BN

آصف محمود


حکومت اوراپوزیشن میں جھگڑا کیا ہے؟


حکومت اور اپوزیشن میں جھگڑا کیا ہے؟ اس سوال کا ایک جواب حکومتی وزراء کی زبان پر ہے اور دوسرا جواب حزب اختلاف کی ہتھیلی پر رکھا ہے۔ ہر دو کے جواب کادلیل کی بنیاد پرجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے دونوں ہی جھوٹ بول رہے ہیں۔ حکومت کا دعوی ہے ساری اپوزیشن کرپٹ ، چور اور بے ایمان ہے جو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے این آر او چاہتی ہے ۔اب چونکہ جناب وزیر اعظم نے طے فرما لیا ہے کسی کو این آر او نہیں دینا چنانچہ یہ سب چور ایک نیک اور دیانتدار حکومت کے
هفته 24 اکتوبر 2020ء

ریڈیو پاکستان سونامی میں غرق ہو گیا؟

جمعرات 22 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
ریڈیو پاکستان کے جوان سال ملازمین کو سراپا احتجاج دیکھا تو دیوار دل سے اداسی آن لپٹی۔ایک یا دو نہیں سات سو سے زیادہ ملازمین کو پل بھر میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کس کا دکھ زیادہ ہے۔ان سینکڑوں لوگوں کے تاریک مستقبل کا یا اس ریڈیو پاکستان کا جو ہماری قدروں اور ثقافت کا استعارہ تھا۔ کیا سب کچھ ہی سونامی غرق ہو جائے گا؟ چند لمحے میں وہاں رکا، پھر ٹریل فائیو پر آ گیا۔ آج کے حالات میں یہ واحد گوشہ ہے جہاں عافیت ہے۔ندی بہہ رہی تھی۔ مگر ماحول
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل کے پیٹ کے کیڑے

جمعرات 15 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
جس وقت میں یہ سطور لکھ رہا ہوں ، اسلامی نظریاتی کونسل ایک اہم علمی معاملے پر غوروخوض فرما رہی ہے۔ امید ہے جب تک یہ کالم شائع ہو گا اسلامی نظریاتی کونسل کے بزرگان اور اکابرین قوم کی رہنمائی کا فریضہ ادا کر چکے ہوں گے۔ کیا آپ جاننا چاہیں گے وہ اہم علمی اور فکری مسئلہ کیا ہے جس کی ملک کے طول و عرض سے تشریف لانے والے یہ اہل فکر و دانش مل جل کر گتھیاں سلجھا رہے ہیں؟یہ مسئلہ ہے : بچوں کے پیٹ میں کیڑے۔ روایت ہے :’’ تقریب میں وزارت صحت
مزید پڑھیے


کیا تحریک انصاف فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے؟

منگل 13 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
کیا تحریک انصاف فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے؟ کیا یہ پورے خلوص کے ساتھ کیا جانے والا ایک شعوری سفر ہے یا شدت جذبات کی بے دھیانی اسے بگولہ بنائے پھرتی ہے؟ نومولود نونہالان انقلاب کی قدرتِ گفتار سے ڈر لگتا ہے اس لیے شروع ہی میں عرض کر دوں میں یہ سوال ’’ عمران خان کے بغض‘‘ میں کسی پٹوار خانے کی دہلیز پر بیٹھ کر نہیں اٹھا رہا ،یہ سوال اس لیے اٹھا رہا ہوں کہ دیوار دل سے ساون کی کائی کی طرح اداسی آن لپٹی ہے ۔ تحریک انصاف کو آپ نیچے سے اوپر اور
مزید پڑھیے


کیا آذر بائیجان کی حمایت پاکستان کا غلط فیصلہ ہے؟

پیر 12 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
آرمینیا کے مقابلے میں آذر بائیجان کی حمایت کر ناکیا پاکستان کا غلط فیصلہ تھا؟ محتاط سا موقف اختیار کرنے کی بجائے ایک فریق کی اعلانیہ اور غیر مبینہ حمایت کر کے کیا پاکستان نے سفارتی محاذ پر ایک ایسی غلطی کر دی ہے جس کا خمیازہ ہمیں آنے والے دنوں میں بھگتنا پڑ سکتا ہے؟کئی اہل علم اس کا جواب ’’ ہاں ‘‘ میں دے رہے ہیں لیکن میرے جیسے طالب علم کے نزدیک پاکستان نے کوئی غلطی نہیں کی ۔یہ نہ صرف ایک درست فیصلہ ہے بلکہ یہ پاکستان کے اعلانیہ اور روایتی موقف کے عین
مزید پڑھیے



ناقص، جعلی اور مہنگی ادویات۔۔۔ڈریپ کہاں ہے؟

هفته 10 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
سوال اٹھایا کہ ہمارے ڈاکٹرز دوائی کا فارمولا نام لکھنے کی بجائے اس کا برانڈ نام کیوں لکھتے ہیں تو قارئین کا رد عمل دلچسپ اور تکلیف دہ تھا۔ اکثریت کا کہنا تھا برانڈ نام مہنگا سہی لیکن کم از کم دوا تو اچھی ہوتی ہے ، جنیرک نام یعنی فارمولا نام والی دوا کا کیا معلوم ناقص ہو یا جعلی ہو اور مزید خرابی پیدا کر دے۔سوال اب یہ ہے کہ اگر دوا کے مشہور برانڈ ہی دوا کے خالص اور معیاری ہونے کی ضمانت ہیں اور باقی سب ادویات مشکوک ہیں تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کیا کر رہی
مزید پڑھیے


فحاشی، سماج اور قانون

جمعرات 08 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
اشتہارات میں فحاشی کی بحث کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے چند پہلوئوں کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے لیا جائے۔ فحاشی کیا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو تواتر سے اٹھایا جاتا ہے اور اس کی شرح میں ہر اس فرد کو طنز اور دشنام کا نشانہ بنایا جاتاہو جو فحاشی کو ایک قدر کے طور پر قبول نہ کرے اور اس پر معترض ہو۔یہ بات درست ہے کہ ہر فرد کے ہاں فحاشی کی الگ تعبیر ہو سکتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ فحاشی کی کسی بھی شکل کو گوارا کر لیا جائے۔فحاشی
مزید پڑھیے


اے ٹی ایم کارڈ ایکٹویٹ کرانے کیا مجھے عدالت جانا ہو گا؟

منگل 06 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
اہم قومی معاملات کو چھوڑیے،آج مجھے یہ بتلا دیجیے کہ بنک سے مجھے جو اے ٹی ایم کارڈ ایشو ہوا ہے، اسے ایکٹویٹ کیسے کروایا جا سکتا ہے؟ آپ قہقہہ لگا کر میری بات کو نظر انداز کرنا چاہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا آپ کو اس اذیت کا احساس ہی نہیں ،جس سے میں گزرا ہوں اور گزر رہا ہوں۔یہاں بنکوں کے نظام کو دیکھنے کا کوئی ایسا قابل عمل اور قابل بھروسہ نظام موجود نہیں، جو سائل کی جلد داد رسی کر سکے، اس لیے میں اپنا مسئلہ قارئین کی عدالت میں لے آیا ہوں
مزید پڑھیے


مشرق وسطیٰ کے آزار سے ہشیار رہیے

جمعرات 01 اکتوبر 2020ء
آصف محمود
پاکستان کے مسائل کو دیکھنے اور سمجھنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ ن لیگ ، پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ، جے یو آئی، پرو اسٹیبلشمنٹ ، اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور دیگر عنوانات کے تحت اپنے معاملات کو دیکھیں اور دوسرا یہ کہ آپ صرف ایک پاکستانی کے طور پر حالات کا جائزہ لیں۔اگر ہم اول الذکر انداز فکر اختیار کریں تو مزے ہی مزے ہیں ، ہنسی ہے، مزاح ہے ، تفنن طبع ہے ، فقرے بازی ہے ، گالیاں ہیں ، دشنام ہے ، لذت گفتار ہے ، دادو تحسین ہے اور واہ واہ
مزید پڑھیے


نیا سرگودھا ، نئے ڈکیت۔۔۔بزدار صاحب آپ سن رہے ہیں؟

بدھ 30  ستمبر 2020ء
آصف محمود
ایک روز میں تین فون آئے۔پہلا فون سرگودھا شہر سے تھا ، دوسرا گائوں سے اور تیسرا جوہر آباد سے۔ اور تینوں میں ایک ہی واردات کا بیان تھا۔ پہلے تیسرے فون کا قصہ سن لیجیے۔ شام ڈھل رہی تھی جب یہ فون آیا۔ آصف بھائی یہاں مسجد میں ایک اعلان ہو رہا ہے ، ذرا توجہ سے سنیے۔ فون پر آواز ذرا مدھم تھی لیکن اعلان سنا جا رہا تھا۔ اعلان کیا تھا ، آپ بھی سن لیجیے :’’ تمام لوگ توجہ سے ایک ضروری اعلان سنیں ۔شہر میں خطرناک ڈاکوئوں اور چوروں کا ایک گروہ آیا ہوا ہے
مزید پڑھیے