لاہور(قاضی ندیم اقبال) 196.9 ارب روپے مالیت کے 8 ترقیاتی پراجیکٹس کو بروقت مکمل کرنے ، نجی شعبے کو ساتھ لے کر چلنے کے بارے میں گائیڈ لائنز جاری کر دی گئیں ، حکومتی ترجیحات کی روشنی میں عمل درآمد کی ذمہ داری پی پی پی بورڈ میں شامل شخصیات سمیت صوبائی و ضلعی حکام پر عائد ہو گی۔مصدقہ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی کو متحرک بنانے کی غرض سے رواں مالی سال کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اسی اتھارٹی کی زیر نگرانی مکمل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان منصوبوں کیلئے فنڈز مختص کر دئیے ۔ چند روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلا س میں انتظامی افسروں کو پرائیویٹ سیکٹرز کو ساتھ لے کر چلنے کی بابت نہ صرف ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئیں بلکہ واضح کیا گیا کہ 61ارب روپے کے راولپنڈی رنگ روڈ، 55ارب روپے کے لئی ایکسپریس وے راولپنڈی کی تعمیر، 24ارب روپے کے لاہور رنگ روڈ (سدرن لوپ ،18.02ارب روپے کے گجرات جلال پور جٹاں دو طرفہ سڑک کی تعمیر، 14.21ارب روپے کے ملتان سے وہاڑی دو طرفہ سڑک کی تعمیر ،10.32ارب روپے کے لاہور میں پانی کے میٹرز کی تنصیب ، 6.21ارب روپے کے قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ اور سندر انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور میں کمبائنڈ صنعتی فضلے کی ٹریٹمنٹ کے پلانٹ کے قیام،5ارب روپے کے ایم تھری انڈسٹریل سٹی فیصل آباد کے مقام پر ویونگ سٹی کے قیام اور 2.96ارب روپے کے وزیر آباد سمبڑیال، سیالکوٹ روڈ کی بحالی کے منصوبہ کے بارے میں معاملات کو تیزی سے آگے بڑھایا جائے ، تمام عمل میں شفافیت کا عنصر غالب رکھنے کیلئے بھی اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلنے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر اس شعبہ کو آئندہ پانچ سال کے لئے سیلز ٹیکس آن سروسز سے مکمل استثنیٰ بھی دیا گیا ۔