BN

آصف محمود



مشرق وسطی کے خطرناک رجحانات ۔۔۔ہماری دہلیز پر


مشرق وسطی کی سیاست کا آزار پاکستان کی دہلیز پر دستک دے رہا ہے ، یہ فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے کواڑ مقفل کر لینے ہیں یا دروازے وا کر کے اس آزار کو گلے لگانا ہے۔ سوال یہ کہ داخلی سیاست کے گرداب میں پھنسے اس سماج کو کچھ احساس ہے کہ مشرق وسطی سے ہمارے لیے کون کون سے چلینجز پیدا ہو چکے ہیں؟ مشرق وسطی کی سیاست میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی۔ پہلے یہاں دو حریف تھے: ایران اور سعودی عرب ۔ ہمارے لیے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ایک برا امتحان ہوتا
منگل 19 نومبر 2019ء

کارکردگی کہاں ہے؟

پیر 18 نومبر 2019ء
آصف محمود
سترہ روپے کلو ٹماٹر اور پانچ روپے کلو مٹر سے قوم کے شعور اجتماعی کی توہین کے بعد اب ارشادِ تازہ یہ ہے کہ کسی بے روزگار کو نوکری دینا حکومت کا مینڈیٹ ہی نہیں۔جناب حفیظ شیخ کی اس رفو گری سے یاد آیا وہ کیسی حسین شام تھی جب عمران خان نے پلکوں میں سپنوں کی حدت لیے اپنا انتخابی منشور پیش کیا تھا ۔منشور کے باب چار میں لکھا تھا ہم اگر اقتدار میں آ گئے تو ہم پانچ برسوںمیں 10 ملین ملازمتیں فراہم کریں گے۔یعنی ہر سال میں بیس لاکھ ملازمتیں، یعنی ہر ماہ میں ۱یک لاکھ
مزید پڑھیے


لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟

هفته 16 نومبر 2019ء
آصف محمود
لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟ آئیے آج اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس کی پہلی وجہ اس سماج کی نفسیاتی تشکیل کا عمل ہے جہاں آج تک ٹیکس دینے کو شعوری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔یہ جاننے کے لیے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ برصغیر میں باقاعدہ ٹیکس کب لگا اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔ یہ ٹیکس 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانیہ نے لگایا اور اس کی اعلانیہ وجہ یہ قرار دی گئی کہ عظیم برطانوی سلطنت کو چونکہ ہندوستان میں اس جنگ آزادی میں بھاری اخراجات کرنے پڑے اس لیے اس نقصان
مزید پڑھیے


واہ واہ کیا معتدل ہے باغِ عالم کی ہوا

جمعه 15 نومبر 2019ء
آصف محمود
نواز شریف کا نام کس وقت ای سی ایل سے نکلتا ہے ،اس پر اہل ہنر مضامین باندھ رہے ہیں ۔ کہیں قانون دوستی کی آبشاریں پھوٹ رہی ہیں اور پیچیدہ قانونی نکتوں کے جواہرات دریافت ہو رہے ہیں کہ نہیں جی ہم انہیں بانڈز لیے بغیر تو نہیں جانے دیں گے تو کہیں انسان دوستی کے چشمے بہے چلے جارہے ہیں اور حشرات الارض کو جنہیں تفنن طبع کی مستی میں گاہے عوام کہا جاتا ہے ، یہ بتایا جا رہا ہے کہ عزت مآب وزیر اعظم نے انسانی ہمدردی کے عظیم اظہار کے طور پر آئوٹ آف دی
مزید پڑھیے


قومی سیاست اور نیا فضل الرحمن

جمعرات 14 نومبر 2019ء
آصف محمود
آزادی مارچ کے بعد مولانافضل الرحمن کا تعارف کیا ہے؟ ان کی شناخت ایک محدود علاقے یا ایک فرقہ بند مذہبی سوچ کے نمائندے کی ہے یا قومی سطح کے ایک سیا سی رہنما کی؟ مولانا فضل الرحمن کی تازہ مہم جوئی ، کیا ان کے لیے قومی دھارے کی سیاست میں کچھ امکانات پیدا کر سکے گی یا وہ اب بھی چند علاقوں میں ایک مخصوص مکتب فکر تک محدود رہیں گے؟اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے لازم ہے کہ ہم یہ بات جان لیں کہ مولانا آج جہاں کھڑے ہیں اس کا فکری اور
مزید پڑھیے




’’علی گیلانی کو اب کوئی خط نہیں لکھتا‘‘

بدھ 13 نومبر 2019ء
آصف محمود
سرینا کے سامنے سے گزرتے ہوئے’ کرفیو کائونٹر‘ پر نظر پڑی تو معلوم ہوا کشمیر میں کرفیو کو 100 دن ہو چکے۔ دل لہو سے بھر گیا۔ گیبریئل گارشیا مارکیز کا ’’تنہائی کے 100 سال‘‘ یاد آ گیا۔ اب بیٹھا سوچ رہا ہوں سری نگر کے محلے حیدر پورہ میں بیٹھے علی گیلانی بھی ’’ تنہائی کے 100 دن‘‘ کے نام سے ایک ناول لکھ دیں تو نارسائی کے ان موسموں میںکیا عجب ایک ایسا شاہکار تخلیق ہو جائے کہ Magic Realism کو حقیقی معنوں میں مجسم کر دے۔ علی گیلانی ایک فرد واحد نہیں، وہ عزیمت کا استعارہ ہیں۔ جانے
مزید پڑھیے


ن لیگ کہاں ہے؟ ن لیگ تھی کہاں؟

منگل 12 نومبر 2019ء
آصف محمود
آزادی مارچ کے نکلنے پر جنہیں گمان تھا جاتی عمرا کے راستوں کی دھول عزیمت کی کہکشاں بن جائے گی ان کی آنکھوں کے سمندر میں اترے مدوجزر اب سراپا سوال ہیں: ن لیگ کہاں ہے؟ اور میرے جیسا طالب علم سوچ رہا ہے : ن لیگ تھی ہی کہاں؟یہ تو شاہ معظم کا دربار تھا جس میں مغنی تھے ، قصیدہ گو تھے ، ملک الشعراء تھے اور خدام ادب داد سخن پانے کو جھولی پھیلائے کھڑے تھے۔جس عفیفہ کا اس دربار میں کوئی وجود نہیں تھا دل و مژگاں کی روبکار اس کے نام کیوں
مزید پڑھیے


نئے پاکستان میں اقبال کی چھٹی؟

هفته 09 نومبر 2019ء
آصف محمود
نئے پاکستان میں اقبال کی تو ’’ چھٹی‘‘ ہو گئی ہے، پرانے پاکستان کا خواب دیکھنے والوں کا نئے پاکستان میں کیا کام؟ دیکھنا اب یہ ہے کہ سونامی کے گزر جانے کے بعد پرانے پاکستان کے کتنے نقوش ہیں جو سلامت رہ پاتے ہیں؟ جی ہاں مجھے معلوم ہے ، اقبال کی ’’ چھٹی‘‘ بنیادی طور پر نواز شریف کے دور میں ہوئی تھی جب ایک وزیر محترم نے اقبال کا شعر غلط لکھ کر بتایا تھا کہ ’’بندہ حُر‘‘ اب ہر نقشِ قدیم مٹا دینے پر تل چکا ہے۔لیکن جب یہ حادثہ ہوا تھا اور میرے جیسے طالب
مزید پڑھیے


کیا ہم بھی ’ ’یہودی سازش‘ ‘کر سکتے ہیں؟

جمعرات 07 نومبر 2019ء
آصف محمود
گاہے یوں محسوس ہوتا ہے وطن عزیز کے تمام نیم خواندہ محققین کرام نے ’’ یہودی سازشوں‘‘ پر پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اب ان کی باقی ماندہ زندگی کا مقصد یہی ہے کہ اس عظیم تحقیق کی روشنی میں فرزندان حق کو لمحہ لمحہ با خبر رکھیں کہ یہودی وطن عزیز میں کس وقت کون سی سازش کر رہے ہوتے ہیں۔ محققین کرام اپنی تحقیق کی روشنی میں ہر اینٹ کے نیچے سے دس پندرہ سازشیں ہر سہ پہر برآمد فرما کر داد طلب ہوتے ہیں اورصف نعلین میں کھڑا میرے جیسا طالب علم حیرت سے یہی سوچتا
مزید پڑھیے


محمود خان اچکزئی کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں؟

اتوار 03 نومبر 2019ء
آصف محمود
عمران خان حکومت سے مایوسی اور بے زاری اپنی جگہ لیکن یہ کیسے مان لیا جائے کہ بزرگانِ سیاست جو آزادی مارچ لے کر اسلام آبادمیں پڑائو ڈالے ہیں یہ اب ہمارے مسیحا بن گئے ہیں؟ غلطی ہائے مضامیں کی تصویر بنے ان بزرگان کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ مولانا صاحب کے دائیں جانب محترم محمود خان اچکزئی کھڑے ہیں۔یہ بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف مولانا کے ساتھ ہیں۔یہ منظر دیکھا تو مولانا ظفر علی خان یاد آ گئے : بدھو میاں بھی حضرت گاندھی کے ساتھ ہیں گو مشت، خاک ہیں مگر آندھی کے ساتھ ہیں سالار ِ جمہوریت محمود
مزید پڑھیے