اسلام آباد(نامہ نگار،لیڈی رپورٹر،92نیوز رپورٹ،نیوز ایجنسیاں ) احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کہا ہے 6 اپریل 2019 کو جاتی عمرہ میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی، ناصربٹ نے نوازشریف کی موجودگی میں کہا فیصلہ دباؤ میں دیا، نوازشریف نے کہاتعاون کریں ہم آپ کومالامالکردیں گے ،میں نے نوازشریف کے منہ پر کہا فیصلہ میرٹ پر دیاجس پر سابق وزیر اعظم نے ناگواری کا اظہار کیا، حسین نواز نے مجھے 50 کروڑ روپے رشوت، پورے خاندان کو یوکے ، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے ، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی پیشکش کی۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا فروری 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں بطور جج تعینات ہونے کے بعد مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے رابطہ اور ملاقات کی، ناصر جنجوعہ نے وہاں موجود ایک اور شخص سے کہا میں نے آپ کو چند ہفتے پہلے کہا تھا نا کہ محمد ارشد ملک احتساب عدالت میں جج تعینات ہوگا،میں نے ناصر جنجوعہ کو جواب دیا میرا نام تجویز کرنے سے پہلے مجھ سے پوچھ لیا ہوتا کیونکہ میں ضلعی عدالت میں سیشن جج کا خواہشمند تھا۔ اگست 2018 میں فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس احتساب عدالت نمبر 2 منتقل کیا گیا تھا اور ان ریفرنسز کے ٹرائل جاری تھے ۔مجھے مختلف مواقع پر مذکورہ ریفرنسز میں نواز شریف اور دیگر ملزمان کی رہائی کے لیے ان کے حامیوں نے پیشکش کی اور دھمکیاں بھی دیں۔ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی سے ایک بیٹھک میں ناصر جنجوعہ نے مجھے العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں رہائی کا فیصلہ دینے پر مجبور کیا، ناصر جنجوعہ نے مجھے بتایا انہوں نے نواز شریف کو میرا نام احتساب عدالت کے جج کے لیے تجویز کیا تھا اور کہا ان حالات میں اگر میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ نہیں دیتا تو یہ ذاتی طور پر میرے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اس وقت میں نے جواب دیا اﷲ بہتر کرے گا، انصاف کرنا اﷲ کی صفت ہے اور اﷲ ناانصافی نہیں کرتا۔ جب فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنس کے ٹرائل میں دلائل کا مرحلہ جاری تھا تو ایک مرتبہ پھر مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے مجھ سے رابطہ کیا اور اس مرتبہ وہ نواز شریف کی جانب سے مالی پیشکش بھی ساتھ لائے تھے ۔مجھے بتایا گیا میاں صاحب رہائی کے فیصلے کے لیے منہ مانگی رقم دینے کے لیے تیار ہیں۔ میں نے کہا میں نے 56سال 6 مرلے کے گھر میں گزار دیئے ، ریفرنسز کا فیصلہ اپنے حلف کے مطابق دوں گا، مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ناصر جنجوعہ نے کہا ان کے پاس مجھے دینے کے لیے 10 کروڑ روپے کے برابر نقد یورو فوری طور پر موجود ہیں جن میں سے 2 کروڑ روپے اس وقت ان کی گاڑی میں تھے ،میں نے رشوت کی پیشکش قبول نہیں کی اور میرٹ پر ڈٹا رہا۔ انکار کے مختصر عرصے بعد ناصر بٹ کی جانب سے مجھے نقصان پہنچانے کی دھمکی دی گئی۔ ناصر بٹ نے کہا نواز شریف میرے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ میاں صاحب نے اسے 4 سے 5 قتل کے مقدمات میں سزا سے بچانے میں مدد کی تھی، وہ سابق وزیراعظم کی مدد کے لیے ہر حد تک جائے گا۔ میں نے واضح طور پر سوچ لیا تھا کہ ریفرنسز کا فیصلہ میرٹ اور شواہد کی بنیاد پر دونگا اور میں نے دسمبر 2018 میں فیصلہ دیا جس میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا ہوئی اور فلیگ شپ میں رہا کیا۔ فیصلے کے بعد کچھ دیرخاموشی رہی تاہم رشوت اور دھمکیوں کی ناکام کوششیں بعد ازاں بلیک میلنگ میں تبدیل ہوگئیں۔ فروری 2019 میں خرم بٹ اور ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران ناصر بٹ نے پوچھا کیا ناصر جنجوعہ نے آپ کو ’ملتان والی ویڈیو‘ دکھا دی۔میں نے کہامیں نہیں جانتا کہ کس حوالے سے بات کر رہے ہیں۔ ناصر بٹ نے کہا آپ کو چند دن میں ویڈیو دکھا دی جائے گی،میاں طارق اور ان کے بیٹے سے میری جان پہچان اس وقت سے تھی جب میں 2000 سے 2003 تک ملتان میں بطور ایڈیشنل سیشن جج تعینات تھا۔ میاں طارق نے مجھے خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی غیر اخلاقی ویڈیو دکھائی اور کہا یہ تم ہو،یہ میرے لیے ایک دھچکا تھا جس کے بعد ناصر جنجوعہ اور ناصر بٹ نے مجھے بلیک میل کرنا اوردباؤ ڈالنا شروع کیا۔ ناصر جنجوعہ نے کہا العزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ تو ہوچکا ہے اب صرف نواز شریف کو مطمئن کرنے کے لیے میں آڈیو پیغام ریکارڈ کراؤں کہ میں نے یہ سب بااثر حلقوں کی جانب سے شدید دباؤ میں آکر کیا جبکہ ان کے خلاف شواہد نہیں تھے ۔ ناصر جنجوعہ نے مجھے یقین دلایا کہ آڈیو ریکارڈنگ نواز شریف کو سنانے کے بعد ڈیلیٹ کردی جائے گی، میں نے انکار کیا لیکن انہوں نے یہ بات دہرانے پر زور دیا۔ ناصر بٹ نے دوبارہ مجھ سے ملاقات کی اور کہا آپ کے عدم تعاون کے باوجود ناصر جنجوعہ نے آواز ریکارڈ کرلی تھی جسے نواز شریف کو سنادیا گیا لیکن وہ اب بھی مطمئن نہیں لہٰذا مجھے ان سے جاتی عمرہ میں ملاقات کرنی اور ان کے سامنے یہ بات کہنا ہوگی، یہ بات ماننے کے لیے ایک مرتبہ پھر ملتان والی ویڈیو کو مجھے دھمکانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ میں نے شاید 6 اپریل 2019 کو نواز شریف سے ناصر بٹ کے ہمراہ ملاقات کی تھی، جہاں ناصر بٹ نے گفتگو کا آغاز اس دعوے سے کیا کہ فیصلہ فوج اور عدلیہ کی جانب سے دباؤ کی وجہ سے دیا گیا تھا تاہم جب میں نے کہاالعزیزیہ ریفرنس کا فیصلہ میرٹ پر دیا گیا تو نواز شریف میرے جواب سے ناخوش ہوئے اور ملاقات ختم ہوگئی، جاتی عمرہ سے واپسی پر ناصر بٹ نے مجھے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل میں معاونت کرنے کا کہا۔میں بلیک میلنگ کی وجہ سے اس مطالبے پر آمادہ ہوگیا تھا،چند دن بعد ناصر بٹ اپیل کا مسودہ لے کر میرے پاس آئے اور ان کے مطالبے کے تحت میں نے اس کا جائزہ لیا اور کچھ تجاویز دیں۔ 6 جولائی 2019 کو العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے سے متعلق مریم نواز اور مسلم لیگ(ن) کی سینئر قیادت کی جانب سے پریس کانفرنس دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے میں نے جو تجاویز دی تھیں انہیں خفیہ طور پر ریکارڈ کیا گیا اور اس دوران کی گئی بات چیت میں رد و بدل کیا گیا تھا۔ پریس کانفرنس میں جو ویڈیو چلائی گئی اس میں ملاقات کے دوران کی گئی بات چیت کے کچھ حصے میں تبدیلی کی گئی تھی۔ 28 مئی 2019 کو اپنے خاندان کے ہمراہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گیا تھا جہاں نمازِ عشا کے بعد مسجد نبویﷺ کے باہر یکم جون 2019 کو ناصر بٹ نے ملاقات کی اور حسین نواز سے ملنے کا کہا۔میں نے حسین نواز سے ملاقات سے انکار کیا تو ایک مرتبہ پھر مجھے پاکستان میں ایک فون کال کے ذریعے مسائل اور شرمندگی اٹھانے کے اسباب پیدا کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ حسین نواز نے مجھ سے اس بنیاد پر مستعفی ہونے کا کہا تھا کہ میں نواز شریف کو بغیر شواہد کے سزا سنانے کا پچھتاوا مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ حسین نواز نے مجھے کہا تھا کہ استعفے پر دستخط کے بعد وہ سب سنبھال لیں گے اور صرف وہی ہیں جو مجھے بچا سکتے ہیں، میں نے یہ پیشکش مسترد کردی تھی، بعد ازاں میں نے ان کی کالز کا جواب دینا چھوڑ دیا تھا۔جب انہیں مکمل طور پر احساس ہوگیا کہ میں ان کے غیر قانونی مطالبات پورے نہیں کروں گا تو 6 جولائی کو پریس کانفرنس میں میرے خلاف الزامات عائد کیے گئے اور مجھ سے وابستہ جعلی بیانات چلائے گئے جن کا حوالہ میں نے 7 جولائی کی پریس ریلیز میں بھی دیا تھا۔العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے خدا کو حاضر ناظر جان کر ، میرٹ اور موجود شواہد کی بنیاد پر کسی دباؤ، خوف یا حمایت کے بغیر دیئے گئے ،مجھ سے متعلق جاری ہونے والی ویڈیو زجعلی ہیں، اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔