BN

آصف محمود

پاکستان کی ماں یا پاکستان کی مجرم؟

هفته 18  اگست 2018ء
پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے ۔مسلم لیگ ن کے بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میںارسطوئے زماں بقلم خود احسن اقبال فرماتے ہیں مسلم لیگ پاکستان کی ماں ہے۔ مفکر ملت نے یہ نہیں بتایا کہ اس ناطے سے وہ خود پاکستان کے مامے ہوئے یا خالو ؟ حیرت ہوتی ہے، کرم فرمائوں کے بال سفید ہو گئے لیکن بات کہنے کا ڈھنگ نہ آیا ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ سمجھئے کہ حوادث زمانہ نے چھوٹوں کو معتبر کر دیا ، رہی سہی کسر میڈیا نے پوری کر دی ، بھلے وقتوں میںجن باتوں پر کسی اچھے نفسیاتی معالج
مزید پڑھیے


ایوا زوبک، تمہارا شکریہ

جمعرات 16  اگست 2018ء
پاکستان کی جھیلوں ، ندیوں ، آبشاروں ، پہاڑوں اور وادیوں سے پیار کرنے والی ایک غیر ملکی لڑکی نے ہمارا پرچم اوڑھ کر ایک ویڈیو کروائی اور ہم اس پر برہم ہو گئے۔ کبھی آپ نے سوچا ہم اتنے تلخ ، تنک مزاج اور زود رنج کیوں ہو گئے ہیں؟ ہمارا مزاج زلفِ یار کیوں بن گیا جو بات بات پر برہم ہو جاتا ہے؟ہم ذوق لطیف سے محروم ہو گئے یانفسیاتی توازن کھو بیٹھے؟ ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ کاش کوئی ادارہ ہوتا جو ایک رپورٹ مرتب کرتا کہ عشروں پر محیط دہشت گردی ،انتہا پسندی، آگ اور خون
مزید پڑھیے


یہ دن ہیں جنہیں اللہ لوگوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے

منگل 14  اگست 2018ء
قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس نہیں ، یہ قیامت کی گھڑی تھی ۔ یہ عرفان ذات کا لمحہ تھا۔ صدیوں کے تجربات کانچوڑ تھا جو صبح گویا بارش کے ساتھ برس پڑا تھا۔ ایک طرف عمران خان قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے آ رہے تھے دوسری جانب نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا جا رہا تھا۔ عمران خان کا سفر روشنیوں میں نہایا تھا اور نواز شریف سلاخوں کے پیچھے بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے کی علامت بنے تھے۔وقت کا موسم بدل چکا تھا۔ فرمان رب کریم یاد آ گیا : تلک الایام نداولھا
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کامیاب حکمران ثابت ہو سکیں گے؟

پیر 13  اگست 2018ء
ایک طویل جدوجہد کے بعد عمران خان وزیر اعظم بننے میں تو کامیاب ہو ہی چکے ، سوال اب یہ ہے کیا وہ ایک کامیاب حکمران بھی ثابت ہو سکیں گے؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب اثبات میںہے۔عمران کے پاس ناکام ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ، اسے ہر حال میں اور ہر قیمت پر جیتنا ہے ۔ ایلن بارڈر نے کہا تھا عمران جب صرف جیتنے کے لیے کھیلتا ہے تو بہت خطرناک ہو جاتا ہے ۔ بھولی بھٹکی سی ایک یاد ہے۔مگر آ ج بھی کچھ کچھ یادہے۔ ورلڈ کپ 1992ء میں ایک لمحہ وہ
مزید پڑھیے


جشن آزادی اور مولانا

هفته 11  اگست 2018ء
ارشاد ہوا ہم 14اگست کو جشن آزادی نہیں منائیں گے ، جان کی امان پائوں تو عرض کروں اس سے پہلے آپ نے کب جشن آزادی منایا؟ جس ’’ گناہ‘‘ میں شریک نہ ہونے پر آپ کے بزرگ نازاں تھے اس پر آپ جشن منا بھی کیسے سکتے ہیں؟ وصل لیلائے اقتدار کی آس میں تڑپتے قائدین انقلاب کاتو ایک ہجوم ہے، اس کے ہجر میں یوں برہم بزرگ پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ جب تک کشمیر کمیٹی کی سربراہی تھی ، وفاق میں وزارتیں تھیں ، ریاستی وسائل تھے ، سرکاری رہائش تھی، گاڑی تھی ، پٹرول
مزید پڑھیے


واہ مولانا!

جمعه 10  اگست 2018ء
فضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟راہ حق میں استقامت کی یہ کہانی بہت طویل ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار تو آپ کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین بقلم خود کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔یہ انہی مبارک دنوں کی بات ہے۔مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمن ان دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مارچ 2005ء میں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ
مزید پڑھیے


تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل

بدھ 08  اگست 2018ء

تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ یہ سوال میرے نزدیک آج کے اہم ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ مجھے حیرت ہے ابھی تک کسی نے اسے موضوع نہیں بنایا۔انتخابات کے بعد وہی سطحیت کا آزار ہے جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف بحث جاری ہے اور مرکزی نکتہ یہی ہے کس کے پاس کتنے اراکین ہیں اور کون کس کی مدد سے کہاں کہاں اقتدار حاصل کرنے جا رہا ہے۔انتخابات لیکن صرف اراکین کی گنتی اور جوڑ توڑ کا نام نہیں ، یہ سماج کے رجحانات کی بھی خبر دیتے ہیں۔یہ بتاتے
مزید پڑھیے


بزرگان ِ بقلم خود میں قدرِ مشترک کیا ہے؟

اتوار 05  اگست 2018ء
عمران کی کامیابی نے سیاست کے تمام اہل تقوی ، درویشوں ، فقیروں اور تارک الدنیا قلندروں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ان قائدین کی بزرگی ، درد دل ، بصیرت ، سادگی ، اور تقوی سے انکار نہیں۔سوال یہ ہے کہ ان میں قدر مشترک کیا ہے؟ کس قیامت کا یہ منظر تھا۔ محترمہ شیری رحمان سر پر دوپٹہ لیے بغیر میڈیا سے ہمکلام تھیں اور قائد انقلاب قبلہ لیاقت بلوچ سر پر ٹوپی اور جناب عبد الٖغفور حیدری سر پر پگڑی رکھے ہاتھ باندھے فرمانبرداری سے ان کے پہلو میں کھڑے تھے۔شاید چشم تصور سے اسلامی انقلاب کا سورج
مزید پڑھیے


آزاد اراکین اور عمران خان کے نومولود خیر خواہ

جمعه 03  اگست 2018ء
عمران خان پر جملہ اعضائے رئیسہ کا زور لگا کر تبرا کرنے والے احباب اس کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے خیر خواہ بن کر اسے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں۔ان نومولود خیر خواہوں کے چہروں پر بظاہر مسکراہٹ ہے لیکن ان کے اندر نفرت کے جو تنور جل رہے ہیں اس کی حدت اتنی ہے کہ ان کی سلگتی مسکراہٹ سے میر تقی میر یاد آتے ہیں: دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے یہ احباب ہمدرد سی صورت بنا کر سوال اٹھاتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ
مزید پڑھیے


آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا؟

بدھ 01  اگست 2018ء
غریب قوم کے 2100 کروڑ خرچ کرنے کے بعد کیا الیکشن کمیشن ہماری رہنمائی فرما سکتا ہے کہ اس کا آرٹی ایس ( رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم) کیوں ناکام ہوا ؟ یہ محض ’’ ٹیکنالوجیکل فیلیئر‘‘ تھا یا اس میں تجربہ کاروں کا تجربہ بھی بروئے کار آیا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے ہی سے منصوبہ بنایا جا چکا تھا کہ عمران خان کی جیت نظر آئے تو سسٹم کوناکام کر کے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا جائے؟ یہ آرٹی ایس آخر کن لوگوں نے بنایا؟ کیا عمران خان نے بنا کر دیا تھا؟ یہ سب کچھ گزشتہ حکومت کے دور
مزید پڑھیے