BN

آصف محمود


غیر مذہبی انتہا پسندی ؟


مذہبی انتہا پسندی کے بعدمعاشرے کو اب غیر مذہبی انتہا پسندی کا سامنا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ انتہا پسندی کی یہ دونوں شکلیں تباہ کن ہیں۔ نجات صرف اعتدال میں ہے۔سماج اگر توازن اور تہذیب کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اسے انتہا پسندی کی ہر شکل کی نفی کرنا ہو گی۔ مذہبی انتہا پسندی کے مظاہر ہمارے لیے اجنبی نہیں ، ہم یہ سب کچھ دیکھ چکے۔اس پر مزید کچھ کہنا تکرارکے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ غیر مذہبی انتہا پسندی کا طریق واردات البتہ مختلف ہے اور یہ حسین عنوانات کے تحت بروئے کار آ
هفته 10 اپریل 2021ء

کیا وزیر خارجہ کی چھتری ’’ نان ایشو‘‘ ہے؟

جمعرات 08 اپریل 2021ء
آصف محمود
احباب نے ڈانٹ لکھ بھیجی ہے کہ روسی وزیر خارجہ کے اتنے اہم دورے کے موقع پر ہمارے ہاں وزیر خارجہ کی چھتری جیسے نان ایشو پر کیوں مضامین باندھے جا رہے ہیں؟ کیا یہ ہمارے فکری افلاس کا ثبوت نہیں ہے؟ احباب کو معلوم ہونا چاہیے کہ بنیادی طور پر یہ چھتری نہیں بلکہ جناب وزیر خارجہ کا رویہ ہے جس پر ملک بھر میں بات کی جا رہی ہے۔امور خارجہ بہت نازک ہوتے ہیں۔ یہاں آپ اس دھج سے نہیں جا سکتے جیسے حلقہ انتخاب یا جلسہ عام میں جاتے ہوں۔ افتاد طبع حائل بھی ہو
مزید پڑھیے


مارگلہ کے درے

منگل 06 اپریل 2021ء
آصف محمود
آپ نے درہ خیبر، درہ گومل اور درہ بولان کے نام تو سن رکھے ہوں گے لیکن کیا آپ مارگلہ کے قدیم دروں سے بھی آگاہ ہیں جو مسافروں کو گئے زمانوں کی کہانیاں سناتے ہیں؟ یہ وہ درے ہیں جو قدیم وقتوں میں مارگلہ کے پہاڑوں میں آمدورفت کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا ، یہ سارے درے اپنے اصل ناموں سے پکارے جاتے ہیں ۔پھر جب ڈھوک جیون ای سیون بنا ، کٹاریاں جی فائیو اور باغ کلاں جی سکس ہو گیا ، گدڑ کوٹھا ایف سیون اور بھیکا سیداں ایف الیون بن گیا،بامیاں ایف
مزید پڑھیے


وزیر اعظم مسئلہ کشمیر کو کتنا جانتے ہیں؟

پیر 05 اپریل 2021ء
آصف محمود
جناب وزیر اعظم نے کہا ہے کشمیر کی آئینی حیثیت بحال ہونے تک بھارت سے تجارت نہیں ہو گی ۔ سوال یہ ہے کہ کون سی آئینی حیثیت؟ ایک طالب علم کے طور پر میں جاننا چاہتا ہوں کہ ’’ آئینی حیثیت بحال‘‘ ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ بھارت کے آئین کا آرٹیکل 370 کیا ہمارے وزیر اعظم کے مطابق کشمیر کی ’’ آئینی حیثیت‘‘ کا تعین کرتا تھا ؟ اور کیا اس آرٹیکل کی بحالی سے کشمیر کی ’’ آئینی حیثیت‘‘ بحال ہو جائے گی؟ آرٹیکل 370 کے خاتمے سے پہلے کی صورت حال کیا جناب وزیر اعظم
مزید پڑھیے


کیا آپ کے گھر میں کوئی گھونسلا ہے؟

هفته 03 اپریل 2021ء
آصف محمود
درہ جنگلاں میں ، واٹر سپرنگ پر ، ندی کے کنارے بیٹھا ہوں ۔ جنگل کی تیز ہوا نوخیز پتوں کو گزرے وقتوں کی کہانیاں سنا رہی ہے۔ کچھ پتے ہیں جو جھوم جھوم جاتے ہیں اور کچھ ہیں جو ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ خاموش جنگل میں پرندوں نے شور مچا رکھا ہے۔ جیسے پری سکولنگ کے بچے کھیل رہے ہوں۔ سامنے درخت تلے ایک جائے نماز بچھی ہے اس کے پہلو سے بدھ مت کے گھپائوں کی طرف جاتی پگڈنڈی پر دو مرغ سیمیں چہل قدمی کر رہے ہیں۔ یہ اس جنگل کا حسن ہیں۔آنکھوں کے گرد
مزید پڑھیے



کیا انسان اور وائلڈلائف ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں؟

جمعرات 01 اپریل 2021ء
آصف محمود
پلک سری میں ہونے والے واقعے نے اس سوال کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے کہ کیا وائلڈ لائف اور انسان اپنے اپنے دائرہ کار میں ساتھ ساتھ رہ سکتے ہیں؟ ا س سوال کا وقتی اشتعال یا جذباتیت سے نہیں،دردمندی اور سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ معلوم نہیں یہ ہماری افتاد طبع ہے یا تربیت میں کوئی کمی رہ گئی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ جہاں ہمیں جنگلی حیات نظر آ جائے ، ہمارے سر پر خون سوار ہو جاتا ہے اور اپنی وحشت ہم سے تھامی نہیں جاتی۔ پلک سری میں تو خیر لوگوں کا
مزید پڑھیے


معیشت پر بات کیوں نہیں ہو رہی؟

منگل 30 مارچ 2021ء
آصف محمود
معیشت اس وقت پاکستان کا سب سے بڑااورسنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ دو سوالات بہت اہم ہیں ۔پہلا یہ کہ قرض کب تک لیا جاتا رہے گا اور دوسرا یہ کہ قرض واپس کیسے کیا جائے گا؟ لیکن کیا کبھی آپ نے پارلیمان کے اندر یا باہر کہیں بھی کسی بھی سطح پر اس مسئلے پر کوئی سنجیدہ مکالمہ ہوتے دیکھا ہے؟ آئے روز درجنوں اہل سیاست پریس ٹاک کرتے ہیں اور پریس ریلیزیں جاری کرتے ہیں، ہر روز ان پر جواب آں غزل کہا جاتا ہے،ہر شام ڈیڑھ سو کے قریب ٹاک شوز میں چار سو کے قریب مہمانان
مزید پڑھیے


کیا چین کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا؟

پیر 29 مارچ 2021ء
آصف محمود
چینی وزیر خارجہ نے ایران میں کھڑے ہو کر بھارت پر ایک ذو معنی فقرہ اچھالا،پاکستان میں یاروں نے ضد شروع کر دی کہ یہ اڑتا تیر تو ہم اپنی’’ بغل‘‘ میں لے کر ہی رہیں گے۔یہ کفران نعمت تو ہم سے نہیں ہوتا کہ اڑتا تیر دکھائی دے اور ہم اسے اپنی’’ بغل ‘‘میں نہ لے لیں۔ ذرا دیکھیے انہوں نے کہا کیا؟ان کا کہنا تھا کہ ایران دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کا تعین آزادانہ طور پر کرتا ہے اور وہ ان ممالک کی طرح نہیں جو ایک فون کال پر اپنی پوزیشن بدل لیتے ہیں۔ مقرر
مزید پڑھیے


ٹریل سکس بندہے

هفته 27 مارچ 2021ء
آصف محمود
درہ کوانی میں چیتے پہاڑوں سے اتر کر نیچے جنگل تک آ گئے ہیں ، ٹریل سکس بند کر دیا گیا ہے۔ وائلڈ لائف کے دو اہلکار کچنار کے درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔انہوں نے بتایا کہ سامنے پگڈنڈی کے پہلے موڑ تک چیتوں کی آمدورفت کیمروں میں دیکھی گئی ہے اور جنگل میں جانا خطرناک ہو سکتا ہے۔ٹریل کے بند گیٹ پر نظر پڑی ، لکھا تھا: Beware of the Leopard ۔ بچپن میں پڑھی ان کتابوں کا ذائقہ آج تک وجود سے لپٹا ہوا ہے جو سندر بن کے آدم خوروں ، بنگال کے جنگلوں کے شیروں چیتوں
مزید پڑھیے


لالچی کسان اور ڈیجیٹل درویش

جمعرات 25 مارچ 2021ء
آصف محمود
سوشل میڈیا پر اہل دانش بقلم خود کا ایک طبقہ ایسا ہے جس کے نزدیک معلوم انسانی تاریخ کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جس دن وہ سوشل میڈیا پر پیدا ہوئے تھے۔ان کے ہاں دنیاکا ہر کام پہلی مرتبہ ہو رہا ہے اور میلے میں گھومتے بچے کی حیرانی سے ایک ایک چیز کو دیکھتے ہیں اور آواز لگاتے ہیں : پہلی بار صاحب پہلی بار۔واہ صاحب واہ۔کنویں کا مینڈک اپنے کنویں کی وسعت کو کل کائنات سمجھتا تھا۔یہ ڈیجیٹل دانشوران اپنے موبائل سکرین سے باہر کسی زندگی کے وجود کے قائل نہیں۔ زرعی زمینوں پر ہائوسنگ
مزید پڑھیے