BN

اسلام آباد: ہندو کمیونٹی کا بھارت میں 11پاکستانیوں کے قتل کیخلاف دھرنا رات گئے ختم؛ قرار دادبھارتی ہائی کمیشن کے باہرچسپاں

هفته 26  ستمبر 2020ء





اسلام آباد ( خبر نگار خصوصی، وقائع نگار، مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں11پاکستانی ہندوؤں کے قتل کے خلاف پاکستان ہندو کونسل کے زیر اہتمام اسلام آبادمیں شاہراہ دستور پر احتجاج اور دھرنا دیا گیا جو رات گئے ختم کر دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ رمیش کمارایم این اے کی سربراہی میں ملک کے مختلف حصوں سے بڑی تعداد میں ہندو برادری کے ارکان کا کارواں گزشتہ رات اسلام آباد پہنچا۔دھرنے کے شرکا نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی۔ انہوں نے بھارتی حکومت سے المناک واقعے کی شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے ۔ رمیش کمار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 8 سال سے رہنے والے لوگ جب بھارت کے لیے جاسوسی میں استعمال نہیں ہوتے تو انھیں قتل کیا جاتا ہے ۔ ہمارا ہدف سڑک بند کرنا نہیں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دینا تھا۔ہم بھارت کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم پاکستانی اپنے شہریوں کے حقوق کیلئے لڑنا جانتے ہیں۔ وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی چودھری فواد حسین نے بھی گزشتہ روز احتجاج میں شرکت کی۔فوادنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاجودھ پورمیں پاکستان کے شہریو ں کا ناحق خون بہا، بھارت اس کا جواب دے ، پاکستان کی ہندو برادری کے ساتھ یکجہتی کیلئے یہاں آیا ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام ہمسائے چین، بنگلہ دیش، نیپال، پاکستان ، مودی کے بھارتی شیطانوں سے متاثر ہیں۔ فواد نے کہا کہ ہندو خاندان کی ایک بیٹی نے کہا پاکستان کے خلاف بیان دینے اور جاسوسی کرنے پر مجبور کیا گیا، انکار پر پورے خاندان کو قتل کیا گیا۔رات گئے اسلام آباد میں پاکستان ہندو کونسل نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا،ڈاکٹر رمیش کمار نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا،پاکستان ہندوکونسل کے مظاہرین نے قرار داد بھارتی ہائی کمیشن کے باہرچسپاں کردی،رمیش کماراورمتاثرہ خاندان کی خاتون مکھی دیوی نے قراردادگیٹ پرچسپاں کی،ڈاکٹررمیش کماراورمظاہرین واپس ڈپلومیٹک انکلیو سے باہر آگئے ،ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا پاکستان ہندو کونسل نے پرامن انداز میں اپنا احتجاج کیا۔

 

 



آپ کیلئے تجویز کردہ خبریں