BN

آصف محمود


جونا گڑھ اور مناوادر کا دفاع…حقائق کیا ہیں؟


جوناگڑھ اور مناوادر پر لکھے گئے کالموں پر ایک سوال اٹھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ دونوں ریاستیں پاکستان سے الحاق کر چکی تھیں تو بھارت کا حملہ اور قبضہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریحا خلاف ورزی تھی اور پاکستان کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ’’ سیلف ڈیفنس‘‘ میں جوابی کارروائی کا حق حاصل تھا تو پھر پاکستان نے جوابی کارروائی کیوں نہ کی؟ جوابی کارروائی کی دو صورتیں ہو سکتی تھیں۔پہلی صورت قانونی کارروائی کی تھی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے یہ کارروائی اسی وقت کر دی گئی۔ جونا گڑھ اور اس
اتوار 09  اگست 2020ء

مناوادر ، جودھ پور اور حیدر آباد۔۔۔مقدمہ کشمیر کی واقعاتی شہادتیں

هفته 08  اگست 2020ء
آصف محمود
پاکستان کے نئے نقشے میں صرف جونا گڑھ شامل نہیں ، اس نقشے میں مناوادر بھی شامل ہے۔مسئلہ کشمیر سے جڑی بھارت کی نفسیات کو درست تناظر میں سمجھنا ہو تو مناوادر ، جودھ پور اور حیدرآباد میں جو ہوا اسے جان لینا چاہیے۔یہ مقدمہ کشمیر کی واقعاتی شہادتیں ہیں۔ ریاست مناوادرکے سربراہ غلام محی الدین کو ہندوستان کی تقسیم کے فارمولے کے تحت دو آپشن دیے گئے کہ آپ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ خان آف مناوادر نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ تقسیم کے فارمولے کے تحت خان آف مناوادر کے اس
مزید پڑھیے


نقشے میں جوناگڑھ کو کیوں شامل کیا گیا؟

جمعه 07  اگست 2020ء
آصف محمود
پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نقشے پر ایک اعتراض یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اس میں جونا گڑھ کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے اس کی معنویت کی وجہ سے۔ اس اقدام میں جہان معنی پوشیدہ ہے ۔آپ جوں جوں جوناگڑھ پر غور کرتے چلے جاتے ہیں ، مسئلہ کشمیر کی تفہیم کی گتھیاں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ جونا گڑھ کو کشمیر سے ایک خاص نسبت ہے۔ کشمیر پر بھارتی موقف کو جونا گڑھ کا تذکرہ پیاز کی پرتوں کی طرح چھیل کر پھینک دیتا ہے۔آئیے انتہائی اختصار کے ساتھ پہلے
مزید پڑھیے


نیا نقشہ ۔۔۔۔ اعتراضات کا ایک جائزہ

جمعرات 06  اگست 2020ء
آصف محمود
پاکستان کی جانب سے جاری کر دہ نئے نقشے پر بعض حلقوں کی جانب سے اعتراضات اور طنز کی یلغار دیکھ کر سوچ رہا ہوں اللہ انہیں ہدایت دے ، ان کا معاملہ کیا ہے؟ یہ عمران خان کی نفرت میں اندھے ہو چکے ہیں یا ان کا مبلغ علم اور صلاحیت ہی اتنی ہے کہ دو فقرے اچھال کر ہانپ لیا ، دم لے لیا تو چار فقرے اور اچھال دیے۔ دہائی دی جا رہی ہے کہ پاکستان نے نقشہ جاری کر کے اقوام متحدہ میں اپنا ہی مقدمہ کمزور کر لیا ہے کیونکہ کشمیر کا فیصلہ تو ابھی
مزید پڑھیے


مرغزار کے قاتل

هفته 01  اگست 2020ء
آصف محمود
مارگلہ کے جنگل کی دہلیز پر ’’ مرغزار‘‘ پھیلا ہوا ہے۔ اس کا دوسرا نام چڑیا گھر ہے۔ قدرتی ماحول اور خوبصورتی کے لحاظ سے یہ پاکستان کا خوبصورت ترین چڑیا گھر ہے ۔درختوں میں گھرا ، پہاڑ ی سلسلے سے لپٹا یہ اتنا حسین ماحول ہے کہ چڑیا گھر لگتا ہی نہیں۔یوں سمجھیے کہ یہ ہے تو ایک جنگل ہی ، بس یہ ہے کہ یہاں جانور ایک ہائوسنگ کالونی بنا کر اپنے اپنے گھر میں رہتے ہیں۔جانوروں کی بد بختی اور ہمارا دکھ کہہ لیجیے کہ اس ہائوسنگ کالونی کا انتظام سی ڈی اے کے پاس ہے جس
مزید پڑھیے



وزیر اپنے شعبے کی بات کیوں نہیں کرتے؟

جمعرات 30 جولائی 2020ء
آصف محمود
’’اپوزیشن نے نیب آرڈی ننس میں35 ترامیم تجویز کیں جو ممکن نہیں‘‘۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کس وفاقی وزیر کا بیان ہے؟ آپ کا خیال ہے یہ وزیر قانون یا وزیر داخلہ کا بیان ہے تو آپ غلطی پر ہیں۔ یہ بیان جناب وزیر خارجہ کا ہے جو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر دیا گیا۔میرا جیسا طالب علم ہتھیلی پر یہ سوال رکھے حیران کھڑا ہے کہ نیب آرڈی ننس اور اس میں ہونے والی ترامیم کا وزیر خارجہ سے کیا تعلق ؟ کیا نیب کا تعلق امورخارجہ سے ہے اور نیب آرڈی ننس کو دفتر خارجہ
مزید پڑھیے


پولیو مہم : چند گزارشات

پیر 27 جولائی 2020ء
آصف محمود
اللہ نے کرم کیا ہے اور روایت یہ ہے کہ کورونا کی شدت میں نمایاں کمی آ رہی ہے ۔ عید الاضحی پر غیر معمولی بے احتیاطی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو ، انشاء اللہ، بہت جلد ہم کورونا سے نجات پا چکے ہوں گے۔کورونا کی بحرانی کیفیت میں اضطراب کا عالم تھا اور دیگر امراض کے علاج پر مناسب توجہ نہ دی جا سکی۔ اس سلسلے میں عوام کافی پریشان بھی رہے کہ دیگر امراض کے شکار مریض کیا کریں۔اب حالات کچھ سنبھل رہے ہیں توامید بندھی ہے کہ معمول کی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو جائیں گی۔
مزید پڑھیے


کلبھوشن جادیو: خواجہ آصف کیوں برہم ہیں؟

هفته 25 جولائی 2020ء
آصف محمود
کلبھوشن جادیو کے معاملے پر خواجہ آصف صاحب کو ایون میں گرجتے برستے سنا تو احساس ہوا ایک نیم خواندہ سماج میں سیاست کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ابولکلام آزاد نے کہا تھا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ سوچتا ہوں سینے میں دل بھلے نہ ہو ، تھوڑی سی یادداشت تو ہونی ہی چاہیے۔معلوم نہیں خواجہ آصف بھولے بہت ہیں یا ہشیار بہت ، لیکن معاشرے کی اجتماعی یادداشت سے کلبھوشن کیس کی جزئیات ابھی محو نہیں ہوئیں کہ خواجہ آصف ہمیں اقوال زریں سنا کر محفل لوٹ لیں۔اب وہ دور نہیں رہا کہ مشاعرے کے بیچ صرف
مزید پڑھیے


بدھا کا مجسمہ توڑنے پر گرفتاری۔۔ایک اہم سوال

جمعرات 23 جولائی 2020ء
آصف محمود
زمین کی کھدائی میں بدھا کا مسجمہ نکلا ، لوگوں نے توڑ دیا، ویڈیو بن گئی ، شور مچ گیا ، پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ اہل فکر و دانش نے حکومت کی بروقت کارروائی پر دادو تحسین فرما دی ۔ میرے پیش نظر مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس گرفتاری کا کوئی جواز ہے؟ یہ سوال قانونی بھی ہے ، سماجی بھی اور معاشرتی بھی۔ فوری طور پر کسی نتیجے پر پہنچ کر رائے قائم کرنے سے بہتر ہو گا آپ ان سوالات پر ایک نگاہ ڈال لیں ۔ ملزمان کو جس قانون کے تحت گرفتار
مزید پڑھیے


آن لائن تعلیم اور آف لائن حکومت

منگل 21 جولائی 2020ء
آصف محمود
آن لائن تعلیم کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور حکومت آف لائن ہو چکی ہے۔ کیا نوجوانوں نے تحریک انصاف کا رومان اسی لیے پالا تھا کہ اول نوجوانوں کے امور کے نام پر انتخابات میں شکست کھانے والے ایک غیر منتخب کو مشیر بنا لیا جائے اور اس کے بعد نوجوانوں کے مسائل کی طرف بھول کر بھی توجہ نہ دی جائے۔کیا نوجوانوں کی افادیت اب صرف یہ رہ گئی ہے کہ ان کے جذبوں کا استحصال کیا جائے اور انہیں سیاست کی بھٹی میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے؟ کورونا سے پیدا ہونے والے
مزید پڑھیے