عدالت کے احاطے میں موجود افراد نے بیچ بچاؤ کرایا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے عطا تارڑ اورعظمیٰ بخاری کو کمرہ عدالت میں جانے سے روک دیا۔