BN

آصف محمود



کرپٹ‘ اچھے یا بد حواس؟


مرحوم قاضی حسین احمد نے ایک زمانے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے لیے چھوٹی برائی اور بڑی برائی کی اصطلاح متعارف کرائی تھی۔ مروجہ سیاسی بیانیے میں حزب اختلاف تو سر تا پا ہے ہی کرپٹ، مجھے چشم تصور سے وہ منظر دیکھ کر خوف آ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات کے وقت لوگ سر پکڑ کر بیٹھے ہوں کہ کرپٹ‘ اچھے یا بد حواس؟ اب ووٹ کسے دیاجائے؟ کتنی امیدوں سے لوگوں نے عمران خان کی صورت امیدوں کا ایک قلعہ تعمیر کیا تھا ، افسوس اس کے اپنے کمانداروں نے فصیل میں ریت بھرنا شروع کر
اتوار 20 جنوری 2019ء

نرگسیت کے گھونسلے سے اتر کر زمین پر آ جائیے

هفته 19 جنوری 2019ء
آصف محمود
کیا ہر وہ آدمی بد دیانت، خائن اور چور ہے جو حکومت کا ناقد ہے ؟ صبح دم ا ٹھتے ہی جس جس کا اس با برکت عہد میں بٹتی فیوض و برکات پر اظہار تشکر میں’ نچنے نوں دل نہ کردا ‘ ہو کیا اسے پٹواری کہا جائے گا؟کیا صرف چودھریوں کی ق لیگ اور کراچی کی ایم کیو ایم وہ جماعتیں ہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے حکومت کی اتحادی بنی ہیں اور ان کے علاوہ ہر وہ جماعت جو اپوزیشن کی صف میں ہے اصل میں خائنوں اور لٹیروں کا ایک ٹولا ہے؟ اور
مزید پڑھیے


پیشہ ور اپوزیشن اور خود کش حکومت

جمعه 18 جنوری 2019ء
آصف محمود
اپوزیشن کے بزرگان بقلم خود کی آنیوں جانیوں سے نہیں ، عمران خان کو کوئی خطرہ ہے تو اپنی صف میں کھڑے جنگجوئوں سے ہے۔ بزرگان بقلم خود کا معاملہ یہ ہے کہ وہ بدحواس ہو چکے ہیں۔ تہتر کے آئین کے تناظر میں مینڈیٹ کے احترام کے دیوان پڑھنے والے عمران خان کی حکومت کے چار ماہ برداشت نہیں کر پائے اور صف بندی کو بے تاب ہو رہے ہیں۔ حکومت اچھے کام بھی کرتی ہے اور اس سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں لیکن حکومت کے خلاف دوسرے ہی مہینے میں بلا وجہ تحریکیں نہیں چلائی جاتیں۔ سوال یہ
مزید پڑھیے


پرندے کہاں چلے گئے؟

بدھ 16 جنوری 2019ء
آصف محمود
مارگلہ کے ایک چپ چاپ سے گوشے میں ایک دوست کے فارم ہائوس پر دن ڈھل رہا تھا۔اوپر پہاڑی سلسلہ تھا ،نیچے تاحد نظر وادی پھیلی ہوئی تھی ۔ پہلو سے گزرتا ایک برساتی نالہ دور تک بل کھاتے وادی میںچلا جا رہا تھا ۔ مور ، کبوتر اور مرغیاں واپس پنجروں میں بند کیے جا رہے تھے۔فارم پھلدار درختوں سے بھرا ہوا تھا۔فارم کے آ خری کونے پر نیم کے درخت کے پاس پر لکڑی سے جلائی آگ پر بھیڑ کے دودھ کی چائے بنائی جا رہی تھی اور آگ سے اٹھتا دھواں پرانے زمانوں کو
مزید پڑھیے


کیا آپ نے ’ارتغرل‘ دیکھا ہے؟

هفته 12 جنوری 2019ء
آصف محمود
سیاست ، سیاست اور سیاست، کیا آپ بے زار نہیں ہو جاتے؟ چلیں آج کسی اور موضوع پر بات کرتے ہیں۔ یہ بتائیے کیا آپ نے ’ ارتغرل‘ دیکھا ہے؟ جو سوال میں آپ سے پوچھ رہا ہوں ، یہی سوال مہینوں پہلے جب مجھ سے پوچھا گیا تو میں نے اسے یکسر نظر انداز کر دیا کہ ہو گا کوئی ڈرامہ، اب اپنے پاس ضائع کرنے کے لیے اتنا وقت کہاں ۔یہاں تک کہ پھر ایک روز میں نے ’ارتغرل‘ کی پہلی قسط دیکھ لی۔آپ یقین کیجیے ،ڈرامہ نہیں ، یہ ایک سحر ہے جو آدمی کو جکڑ لیتا
مزید پڑھیے




کیا صالحین بھی یوٹرن لیتے ہیں؟

جمعرات 10 جنوری 2019ء
آصف محمود
عمران خان تو بہت یوٹرن لیتا ہے کیوں نہ اب صالحین کے قافلہ انقلاب کی بھی کچھ خبر لے لی جائے؟ یہ راہ حق میں پوری استقامت کے ساتھ ناک کی سیدھ میں رواں دواں ہے یا گاہے اپنے سارے زعم ِ تقوی سمیت یہ بھی اچانک یوٹرن لے لیتا ہے۔ انتخابی سیاست میں جتنے جتن جماعت اسلامی نے کیے ، ہمارے سامنے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت پر مرد مومن مرد حق کی گواہی دی، نواز شریف کو امیر المومنین بنا کر پیش کیا اور اسلامی اجمہوری اتحاد کا پرچم اٹھا لیا، مجلس عمل بنا لی، تحریک انصاف سے
مزید پڑھیے


عام آدمی کہاں جائے؟

منگل 08 جنوری 2019ء
آصف محمود
حاکم وقت ، مصاحبین کرام ، سوشل میڈیاکے نابغوں اور ٹاک شوز کے سینئر تجزیہ کاروں سے نہیں ، کبھی کسی عام آدمی سے پوچھ کر دیکھیے زندگی کیسے گزر رہی ہے۔ میرے ایک جاننے والے مقامی تاجر جنون کی حد تک مسلم لیگی ہیں۔ دوست انہیں پیار سے ’ پٹواری ‘ کہتے ہیں۔ اکثر کہا کرتے تھے : نواز شریف پر میرے بچے بھی قربان۔ اگلے روز ملاقات ہوئی تو جھولی پھیلا کر عمران خان کو دعائیں دے رہے تھے۔یہ حیران کن منظر تھا۔ میرا اشتیاق بڑھا ، میں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے’’ ہمارے تو عمران خان
مزید پڑھیے


کیا حکومت خطرے میں ہے؟

هفته 05 جنوری 2019ء
آصف محمود
سوال یہ ہے : کیا حکومت خطرے میں ہے؟ اور جواب ہے : جی ہاں حکومت خطرے میں ہے۔لیکن یہ خطرہ لرزتی معیشت سے ہے نہ پارلیمان کے اندر اپوزیشن کے ممکنہ اتحادسے، اس حکومت کو خطرہ اس کے اپنے وزرائے کرام سے ہے۔یہ ایسے شعلہ بیان جنگجو ہیں جو دنیا کی ہر زبان میں داد شجاعت دے سکتے ہیں لیکن چُپ کسی زبان میں نہیں رہ سکتے۔تمام رات یہ عمران خان کی فصیلوں میں ریت بھرتے ہیں اور صبح دم یہ دادو تحسین کے طالب ہوتے ہیں۔شہر پناہ کے کمالات دیکھیے ، یہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتے۔یہ عزت افزائی
مزید پڑھیے


دائروں کا سفر؟

جمعرات 03 جنوری 2019ء
آصف محمود
دن ، مہینے ،سال گزرتے چلے جا رہے ہیں لیکن ہماری فکری گرہیں ہیں کہ کھلنے کا نام ہی نہیں لیتیں۔ وہی منیر نیازی کا اضطراب کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔ سفر بھی ، معلوم یہ ہوتا ہے ، دائروں کا سفر ہے۔ ایک عشرے کی مسافت کے بعد پتا چلتا ہے جہاں سے چلے تھے گھوم کر وہیں آن پہنچے ہیں۔فکر کی دنیا میں نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے ہمارے مسائل آج بھی وہی ہیں۔ ہمارا پہلا مسئلہ ریاست کی شناخت کا ہے۔ ہمارا سماج آج تک اس فکری گرداب سے باہر نہیں نکل
مزید پڑھیے


مکتی باہنی کے ہاتھوں غیر بنگالیوں کا قتل عام…ایک فراموش باب

هفته 29 دسمبر 2018ء
آصف محمود
آج یہ سوال تو بڑے اہتمام سے اٹھایا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج نے 26 مارچ کو مشرقی پاکستان میں آپریشن سرچ لائٹ کیوں کیا لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ مکتی باہنی اور بھارتی کمانڈوز نے مشرقی پاکستان میں قتل و غارت کے کتنے خونی باب رقم کیے کہ آپریشن کرنا پڑا اسی طرح ڈھاکہ یونیورسٹی میں لوگوں کے مارے جانے کے نوحے بھی بہت پڑھے جاتے ہیں لیکن اس پہلو پر کوئی بات نہیں کرتا کہ جب یونیورسٹی بند کی جا چکی تھی تو وہ کون سے ’’ طلبائ‘‘ تھے جو اقبال ہال اور جگن ناتھ ہال میں
مزید پڑھیے