BN

آصف محمود



مگر اب دن ہی کتنے رہ گئے ہیں


تبدیلی کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہو چکا۔وقت نے ہماری امیدوں پر کچھ اورخاک ڈال دی۔ میر ہوتے تو گرہ لگاتے:عشق کیا ہے اُس گل کا ، یا آفت لائے سر پر ہم؟سوال یہ کہ اس سال میں آرزوئیں ہی دھواں ہوئی ہیں یا کچھ متاع درد بھی ہاتھ آئی ہے؟ جان ایلیا کے تین بھائی تھے۔رئیس امروہی ، انہیں اچھّن کہا جاتا تھا۔ سید محمد تقی ، وہ چھبّن کے نام سے مشہور تھے۔عباس علی کی عرفیت بچھّن تھی اور جان ایلیا کو جون کہتے تھے۔ روایت ہے کہ ان کے خاندان کے بچے انہیں اکٹھا دیکھتے تو یہ
هفته 14  ستمبر 2019ء

نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
آصف محمود
حیرت ہوئی یہ رائے ونڈ کے میاں محمد نواز شریف صاحب کا ذکر ہو رہا ہے یا اسد الصحرا، عمر مختار کی عزیمت کا بیان ہے ۔ جناب سردار خان نیازی نے سادہ سا ایک سوال پوچھا تھا، جناب راجہ ظفر الحق نے جواب میں پہلے غزل قصیدہ کی ، پھر رجز کہہ ڈالے ۔سوال تھا: کیا کوئی ڈیل ہو رہی ہے؟جواب آیا: جس نواز شریف کو میں جانتا ہوں اور جتنا میں جانتا ہوں ممکن ہی نہیں وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے اور ڈیل کر لے۔راجہ ظفر الحق چاہتے تو اس سوال کے جواب میں مسکرا
مزید پڑھیے


پاکستان کے غیر مسلم ہیروز

هفته 07  ستمبر 2019ء
آصف محمود
چھ ستمبر کو ہم نے دفاع وطن میں جان سے گزر جانے والے سپوتوں کو یاد کیا۔ تو آئیے وطن کے ان بیٹوں کو بھی یاد کر لیں جو غیر مسلم تھے مگر مادر وطن پر قربان ہو گئے۔ پانڈو کے محاذ پر ہونے والی لڑائی کا تذکرہ تو ہم نے سن رکھا ہے ، کل پترا کی پہاڑی فتح کرتے ہوئے کیپٹن سرور شہید ہوئے تھے اور انہیں پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر ملا تھا۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے اس پہاڑی پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز کسے حاصل ہوا تھا؟ لانس نائیک یعقوب مسیح کو۔
مزید پڑھیے


مہاراجہ کا بھارت سے الحاق ۔۔۔۔انٹر نیشنل لاء کیا کہتا ہے؟

جمعه 06  ستمبر 2019ء
آصف محمود
مہاراجہ کے بھارت سے الحاق کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ اس ضمن میں دو نکتے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔اول: کیا مہاراجہ کی الحاق کرتے وقت یہ حیثیت تھی کہ وہ ریاست کی نمائندگی کرتے ہوئے کسی ریاست سے معاملہ کرتا؟ دوم: الحاق کے بعد کیا کشمیریوں کا حق خود ارادیت ساقط ہو چکا ہے اور کشمیر بھارت کا حصہ بن چکا ہے؟ پندرہ اگست 1947 کو مہاراجہ نے پاکستان کے ساتھ ’ سٹینڈ سٹل‘ ایگریمنٹ کیا ۔دل چسپ بات یہ ہے کہ گیارہ اگست 1947 کو مہاراجہ نے اپنے وزیر اعظم رام چندرا کاک کو معزول کر کے نظر بند
مزید پڑھیے


کشمیر کا مقتل اور یہ ’ ملنگ لوگ‘

منگل 03  ستمبر 2019ء
آصف محمود
کشمیر میں کرفیو کا عذاب اترا ہوا ہے اور آسام میں 19 لاکھ مسلمانوں کو شہریت سے محروم کر دیا گیاہے۔سوال یہ ہے روشن خیالی کے وہ’ ملنگ لوگـ‘ کہاں ہیں ، رعونت کے تکیے پر حقارت کی بھنگ پی کر جو دھمالیں ڈالا کرتے تھے : صاحب ہم کسی دین کے پیروکار نہیں ، ہمارا مذہب تو انسانیت ہے۔مردودانِ حرم کہیں مزید سیکولر تو نہیں ہو گئے کہ اپنے اختیاری مذہب سے بھی بے زار ہو گئے ہوں؟داغ دہلوی نے کہا تھا: روز معشوق نیا ، روز ملاقات نئی۔ قومی بیانیے سے لاتعلقی اور اس کا تمسخر اڑانا ان حضرات
مزید پڑھیے




ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں

هفته 31  اگست 2019ء
آصف محمود
گائوں میں اپنے خاندان کے قبرستان میں کھڑا تھا اور کچھ یاد نہیں آ رہا تھا کون کہاں دفن ہے۔ صرف دو قبروں پر کتبے لگے تھے ۔مٹی کی کچھ ڈھیریاں تھیں اور یادوں کا ہجوم۔ان ڈھیریوں میں میرے اپنے ہی دفن تھے۔ مگر کون کہاںتھا ، کچھ معلوم نہ تھا۔کہیں پڑھا تھا ، اچانک ہمیں موت نہیں آتی۔ ہم آہستہ آہستہ مرتے ہیں۔ ہمارے دوست ، احباب ، رشتہ داروں میں سے جب کوئی ہم سے بچھڑتا ہے تو ان کے ساتھ ہمارے وجود کا ایک حصہ بھی دفن ہو جاتا ہے۔اپنے وجود کے یہ ٹکرے دفن کرتے کرتے
مزید پڑھیے


کیا اقوام متحدہ کی قراردادیں بے معنی ہو چکی ہیں؟

جمعرات 29  اگست 2019ء
آصف محمود
بعض حلقوں کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اس معاہدے میں ہم بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کر چکے ہیں اور اب یہ ایک دو طرفہ معاملہ ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ ویانا کنونشن کے آرٹیکل 59 کے تحت جب فریقین باہم کوئی نیا معاہدہ کر لیتے ہیں تو پرانا معاہدہ کالعدم سمجھا جاتا ہے۔ یہ موقف درست نہیں ہے۔ اس کے ابلاغ کی دو ہی صورتیں ہو سکتی
مزید پڑھیے


پاکستان نے کشمیر میں فوج کیوں اتاری؟

بدھ 28  اگست 2019ء
آصف محمود
کیا آپ جنرل گریسی کو جانتے ہیں؟ یہ پاکستان کے دوسرے کمانڈر انچیف تھے ۔قائد اعظم نے انہیںکشمیر پر حملے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ اکتوبر 1947ء میں قائد اعظم کے حکم پر عمل نہ کرنے والے جنرل گریسی کو صرف چھا ماہ بعد ہی حکومت پاکستان سے تحریری طور پر یہ کہنا پڑا کہ پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے اور اسے بچانا ہے تو فوری طور پر کشمیر میں فوجیں بھیجی جائیں۔کیا آپ غور نہیں فرمائیں گے کہ جو جرنیل
مزید پڑھیے


کشمیر۔۔۔۔کیا پاکستان نے جارحیت کی تھی؟

منگل 27  اگست 2019ء
آصف محمود
اب آئیے اس الزام کی طرف کہ یہ پاکستان تھا جس نے ’ سٹینڈ سٹل‘ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں پہلے مسلح قبائل بھیجے اور پھر فوج اتار دی اور اس کانتیجہ یہ نکلا کہ مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا۔ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کی آڑ میں مسلمانوں کا جو قتل عام کیا گیا اس پر ٹائمز آف لندن ، سنیڈن کرسٹوفر ، وید بھیسن اور لُو پوری وغیرہ کی گواہیاں آپ گذشتہ کالم میں پڑھ چکے۔اب آگے کی سنیے۔ مہاراجہ نے صرف آر ایس ایس اور اکالی دل کے جتھوں کے ذریعے مسلمانوں کا قتل عام
مزید پڑھیے


’’سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ‘‘۔۔۔حقائق کیا ہیں؟

هفته 24  اگست 2019ء
آصف محمود
ایک صریحا غلط بات یہ کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مہاراجہ نے ’ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ‘‘ کر رکھا تھا لیکن پاکستان نے اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کی معاشی ناکہ بندی کی ، پھر قبائل کو لڑنے کے لیے بھیج دیا ، جارحیت کی اور اقوام متحدہ نے بھی اس کو جارح قرار دے دیا۔اس بے بنیاد استدلال کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ پاکستان جارحیت نہ کرتا تو مہاراجہ کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ نہ کرتا۔ چلیے آج اسی پہلو پر بات کر لیتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ دیکھتے
مزید پڑھیے