لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہاہے کہ 1400 سال ہوگئے ، واقعہ کربلا کل کی بات لگتا ہے ،افسوس کہ ہم نے گریہ پر زیادہ توجہ دی، اصل بات کو بھول گئے ۔پروگرام مقابل میں گفتگو کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا بڑی خبر یہ ہے کہ چاروزارتوں میں تبدیلی کا امکان ہے ، فردوس عاشق ا عوان کی جگہ بابراعوان لے سکتے ہیں، فواد چودھری کی وزارت بہتر ہوسکتی ہے ، وزیر داخلہ اوروزیر قانون کی وزارت تبدیل ہوسکتی ہے ، ابھی مشورے ہورہے ہیں، فیصلہ نہیں ہوا۔ ا نہوں نے کہا عثمان بزدار کہیں نہیں جارہے ہیں۔ ا نہوں نے کہاکہ بڑی خبر یہ ہے کہ چین 250 ارب ڈالر ایران میں انویسٹ کرنا چاہتا ہے جس سے خطے میں بہت بڑا انقلاب آئے گا۔ ہارون الرشید نے کہا افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان مذاکرات کا دروازہ بند ہوگیا ہے اورکئی ما ہ تک کھلے گا نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ نوازشریف کی ڈیل ہوگئی ہے لیکن یہ غلط ہے ،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوازشریف علاج کیلئے باہرجاناچاہتے ہیں تاہم شرائط مانیں گے تو جائیں گے ،اسکے حوالے سے فارمولا یہ ہے کہ نوازشریف چلے جائیں اورسیاست چھوڑدیں اورپیسے دے دیں لیکن نوازشریف یہ کیوں مانیں گے ؟ ساری پارٹی مان گئی ہے لیکن محمدزبیر، طلال چودھری ، خرم دستگیر ا ورپرویز رشید نہیں مان رہے ، یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈیل نہیں ہونی چاہئے تاہم بات جاری ہے اوروقفے وقفے سے جاری ہے ،شاہد خاقان عباسی نے بھی خط لکھ دیا ہے ،وہی وہ آدمی ہوں گے جو پارٹی کولیڈ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا تازہ ترین سروے کے مطابق نوازشریف کی مقبولیت میں اڑھائی فیصد اضافہ ہوا ،اپوزیشن اس وقت کا انتظار کررہی ہے کہ عمران خان ناکام ہوجائے اورعمران خان نے اپنی ناکامی کا تمام تربندوبست کرلیا ہے ۔تجزیہ کار اویس توحید نے کہا کابینہ میں تبدیلی کے امکانات ہیں،بہت عرصے سے اطلاعات آرہی ہیں کہ نواز شریف کی ڈیل ہورہی ہے لیکن ڈیل گروپ شہبازشریف ہے ،پہلے انکے ساتھ چودھری نثار ہوتے تھے ،آج کل ایازصادق ہیں،شاہد خاقان عباسی نے لکھا ہے کہ جومیرے قائد کا فیصلہ ہوگا ،میں وہ مانوں گا۔