لاہور (فورم رپورٹ : رانا محمد عظیم ، محمد فاروق جوہری )جب سے ائیر پورٹس کے اطراف آ باد ی میں اضافہ ہوا ہے ، طیاروں کے ساتھ پرندے ٹکرانے کے واقعات میں بھی اضافہ ہو تا جا رہا ہے ، طیارہ حادثہ کی ابتدائی رپورٹ میں بھی اس بات کی نشاندہی کی گئی ، زیادہ تر غلطیاں سول ایوی ایشن کی ہوتی ہیں ، اس حادثہ پر نیشنل انکوائری ہونی چاہئے اور ذمہ داران کو سزا بھی ملنی چاہئے ، ہمیشہ طیارہ کو اس وقت اڑان بھرنے کی اجازت دی جاتی ہے جب وہ سو فیصد درست ہوتا ہے ان کی فٹنس پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جاتا، ان خیالا ت کا اظہار سابق ائیر مارشلز اور معروف تجزیہ کار نے روزنامہ 92نیوز فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ائیر مارشل (ر) مسعوداختر نے کہا کہ طیارہ حادثہ پر جو ابتدائی رپورٹ تیار کی گئی اس میں بتا یا گیا ہے کہ طیارے سے ایک سے زائد پرندے بھی ٹکرائے ہیں اس کے بعد دونوں انجن میں آ گ لگ گئی ، انہوں نے کہا کہ ائیر پورٹس کے اطراف میں آ بادیاں بن چکی ہیں یہ ایک دم نہیں بن گئی بلکہ ان کو بننے میں کافی عرصہ لگا ہے ، لوگ اپنے گھروں کا کچرا باہر پھینکتے ہیں جس سے پرندے اکٹھے ہو جاتے ہیں ، فائٹر طیارے کے آ گے پرندہ آ جائے تو وہ اپنا رخ تبدیل کر لیتے ہیں لیکن ایک ائیر بس یا مسافر طیارے کیلئے ایسا کرنا ناممکن ہوتا ، طیارہ گیارہ سال پرانا تھا تو یہ اس کی کوئی اتنی عمر نہیں ۔ ائیر مارشل (ر)عابد رائو نے کہا جس طرح سے طیارہ کو حادثہ ہوا ہے ، اس میں پائلٹ کی کوئی غلطی نہیں نظر آ رہی ، مکمل انکوائری ہونی چاہئے کہ کہاں طیارے کی دیکھ بھال میں کمی رہ گئی تھی ، کہاں کمپرومائز ہو ا ، ایسا بھی نہیں ہوتا کہ ایک انجن سو فیصد ہے اور دوسرا انجن پچاس فیصد پر ہے تو طیارہ کو اڑنے دیا جائے ، جب طیارہ اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے تو چھ منٹ کی فلائیٹ کا مزید اضافی فیول طیارہ میں موجود ہوتا ہے ، معروف تجزیہ کار ماریہ سلطان نے کہا زیادہ تر طیارے حادثات میں ذمہ داری سول ایوی ایشن پر عائد ہوتی ہے اور اسی فیصد تک غلطی بھی ان کی ہوتی ہے ، نیشنل انکوائری ہونی چاہئے اور جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو سزا ملنی چاہئے ، حفاظتی اقدامات پر کوئی بھی کمپرومائز کیا گیا ہے تو یہ بھی ایک کرائم ہے ۔