آصف محمود

یہ دن ہیں جنہیں اللہ لوگوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے

منگل 14  اگست 2018ء
قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس نہیں ، یہ قیامت کی گھڑی تھی ۔ یہ عرفان ذات کا لمحہ تھا۔ صدیوں کے تجربات کانچوڑ تھا جو صبح گویا بارش کے ساتھ برس پڑا تھا۔ ایک طرف عمران خان قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے آ رہے تھے دوسری جانب نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے عدالت لایا جا رہا تھا۔ عمران خان کا سفر روشنیوں میں نہایا تھا اور نواز شریف سلاخوں کے پیچھے بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے کی علامت بنے تھے۔وقت کا موسم بدل چکا تھا۔ فرمان رب کریم یاد آ گیا : تلک الایام نداولھا
مزید پڑھیے


کیا عمران خان کامیاب حکمران ثابت ہو سکیں گے؟

پیر 13  اگست 2018ء
ایک طویل جدوجہد کے بعد عمران خان وزیر اعظم بننے میں تو کامیاب ہو ہی چکے ، سوال اب یہ ہے کیا وہ ایک کامیاب حکمران بھی ثابت ہو سکیں گے؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب اثبات میںہے۔عمران کے پاس ناکام ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ، اسے ہر حال میں اور ہر قیمت پر جیتنا ہے ۔ ایلن بارڈر نے کہا تھا عمران جب صرف جیتنے کے لیے کھیلتا ہے تو بہت خطرناک ہو جاتا ہے ۔ بھولی بھٹکی سی ایک یاد ہے۔مگر آ ج بھی کچھ کچھ یادہے۔ ورلڈ کپ 1992ء میں ایک لمحہ وہ
مزید پڑھیے


جشن آزادی اور مولانا

هفته 11  اگست 2018ء
ارشاد ہوا ہم 14اگست کو جشن آزادی نہیں منائیں گے ، جان کی امان پائوں تو عرض کروں اس سے پہلے آپ نے کب جشن آزادی منایا؟ جس ’’ گناہ‘‘ میں شریک نہ ہونے پر آپ کے بزرگ نازاں تھے اس پر آپ جشن منا بھی کیسے سکتے ہیں؟ وصل لیلائے اقتدار کی آس میں تڑپتے قائدین انقلاب کاتو ایک ہجوم ہے، اس کے ہجر میں یوں برہم بزرگ پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ جب تک کشمیر کمیٹی کی سربراہی تھی ، وفاق میں وزارتیں تھیں ، ریاستی وسائل تھے ، سرکاری رہائش تھی، گاڑی تھی ، پٹرول
مزید پڑھیے


واہ مولانا!

جمعه 10  اگست 2018ء
فضل الرحمن صاحب نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کے لیے اپنے ہی صاحبزادے اسد محمود کو نامزد کر دیا تو حیرت کیسی؟راہ حق میں استقامت کی یہ کہانی بہت طویل ہے۔ متحدہ مجلس عمل کا دور اقتدار تو آپ کو یاد ہی ہو گا جب یہ سب اکابرین بقلم خود کے پی کے میں نفاذ اسلام کی جدوجہد میں مصروف تھے۔یہ انہی مبارک دنوں کی بات ہے۔مولانا کے چھوٹے بھائی ضیاء الرحمن ان دنوں پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ انجینئر تھے۔مارچ 2005ء میں اچانک وزیر اعلیٰ کے حکم پر انہیں افغان ریفیوجیز کمیشن میں پراجیکٹ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔یہ
مزید پڑھیے


تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل

بدھ 08  اگست 2018ء

تحریک لبیک کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ یہ سوال میرے نزدیک آج کے اہم ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ مجھے حیرت ہے ابھی تک کسی نے اسے موضوع نہیں بنایا۔انتخابات کے بعد وہی سطحیت کا آزار ہے جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف بحث جاری ہے اور مرکزی نکتہ یہی ہے کس کے پاس کتنے اراکین ہیں اور کون کس کی مدد سے کہاں کہاں اقتدار حاصل کرنے جا رہا ہے۔انتخابات لیکن صرف اراکین کی گنتی اور جوڑ توڑ کا نام نہیں ، یہ سماج کے رجحانات کی بھی خبر دیتے ہیں۔یہ بتاتے
مزید پڑھیے


بزرگان ِ بقلم خود میں قدرِ مشترک کیا ہے؟

اتوار 05  اگست 2018ء
عمران کی کامیابی نے سیاست کے تمام اہل تقوی ، درویشوں ، فقیروں اور تارک الدنیا قلندروں کو اکٹھا کر دیا ہے۔ان قائدین کی بزرگی ، درد دل ، بصیرت ، سادگی ، اور تقوی سے انکار نہیں۔سوال یہ ہے کہ ان میں قدر مشترک کیا ہے؟ کس قیامت کا یہ منظر تھا۔ محترمہ شیری رحمان سر پر دوپٹہ لیے بغیر میڈیا سے ہمکلام تھیں اور قائد انقلاب قبلہ لیاقت بلوچ سر پر ٹوپی اور جناب عبد الٖغفور حیدری سر پر پگڑی رکھے ہاتھ باندھے فرمانبرداری سے ان کے پہلو میں کھڑے تھے۔شاید چشم تصور سے اسلامی انقلاب کا سورج
مزید پڑھیے


آزاد اراکین اور عمران خان کے نومولود خیر خواہ

جمعه 03  اگست 2018ء
عمران خان پر جملہ اعضائے رئیسہ کا زور لگا کر تبرا کرنے والے احباب اس کی کامیابی کے ساتھ ہی اس کے خیر خواہ بن کر اسے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازنا شروع ہو گئے ہیں۔ان نومولود خیر خواہوں کے چہروں پر بظاہر مسکراہٹ ہے لیکن ان کے اندر نفرت کے جو تنور جل رہے ہیں اس کی حدت اتنی ہے کہ ان کی سلگتی مسکراہٹ سے میر تقی میر یاد آتے ہیں: دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے یہ احباب ہمدرد سی صورت بنا کر سوال اٹھاتے ہیں اور قریب ہوتا ہے کہ
مزید پڑھیے


آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا؟

بدھ 01  اگست 2018ء
غریب قوم کے 2100 کروڑ خرچ کرنے کے بعد کیا الیکشن کمیشن ہماری رہنمائی فرما سکتا ہے کہ اس کا آرٹی ایس ( رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم) کیوں ناکام ہوا ؟ یہ محض ’’ ٹیکنالوجیکل فیلیئر‘‘ تھا یا اس میں تجربہ کاروں کا تجربہ بھی بروئے کار آیا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے ہی سے منصوبہ بنایا جا چکا تھا کہ عمران خان کی جیت نظر آئے تو سسٹم کوناکام کر کے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا جائے؟ یہ آرٹی ایس آخر کن لوگوں نے بنایا؟ کیا عمران خان نے بنا کر دیا تھا؟ یہ سب کچھ گزشتہ حکومت کے دور
مزید پڑھیے


صالحین کا زوالِ مسلسل

هفته 28 جولائی 2018ء
سید مودودی کی جماعت اسلامی کو سراج الحق صاحب نے کہاں لا پہنچایا؟قحط الرجال کے اس خوفناک دور میں اگر سراج الحق امیر جماعت اسلامی بن ہی گئے ہیں تو کیا پوری جماعت اطاعت امیر کا طوق گلے میں ڈال کر اپنی آخری رسومات کی تیاری کر رہی ہے یا اس کی شوری میں چند ایسے نجیب لوگ باقی ہیں جماعت کے نام پر پراپرٹی اور تعلیم فروشی کے کاروبار نے جن کی قوت گویائی سلب نہیں کر رکھی اور وہ سوال اٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں اور اپنی قیادت سے پوچھ سکتے ہیں کہ زوال کے اس سفر
مزید پڑھیے


بیانیے کے قوال

جمعه 27 جولائی 2018ء
ووٹ کی بجائے اگر معاملہ پروپیگنڈے پر ہوتا تو ن لیگ دو تہائی اکثریت سے جیت چکی ہوتی۔ شرافت کی صحافت کی ادائیں اور بے تابیاں دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے اس ڈھٹائی کے ساتھ بھی جھوٹ بولا جا سکتا ہے؟ انتخابات سے لے کر ان کے نتائج تک آپ ذرا ان کے بیانیہ شریف پر غور فرمائیے۔ سب سے پہلے طوفان اٹھا کہ جناب الیکشن نہیں ہونے والا۔ شرافت کی سیاست نے ہلکے ہلکے سُروں میں کہنا شروع کر دیا کہ انتخابات کا انعقاد مشکوک ہے۔ شرافت کی صحافت نے اپنے ہمنوائوں کے ساتھ ہلکی ہلکی قوالی شروع
مزید پڑھیے