Common frontend top

BN

آصف محمود


ہم شہری ہیں یا مال غنیمت؟


بھارت کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے اور اس کی لوک سبھا کے اراکین کی تعداد 543 ہے جب کہ پاکستان کی آبادی 23 کروڑ ہے اور اس کی قومی اسمبلی کی نشستیں 342 ہیں۔پاکستان کا فارمولا بھارت میں لاگو ہوتا تو بھارت کی لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 2 ہزار سے زیادہ ہونی چاہیے تھی اور بھارت کا فارمولا پاکستان میں لاگو ہوتا تو پاکستان کی قومی سمبلی کی تعداد صرف 135 ہونی چاہیے تھی۔ کیا ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ معاشی طور پر خاصے مستحکم بھارت کی لوک سبھا کے اراکین کی تعداد صرف 543
منگل 31 جنوری 2023ء مزید پڑھیے

لوگ ہنستے کیوں نہیں؟

هفته 28 جنوری 2023ء
آصف محمود
کبھی خود کو اور اپنے ارد گرد لوگوں کو غور سے دیکھیے اور پھر اس سوال پر غورکیجیے کہ لوگ ہنسنا کیوں بھول گئے ؟ یہ کیا معاملہ ہے کہ ا کثریت کے چہروں پر تنائو ، اضطراب اور غصہ نمایاں ہے؟ ہنستے ،مسکراتے چہرے کیا ہوئے؟اس معاشرے کو کس کی نظر لگ گئی؟ ایک دوڑ سی لگی ہے۔ ہر آدمی بھاگ رہا ہے۔ کسی کے پاس وقت نہیں۔ افراتفری کا سماں ہے۔وحشت کے عالم میں لوگ جا رہے ہیں اور آ رہے ہیں جیسے ان کے پیچھے آگ لگی ہو یا منگولوں کا کوئی لشکران کے تعاقب میں ہو۔
مزید پڑھیے


پاکستان ایک ملک ہے یا تجربہ گاہ؟

جمعرات 26 جنوری 2023ء
آصف محمود
پاکستان کے بارے میں ناگزیر اور پائیدار فیصلے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ Now or Never والی صورت حال ہے۔ ہم نے نت نئے تجربات کر کے اپنا حلیہ بگاڑ لیا ہے۔ ہم اگر ایک تجربہ گاہ نہیں ہیں بلکہ ایک قوم ہے جو ایک ملک میں رہ رہی ہے، تو ہمیں طویل المدتی فیصلے کرنا ہوں گے ۔ ایڈ ہاک ازم کی اب ہمارے پاس کوئی گنجائش باقی نہیں بچی۔پاکستان کا قیام بیسویں صدی کا ایک منفرد تجربہ تھا۔ لیکن پاکستان بہر حال کوئی تجربہ گاہ نہیں تھی،یہ ایک نعمت تھی اور
مزید پڑھیے


اسلام آباد کلب: دھوتی سے آگے

منگل 24 جنوری 2023ء
آصف محمود
اسلام آباد کلب کا مسئلہ دھوتی نہیں ہے۔ یہاں کوئی بابو سوٹ پہن کر جائے یا کوئی بانکا دھوتی اوڑھ کر‘ یہ اشرافیہ تخلص کرنے والی اقلیت کی افتاد طبع کے معاملات تو ہوسکتے ہیں، ان سے عام شہری کا کوئی واسطہ نہیں۔ عام آدمی کے سوالات کچھ اور ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ان کی طرف نہ کسی رکن پارلیمان کی توجہ ہوتی ہے نہ کسی بیوروکریٹ دانشور کی۔ اسلام آباد کلب اشرافیہ اور افسر شاہی کی موج مستی کے لیے بنایا گیا، ایک گوشہ عافیت ہے۔ خرابی مگر یہ ہے کہ اشرافیہ نے یہ سارا بندوبست قومی خزانے کو
مزید پڑھیے


یہ پارلیمان کس کی نمائندہ ہے؟

جمعرات 19 جنوری 2023ء
آصف محمود
لوگ آٹے کی ایک ایک بوری کے لیے جان سے گزر رہے ہیں اور سیاسی اشرافیہ نت نیا تماشا لگا کر داد وصول کرتی ہے۔ کوئی استعفے دے رہا ہے اور کوئی استعفی قبول کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے اس غیر سنجیدہ تماشے کا بوجھ غریب عوام کیوں اٹھائے۔ اسمبلی بجٹ کے مطابق پارلیمان کے ایک دن کے اجلاس کا اوسط خرچ چھ کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر پارلیمان میں یہی کچھ ہونا ہے تواشرافیہ کی اس تفریح کا خرچ عوام کیوں برداشت کرے؟ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس کی دفعہ 5 کے مطابق
مزید پڑھیے



کراچی انتخابات:الیکشن کمیشن جواب دے

منگل 17 جنوری 2023ء
آصف محمود
اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی؟ ۔۔۔پرانے وقتوں میں لوگ یہ سوال اونٹ سے پوچھا کرتے تھے۔ کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں الیکشن کمیشن کی شاندار کارکردگی کے بعد ،کوئی چاہے تو یہی سوال الیکشن کمیشن سے بھی پوچھ سکتا ہے۔ سوالات بہت سارے ہیں مگر ان سب کا حاصل پھر ایک ہی سوال ہے: کیا الیکشن کمیشن آئندہ عام انتخابات بھی اسی طرح کرائے گا جیسے اس نے کراچی کے بلدیاتی انتخابات کرائے؟ اگر اس سول کا جواب ہاں میں ہے تو عالی جاہ ، آپ سب کا اقبال بلند ہو ، اس تماشے کے لیے
مزید پڑھیے


پی ڈی ایم: پاکستان ڈیموکریٹک میوزیم؟

هفته 14 جنوری 2023ء
آصف محمود
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ آیا تو وفاقی حکومت عمران خان سے گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی اور کراچی میں انتخابات قریب آئے تو سندھ حکومت نے حافظ نعیم الرحمن کے ڈر سے انتخابات معطل کر دیے۔ سوال یہ ہے کہ اس خوف کے ساتھ پی ڈی ایم کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ یہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ہے یا پاکستان ڈیموکریٹک میوزیم؟ خوف دیکھیے ، درجن سے زیادہ جماعتیں یک جان دو قابل ہیں اور دارلحکومت میں بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف سے شکست کا خوف انہیں دامن گیر ہے۔ ادھر کراچی میں تمام عظیم
مزید پڑھیے


ہماری بریانی کھاتے ہو؟

جمعرات 12 جنوری 2023ء
آصف محمود
دو لوگ کان پکڑے مرغا بنے ہوئے ہیں اور معززین علاقہ ان سے تفتیش فرما رہے ہیں۔ ویڈیو پر نظر پڑی تو خیال آیا یقینا یہ کسی سنگین جرم میں ملوث ہوں گے۔ اسلام آباد میں اگلے روز ایک خود کش حملہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ اس کے بعد سے اسلام آباد میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور جدھر جائیں ناکے لگے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد انتظامیہ نے لوگوں سے درخواست کر رکھی ہے کہ جہاں کہیں جانا ہو بیس پچیس منٹ کا مارجن رکھ کر نکلیں کیونکہ راستے میں تفتیش ہو سکتی
مزید پڑھیے


جنٹل مین بن کے دکھائو

منگل 10 جنوری 2023ء
آصف محمود
پانچویں کے بعد ہائی سکول میں داخلہ لیا تو انگریزی پڑھنی شروع کی۔ ایک دن چھٹی کی درخواست لکھواتے ہوئے استاد یوسف صاحب نے I beg to say لکھوایا تو ہاتھ پتھر کے ہو گئے۔دل نے آواز دی کہ چھٹی کوئی دے یا نہ دے لیکن یہ بھیک نہیں مانگی جا سکتی کہ I beg to say۔ ابھی دماغ میں Beg کی ذلت کا احساس ختم نہیںہوا تھا کہ درخواست ختم بھی ہو گئی۔ اب کی بار درخواست کے اختتام پر استاد جی نے لکھوایا: Your obedient servant.۔ اب تو کنپٹیاں ہی سلگ اٹھیں۔ یہ کیسے
مزید پڑھیے


غلامی کی چھٹیاں

هفته 07 جنوری 2023ء
آصف محمود
جب سردیاں آتی ہیں تو سردیوں کی چھٹیاں ختم ہو چکی ہوتی ہیں۔ چنانچہ ہم سردیوں کی چھٹیاں بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن ہم یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ ہم سردیوں کی چھٹیاں سردی کا زور پڑھنے سے پہلے کیوں کرتے ہیں؟ کمپنی بہادر بھی قصہ ماضی ہو گئی اور بر صغیر میں برطانوی راج بھی ختم ہو گیا لیکن ہم ایک وفادار رعایا کی طرح نو آبادیاتی آقائوں کے بندو بست پر اندھے، بہرے اور گونگے ہو کر یوں عمل پیرا ہیں گویاہمیں یہ خوف ہو کہ ہم نے اس نو آبادیاتی بندوبست میں کوئی تبدیلی کر لی تو
مزید پڑھیے








اہم خبریں