BN

آصف محمود

ناجائز آپریشن۔۔۔رب کی پکڑ سے ڈریے


اسلام آباد میں ناجائز تجاوزات کے نام پر آپریشن نے اب غریبوں کی جھونپڑیوں کا رخ کر لیا ہے ۔ میں نے ہمیشہ لوگوں کو عمران کے لیے دعا کرتے دیکھا ہے لیکن اب ایک عجیب نظارہ ہے۔ بارہ کہو کے اس پار ملبے پر ایک بوڑھی ماں بیٹھی تھی ، اس کی جھریوں سے آنسو ٹپک رہے تھے اور وہ جھولی پھیلا کر بد دعائیں دے رہی تھی۔ بیچ میں گاہے وہ رکتی اور اپنے اس بیٹے کو ایک دو تھپڑ جڑ دیتی جس کے کہنے پر اس نے عمران خان ہی کو ووٹ دیا تھا۔میں ایک نظر اس
پیر 15 اکتوبر 2018ء

کوئی رجل رشید بھی ہے؟

هفته 13 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
ہر سوار شمشیر بکف اور ہر پیادہ قہر مجسم ۔ اللہ کے بندو تمہارے قبیلے میں کوئی حلیم الطبع اور معاملہ فہم بھی ہے یا سبھی جنگجو ہیںاور ہتھیار بند؟ اقتدار کے ایوان میدان ِ کارزار نہیں ہوتے جہاں آپ داد شجاعت دیتے آئیں اور کشتوں کے پشتے لگاتے جائیں۔ ہر چوراہے میں ٹکٹکی پر باندھ کر آدھے شہر کی پشت لہو کر دینے کو دلاوری نہیں کہتے ، دلاوری یہ ہوتی ہے کہ جب اقتدار ملے تو لہجوں کا آتش فشاں قدرے تھم سا جائے اور خیر خواہی اور ہمدردی کے جذبات غالب آ جائیں۔ خوف ، سراسیمگی ،
مزید پڑھیے


کیا اسد عمر کے پاس کوئی پروگرام ہے؟

جمعرات 11 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
ملکی معیشت اگر تباہ حال ہے تو کیا اس کے ذمہ دار عمران خان اور اسد عمر ہیں؟ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔بے رحمی کے ساتھ جو لوٹ مار سابقہ ادوار میں کی گئی اس واردات کا ذمہ دار عمران خان اور اسد عمر کیسے ہو گئے۔ تو کیا معیشت کے باب میں ساری تنقید سابقہ حکومتوں پر کی جانی چاہیے اور عمران خان اور اسد عمر پر کوئی تنقید نہیں کی جا سکتی؟ میرے نزدیک اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ دوست سوال اٹھاتے ہیں کہ یہ کیسا انصاف ہے ، جو عشروں اس ملک کو
مزید پڑھیے


عمران پر یہ اعتماد کیوں؟

منگل 09 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
اس ملک میں اگر کوئی شخص کرپٹ عناصر کا احتساب کر سکتا ہے تو وہ عمران خان ہے ۔ عمران خان کے علاوہ کوئی ایسا سیاست دان نہیں جو اقتدار میں بھی آ سکے اور اس میں احتساب کا یہ بھاری پتھر اٹھانے کی ہمت بھی ہو۔لیکن سوال یہ ہے کیا عمران خان ایک بامعنی اور ٹھوس احتساب کر پائیں گے؟اپ چاہیں تو اس میں ایک اور سوال کا اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ وہ یہ کہ اگر عمران پر اتنا ہی اعتماد ہے تو پھر یہ اندیشہ کیوں؟ مناسب ہو گا اعتماد اور اندیشے ، دونوں پر بات کر
مزید پڑھیے


سی پیک ۔۔۔ کیا عمران خان کی پالیسی درست ہے؟

هفته 06 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
کیا عمران خان کی حکومت سی پیک پر درست فیصلے کر رہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ نا تجربہ کاری یا نا دانستگی میں وہ کچھ ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جو پاک چین دوستی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں؟کیا پاکستان نے چین سے مشاورت کیے بغیر سعودی عرب کو سی پیک میں شامل کر لیا ہے اور کیا چین ہمارے اس یک طرفہ قدم سے کچھ خفا تو نہیں ہو گیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ عمران خان کی ان پالیسیوں کی وجہ سے سی پیک کا مستقبل مخدوش ہوتا جا رہا ہے اور امکانات
مزید پڑھیے


شہباز شریف منتظم بہت اچھے تھے

جمعه 05 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
شرافت کی صحافت کا کمال دیکھیے ، بعض جھوٹ اس تواتر سے بولے گئے کہ اقوال زریں بنا دیے گئے۔ گداگران سخن کی اس چاند ماری کا حاصل ایک زریں قول یہ بھی تھا کہ شہباز شریف بہت اعلی پائے کے منتظم ہیں۔ ان سے اچھا ایڈ منسٹریٹر اس وقت پورے پاکستان میں کہیں موجود نہیں۔شام ڈھلے دستر خوان شریف سے لوگ اٹھتے اور پوری وارفتگی سے قوم کو یہ اقوال زریں سنا کر واپس اسی دسترخوان شریف کو لوٹ جاتے۔ یہ جھوٹ اس تواتر سے بولا گیا کہ لوگوں نے اسے قدرت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا
مزید پڑھیے


بنکوں میں یہ کیا ہو رہا ہے؟

جمعرات 04 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
کیا سٹیٹ بنک آف پاکستان اور وزیر خزانہ کو علم ہے کہ حبیب بنک میں کیا ہو رہا ہے ؟ کیا وہ اس معاملے کو دیکھ سکتے ہیں یا اس عذاب سے نجات کے لیے بھی جناب چیف جسٹس آف پاکستان سے درخواست کرنی پڑے گی ؟ پریشان حال لوگ آتے ہیں اور دکھڑا سناتے ہیں ۔ سن کر آدمی حیران رہ جائے ۔اول اول میں نے ان معاملات کو اتنا سنجیدہ نہیں لیا۔ پھر یہ خیال کر کے خاموش ہو گیا کہ کبھی کبھار غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ درگزر کرنا چاہیے۔ اب تو مگر صورت حال
مزید پڑھیے


کیا یہ صحافت ہے؟

بدھ 03 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
صحافت کا یہ بانکپن ، اللہ میری توبہ۔ اب میر انیس ہی آئیں تو اس کا مرثیہ کہیں۔ ٹی وی سکرین پر ایک صاحب بریکنگ نیوز دینے پر تلے بیٹھے تھے۔ چہرے پر فخر ، آنکھوں میں مسکراہٹ اور لہجے میں شہر پناہ پر تازہ تازہ پرچم لہرا کر لوٹنے والے کسی جنگجو کا سا خمار۔ریموٹ پر میری انگلیاں برفاب ہو گئیں ۔ میں وہیں رک گیا۔ دل ہی دل میںسوچا کہ کوئی بہت بڑی خبر اب کے اعصاب کو چٹخا کے رکھ دے گی۔لیجیے صاحب آپ بھی دل تھام کر اندر کی یہ اہم ترین خبر پڑھیے اور پھر بے
مزید پڑھیے


یہ جو ’’دانش گردی‘‘ ہے

پیر 01 اکتوبر 2018ء
آصف محمود
یہ جو ’’دانش گردی‘‘ ہے ، کبھی آپ نے سوچا کہ اس کے پیچھے کون ہے اور اس سے نبٹنے کا کیا طریقہ ہے؟ ہمیں احساس تک نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک فکری یلغار اپنے عروج پر ہے۔اس یلغار میں غنیم کے پیادے ’’الا ماشاء اللہ‘‘ وہ ہیں جن کے فکری شجرہ نسب میں کوئی نہ کوئی این جی او یا غیر ملکی ادارہ آتا ہے۔آزادی رائے کے نام پر انہوں نے ایک اودھم مچا رکھا ہے ۔پاکستان دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جہاں سر شام کرنٹ افیئرز کے نام پر ریاست کو ،
مزید پڑھیے


سوشل میڈیا کی حکومت؟

هفته 29  ستمبر 2018ء
آصف محمود
پرانے پاکستان میں یہ صرف نونہالان انقلاب تھے ، ’کپتان خان دے جلسے وچ ‘ جن کا ’ نچنے نوں ‘ بہت دل کرتا تھا۔ معاملات اسی طرح چلتے رہے تو نئے پاکستان میں ساری قوم بہت جلد اسی ’ انقلابی اقدام‘ پر مجبور ہو جائے گی۔ ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ یہ ایک پولیس سٹیشن کا منظر ہے۔پولیس افسر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہے اور اس کی کرسی پر ایک سفید لباس اور ویسٹ کوٹ زیب تن فرمائے ایک صاحب تشریف فرما ہیں۔سوال پر سوال کیے جا رہے ہیں اور پولیس افسر گویا کٹہرے
مزید پڑھیے