BN

آصف محمود



تعزیر کا کوڑا عثمان بزدار کی پشت پر کیوں؟


پنجاب ڈیلیور نہیں کرر ہا اور پنجاب کی وجہ سے تحریک انصاف پر دبائو بڑھ رہا ہے ، فواد چودھری صاحب سے منسوب ارشاد تازہ نظر سے گزرا تو میر یاد آگئے: کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر بہت ا س غزل پر رلایا ہمیں ضبطِ گریہ کی کسی محفل میں خود احتسابی کا لمحہ مبارک سہی ، ، سوال مگر یہ ہے خود وفاق کے رخ روشن پر کارکردگی کے کتنے ہیرے موتی لعل جڑے ہیں؟ پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی کارکردگی تو قابل اطمینان نہیں لیکن وفاق میں کپتان کی کارکردگی کون سی چشمِ غزلاں بنی ہوئی
هفته 18 جنوری 2020ء

حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے؟

جمعرات 16 جنوری 2020ء
آصف محمود
جناب وزیر اعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے ناجائز رقوم ہتھیانے والے بیوروکریٹس کے نام ’’ پبلک‘‘ کر دینے کا حکم دیا اور نونہالان انقلاب نے مرحبا ، سلامت اور آفرین کے نغموں سے ماحول کو غزل بنا دیا ۔ مرزا غالب نے کہا تھا : کٹے زبان تو خنجر کو مرحبا کہیے۔میرے جیسا عامی بیٹھا سوچ رہا ہے حکومت کیا شام کا اخبار ہوتی ہے اور وزیر اعظم اس کے سینئر نیوز ایڈیٹر ،جن کی ترک تازی کا کمال صرف یہ ہے کہ ہر خبر پورے ہیجان کے ساتھ عوام تک پہنچ جائے؟رشک ِ مسیحا
مزید پڑھیے


کالم لکھنا ہے مگر کیا لکھا جائے؟

بدھ 15 جنوری 2020ء
آصف محمود
آج پھر کالم لکھنے بیٹھا ہوں ، آج پھر جاوید میانداد یاد آ رہے ہیں۔ کچھ دن پہلے جاوید میانداد صاحب سے فون پر بات ہوئی ، کچھ ان خوابوں کا ذکر ہوا جن کی حدت پلکوں میں لیے وہ بھی نکلے تھے ،عمران خان اور کرکٹ کے نئے ڈھانچے پر جب کافی گفتگو ہو چکی تو انہوں نے خدا حافظ کہنے سے پہلے ایک ایسی بات کہہ دی کہ فون بند ہونے کے بعدمیں کتنی ہی دیر وہیں پتھر بنا بیٹھا رہا۔ کہنے لگے دیکھو آپ کالم لکھتے ہو ، ایک کام کیا کرو۔روز رات سونے سے پہلے اللہ سے
مزید پڑھیے


عمران خان ۔۔۔۔ کب تک؟

منگل 14 جنوری 2020ء
آصف محمود
مزاج، افتاد طبع اور اہلیت کے باب میں عمران خان اب کسی خوش گمانی یا حسن ظن کا نام نہیں ، اقتدار کے ڈیڑھ سال میں یہ جان ادا اس قوم پر یوںکھلا ہے پورے چاند کی رات میں جیسے کوئی برف زار آشکار ہو جائے۔سوال اب یہ ہے کیا اس مزاج ، اس افتاد طبع اور اس اہلیت کے ساتھ امور ریاست چلائے جا سکتے ہیں ؟جس بندوبست میں لوگ اپنے وجود میں بکھر رہے ہوں اس پر آخر کب تک اور کتنا اصرار کیا جا سکتا ہے؟ عمران خان کے اقتدار کے ڈیڑھ سال ہمارے سامنے ہیں۔ نتائج کا
مزید پڑھیے


اسلامی نظریاتی کونسل کی کیا ضرورت ہے؟

هفته 11 جنوری 2020ء
آصف محمود
اسلامی نظریاتی کونسل کی ضرورت ہی کیا ہے؟ امور خارجہ سے لے کر معیشت تک اس قوم کی رہنمائی کے لیے جب وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جیسی شہرہ آفاق وزارت موجود ہے جو اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ رویت ہلال کمیٹی کی ضد میں صرف عیدوں پر ہی نہیں، ولیمے کی تقاریب میں بھی جب اور جہاں چاہے چاند چڑھا دے تو اب وطن عزیز میں کسی اور ادارے کا کیا کام؟ ذرافردِ جرم پڑھیے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف جاری فرمائی گئی۔ارشاد ہوا: ’’ آج تک مذہبی طبقات کی سوچ کو اسلامی نظریاتی کونسل
مزید پڑھیے




امریکہ پیچھے کیوں ہٹا؟

جمعه 10 جنوری 2020ء
آصف محمود
ٹرمپ کا آگ اگلتا لہجہ اتنا متوازن کیسے ہو گیا اور امریکہ نے جوابی حملے کی بجائے اقوال زریں سنانے پر اکتفا کیسے کر لیا؟ کیا یہ جنگ پر آمادہ ایران کی قوت تھی جس نے امریکہ کو پسپا کر دیا ؟میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ٹرمپ کی افتاد طبع پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کا تدبر غالب آ گیا ہے تو اس کی وجہ کچھ اور ہے۔ایران کی فوجی طاقت امریکہ کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کیا اس وقت صدام حسین کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوج تھی۔ اس کا جو
مزید پڑھیے


امریکہ رے امریکہ ! تیری کون سی کل سیدھی؟

منگل 07 جنوری 2020ء
آصف محمود
ایران امریکہ تنازع کی بڑھتی حدت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ پڑھے تو رچرڈ ریویز یاد آگئے، نیویارک یونیورسٹی سکول آف لاء کے ڈین نے کہا تھا:’’ہم امریکی اپنی رہنمائی کے حوالے سے بے ہودہ اور واہیات باتیں علی الاعلان کرتے ہیں‘‘۔اسی سفاک رویے کی شرح بیان کرتے ہوئے ولیم بلم نے اپنی کتاب’’ کلنگ ہوپس،یو ایس ملٹری اینڈ سی آئی اے انٹر ونشنز سنس ورلڈ وار ٹو‘‘میں لکھا :’’بات یہ نہیں ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی اس لیے بے رحم ہے کیونکہ اس کی قیادت بے رحم ہے۔معاملہ یہ ہے کہ ہمارے رہنما اس لیے بے رحم
مزید پڑھیے


کیا ایران اور امریکہ میں جنگ ہو سکتی ہے؟

اتوار 05 جنوری 2020ء
آصف محمود
کیا ایران اور امریکہ میں جنگ ہو سکتی ہے؟ چند سال قبل میرے مطابق اس کا جواب نفی میں تھا، آج اس سوال کا جواب ’’ ہاں ‘‘ ہے۔ جن عوامل نے امریکہ کو اس تصادم سے روک رکھا تھا ،ان میں اب وہ شدت نہیں رہی کہ امریکہ کو کسی مہم جوئی سے روک سکیں۔ایران کے جس ممکنہ اقدام سے امریکہ خائف ہوا کرتا تھا اب ہو سکتا ہے امریکہ خود یہ چاہتا ہو ایران وہ قدم اٹھا ہی لے۔طاقت کا توازن ہی نہیں ، پورا منظر نامہ بدل چکا ہے اور انتہائی خوفناک طوفان خطے کی طرف بڑھ
مزید پڑھیے


امریکہ، برادران اسلام اور امت

هفته 04 جنوری 2020ء
آصف محمود
ایرانی جنرل قاسم سلمانی امریکی حملے میں جاں بحق ہو گئے ، بہت افسوس ہوا لیکن دریچہ دل پر ایک سوال نے بھی دستک دی ۔ سوال یہ ہے کہ قاسم سلمانی عراق میں کیا کر رہے تھے؟ امریکہ کی ایک تاریخ ہے ۔اس تاریخ کے ورق ورق سے لہو ٹپک رہا ہے۔ معلوم انسانی تاریخ کے سارے فاتحین کے ہاتھوں تاراج بستیوں کے مقتولین ایک طرف رکھ دیں تب بھی مریکہ کے ہاتھوں مارے جانے والوں کی تعداد زیادہ ہو گی۔امریکہ مغرب کے جمہوری نظام کے بارے اقبال کے اس شعر کی شرح ہے کہ ’’ چہرہ روشن اندروں چنگیز
مزید پڑھیے


یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی؟

جمعه 03 جنوری 2020ء
آصف محمود
اگر آپ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ 2019 ء میں آپ کتنی لائبریریوں میں گئے ، وہاں کتنے گھنٹے گزارے اور اس پورے سال میں آپ نے کتنی کتب کا مطالعہ کیا تو آپ کا جواب کیا ہو گا؟ افتخار عارف جیسے اسیر عشق نے کہا تھا: عجب گھڑی تھی، کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی۔ برادرم احمد اعجاز نے ایک دن پوچھا : کچھ سمجھ آئی افتخار عارف کیا کہہ گئے ہیں؟کچھ سوال پر غور کیا ، تھوڑا شعر پر ، دن ڈھل چکا تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی یہ جنگل ہٹ پر شام
مزید پڑھیے