آصف محمود



کیا سماجیات کو نصاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے؟


نتھیا گلی کے نواح میں ایک گوشہ عافیت میں صبح اتر نے کو ہے۔ کووں کی کائیں کائیں اور چڑیوں کی چہچہاہٹ نے جگا دیا ہے۔صبح کے پانچ بجے ہیں اور پرندوں کی موسیقی سے ماحول گویا مہک رہا ہے۔بچپن یاد آ رہا ہے ۔گھر کے صحن میں سنبل ، امرود اور کینو کے درخت تھے۔ چڑیوں کے شور اور مرغ کی اذان سے آنکھ کھل جاتی تھی۔تب بہت غصہ آتا تھا ، اب بہت یاد آتی ہے۔ ساون کا مہینہ ہے ، بادل دھند کی صورت امڈ امڈ آ رہے ہیں ۔رات ایک کھڑکی کھلی رہ گئی، اب ہر چیز
جمعه 19 جولائی 2019ء

’’ریکوڈک ‘‘

منگل 16 جولائی 2019ء
آصف محمود
ریکوڈک کیس میں ہونے والے خوفناک جرمانے پر ، پریشان ہونے کا وقت ہی نہیں ملا۔ اس خیال سے دل لرز اٹھا کہ ایران بھی گیس پائپ لائن پراجیکٹ پر ہمارے خلاف عالمی عدالت چلا گیا تو کیا ہو گا؟نوٹس تو اس نے ہمیں پہلے ہی سے دے رکھا ہے۔ اگر وہ مقدمہ کر دیتا ہے تو ہم کہاں کھڑے ہوں گے۔کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے افلاطونوں نے ایران کے ساتھ کیا معاہدہ کر رکھا ہے اوراس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں؟ ایران کے ساتھ ہونے والے گیس پائپ لائن معاہدے میں ہم نے اس شق پر اتفاق کر
مزید پڑھیے


سیاحت کو سنجیدگی سے لیجیے

هفته 13 جولائی 2019ء
آصف محمود
ناران پہنچے تو دن ڈھل چکا تھا۔ پہلی نظر ہی اداس کر گئی۔ یہ وہ ناران نہ تھا برسوں پہلے جسے آخری بار دیکھا تھا۔ناران تو ایک گوشہ عافیت تھا، شام ڈھلے پی ٹی ڈی سی سے نکلتے تو چھوٹا سا بازار سامنے ہوتا۔ چند ہوٹل اور سر شام خاموشی۔ اب سب کچھ بدل چکا تھا۔بے ہنگم ٹریفک اور ڈربوں جیسے ہوٹل، یوں محسوس ہوا راجہ بازار آ گئے ہوں۔جیسے تیسے رات گزاری اور صبح دم آگے نکل گئے۔باٹا کنڈی کے نواح میں طبیعت بحال ہونا شروع ہوئی ۔جل کھڑ کے پرستان سے گزر کر لولوسر جھیل کے پہلو
مزید پڑھیے


ہیجان کب ختم ہو گا؟

بدھ 10 جولائی 2019ء
آصف محمود
بے نظیر حکومت سنبھالتی ہیں تو نواز شریف اسے گرانے نکل کھڑے ہوتے ہیں، نواز شریف کو اقتدار ملتا ہے تو عمران خان ڈی چوک میں دھرنا دے ڈالتے ہیں اور عمران خان کو حکومت ملتی ہے تو اس کے خلاف تحریک کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر دور میں ہر ایک کے پاس اپنے ہر اقدم کے درجنوں دلائل ہوں گے ۔ہو سکتا ہے ان دلائل میں وزن بھی ہو۔ لیکن ایک عام شہری کے طور پر میرا سوال یہ ہے کہ یہ ہیجان کب ختم ہو گا؟ ایک عام آدمی ، اس کے مسائل اور اس
مزید پڑھیے


ہم اذیت پسند کیوں ہو گئے؟

هفته 06 جولائی 2019ء
آصف محمود
ہم اذیت پسند کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟لطیف انسانی جذبات دم توڑ رہے ہیں اور خانہ ویراں میں اہلِ دل اب درو دیوار پر اشک بہاتے ہیں۔وحشت کدے میںہیجان ہے ، نفرت امڈ رہی ہے ، بے زاری ہے ، بد گمانیاں ہیں ، دل پتھر ہو گئے ہیں اور سوچیں سفاک۔لہجوں میں آتشِ دوزخ کی تپش ہے ۔ طنز ، تحقیر ، تذلیل، تمسخر ، بستی میں سب کی فراوانی ہے بس ایک خیر خواہی ہے جو جنس نایاب ہوتی جا رہی ہے ۔دیدہِ حیران سراپا سوال ہے: اس سماج کو کیا ہو گیا؟اس کی حسِ لطیف کیا
مزید پڑھیے




پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟

جمعرات 04 جولائی 2019ء
آصف محمود
پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے : کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ باطن میں پاکستان پر فردِ جرم عائد کر دیتے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو برادرم عامر خاکوانی کی طرح درد مندی اور درد دل کے ساتھ پاکستان کا مقدمہ پیش کرتے ہیں۔میرا سوال مگر قدرے مختلف ہے۔سوال یہ ہے سارا مشاعرہ اس زمین پر کیوں؟ ایک غزل اس پر کیوں نہ ہو جائے کہ پاکستان کاشہری افغانستان کے
مزید پڑھیے


پاک افغان میچ اور نومولود مورخین کرام

پیر 01 جولائی 2019ء
آصف محمود
کھیل کھیل ہوتا ہے اسے نفرت کا عنوان یا جنگ کا میدان نہیںبنایا جا سکتا لیکن نومولود مورخین کرام جو حرکتیں کر رہے ہیں یہ گوارا نہیں کی جا سکتیں۔ این جی اوز کے کارندے تو اپنے ایجنڈے پر ہیں ، سادہ لوح محققین اور نومولود مورخین کے دماغِ عجز ِ عالی سے خواہ مخواہ دھواں اٹھ رہا ہے ۔ رونی صورت بنا کر یہ حضرت ناصح بنے پھرتے ہیں اور ہمیں سمجھاتے ہیں کہ دیکھیے صاحب افغان تماشائیوں کا رد عمل اصل میںپاکستان کی پالیسیوں کے خلاف افغان عوام کا غم و غصہ ہے اس لیے ہمیں اپنی
مزید پڑھیے


ہسپتالوں کا فضلہ کہاں جاتا ہے؟

هفته 29 جون 2019ء
آصف محمود
کیا کبھی ہم نے سوچا ہسپتالوں کے باہر جو منوں کے حساب سے فضلہ پڑا ہوتا ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ اہل سیاست کو اپنے حساب سودو زیاںسے فرصت نہیں اور اہل فکر نے بھی گویا طے کر لیا ہے ہر روز سیاست پر ہی مضامین باندھنے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سماج کو کیا ہوگیا؟ سوشل میڈیا پر بیٹھے نوجوانوں کی عالم آرائی کی انتہاء کیا یہی ہے کہ کسی ایک قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں کے ساتھ مل کر کسی دوسرے قائد محترم کے حصے کے بے وقوفوں سے الجھتے رہیں؟ حریت فکر کہاں کھو
مزید پڑھیے


اوربابر اعوان بری ہو گئے۔۔

جمعه 28 جون 2019ء
آصف محمود
بابر اعوان بری ہو گئے۔ غرورِ عشق کے جس بانکپن کے ساتھ منصب سے مستعفی ہو کر وہ کٹہرے میں آن کھڑے ہوئے تھے ، نکلے تو وہ بانکپن سلامت تھا۔ مقدمہ ایسا نہ تھا کہ دفاع نہ کیا جا سکتا، چاہتے تو منصب پر قائم رہتے ہوئے ایک مضمون سو سو رنگ سے باندھ دیتے،لیکن انہوں نے اپنے اخلاقی وجود کو مقدم جانا اور دامن جھاڑ کر کوچہ اقتدار سے الگ ہو گئے۔ورنہ یہاں تو لوگ پوری جرات سے دعوی کرتے ہیں بیرون ملک تو کیا میری اندرون ملک بھی کوئی جائیداد نہیں اور جب جائیدادوں کے دفتر
مزید پڑھیے


استنبول سے بھوربن تک

منگل 25 جون 2019ء
آصف محمود
استنبول سے بھوربن تک ،مسلم معاشروں کے دومختلف رویے ہمارے سامنے ہیں۔ ہم چاہیں تو اس میں سے عبرت اور حکمت دونوں کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف ترکی ہے۔ اس میں کیا شک ہے طیب اردوان نے ترکی کی تعمیر کی اور اسے اقوام عالم میں سر بلند کیا۔ غیر معمولی مقبولیت نے انہیں بہت طاقتور کر دیا ۔ جب طاقت کا یہ احساس مسائل پیدا کرنے لگا تو ترکی کے سماج کا شعور اجتماعی بروئے کار آیا اور استنبول کے میئر کے انتخابات میں اردوان کی جماعت کو تیرہ ہزار ووٹوں سے شکست ہو گئی۔ اس شکست
مزید پڑھیے