BN

آصف محمود


کشمیرـ: 5 اگست 2019 کے بعد


اردو میں لکھنے والے بزدل ہیں یا بد دیانت؟ احباب ناراض نہ ہوں ، میں وضاحت کر دوں کہ ایک تو یہ سوال میرا نہیں ، یہ ممبئی اردو نیوزکے مدیر شکیل رشید کا ہے ۔ دوسرا اس کے مخاطب پاکستانی اہل قلم نہیں بلکہ بھارتی دانشور ہیں۔ شکیل رشید نے یہ سوال کشمیر میں ہونے والے بھارتی اقدامات کے تناظر میں اٹھایا ہے کہ اس ظلم پر اردو لکھنے والے گونگے کیوں ہو گئے؟ وہ بزدل ہیں یا بد دیانت۔ سوال میں البتہ معنویت اتنی ہے کہ آپ اسے میرا سوال بھی سمجھ سکتے ہیں اور آپ اس سوال
جمعرات 29  ستمبر 2022ء مزید پڑھیے

انتہا پسندی کا مرکز مدارس یا جدید تعلیمی ادارے؟

منگل 27  ستمبر 2022ء
آصف محمود
انتہا پسندی کے مراکز مدارس ہیں یا جدید تعلیمی ادارے؟ کیا ہم روایتی طرز فکر سے بلند ہو کر اس سوال پر غور کر سکتے ہیں یا ہم نے طے کر لیا ہے کہ یہ روبکار ہم نے صرف دینی مدارس کو بھیجنی ہے اور جدید تعلیمی اداروں کے پریشان کن معاملات سے آنکھیں بند کیے رہنا ہے؟ کچھ وقت گزرتا ہے اور لوگ انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ماضی کی ایک یاد سمجھ کر بھلانا چاہتے ہیں تو ایک نیا حادثہ ہو جاتا ہے۔ چند روز پہلے سوات ایک بار پھر خبروں میں تھا اور یوں محسوس ہو
مزید پڑھیے


ٹرانسفارمر اتارنے میں بائیس سال لگ گئے

هفته 24  ستمبر 2022ء
آصف محمود
ایک خبر یہ ہے کہ گھر کے باہر لگے ٹرانسفارمر کو ہٹوانے کے لیے ایک شہری کو بیس سال قانونی جدوجہد کرنا پڑی اور تب جا کر اس کے حق میں فیصلہ آیا۔بظاہر یہ ایک خبر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانوی نو آبادیات کے تحت قائم کیے گئے اس افسر شاہی اور قانونی نظام کا نوحہ ہے جسے قائد اعظم نے بدلنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی جگہ بتدریج اپنا مقامی نظام قانون لایا جانا تھا جو اسلامی اصولوں سے مزین ہوتا لیکن ان کے انتقال کے بعد کسی کو یاد ہی نہ رہا کہ اس
مزید پڑھیے


کیا وکیلوں کا یونیفارم تبدیل ہو سکتا ہے؟

جمعرات 22  ستمبر 2022ء
آصف محمود
کیا آپ نے وکلاء کے یونیفارم پر کبھی غور کیا ہے؟بلکہ زیادہ بہتر ہے کہ حبس آلود دو پہر میں کسی وکیل کو دیکھ لیجیے تاکہ حق الیقین اور عین الیقین کے مراحل ایک ساتھ طے ہو جائیں۔شدید گرمی اور حبس میں اس سیاہ رنگ کے پینٹ کوٹ اور ٹائی کا کیا جواز ہے؟ یہ تو حقوق انسانی کی باقاعدہ اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ لیکن نو آبادیاتی دور کی اس میراث کو تبرک سمجھ کر یوں اپنا لیا گیا ہے کہ اب سا نس آئے نہ آئے اور گرمی اور حبس سے چاہے جسم پر نقش و
مزید پڑھیے


آئیے اپنا احساس کمتری دفن کر دیں

منگل 20  ستمبر 2022ء
آصف محمود
ملکہ الزبتھ کی تدفین ہو گئی۔ سواال یہ ہے کیا اب ہم اپنا احساس کمتری بھی دفن کر سکتے ہیں۔ ملکہ 1952 سے 1956 تک پاکستان کی ملکہ رہیں۔ کیونکہ پاکستان کا آئین بننے تک ہم نے انڈیا ایکٹ 1935 کو اپنا عبوری آئین بنایا تھا تو یہ رسمی سا ایک منصب تھا جو ملکہ کے پاس تھا۔ لیکن اس سے ایک ایسے بحران نے جنم لیا جس سے ہم آج تک نہیں نکل پائے۔ پاکستان کی پہلی ( پارلیمان) دستور ساز اسمبلی کو گورنر جنرل غلام محمد نے توڑ دیا اور ( سپریم کورٹ) فیڈرل کورٹ نے گورنر جنرل
مزید پڑھیے



مارگلہ کی لوک داستانیں

هفته 17  ستمبر 2022ء
آصف محمود
مارگلہ ایک پہاڑ یا ایک وادی کا نام نہیں۔یہ پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جس میں بہت سی وادیاں اور درے ہیں۔ ہر وادی کے اپنے رنگ ہیں اور ہر درے کی اپنی کہانیاں۔بس آپ کی قسمت اچھی ہو اور اترتے جاڑے کے کسی سنہرے دن میں کوئی باتونی چرواہا آپ کو میسر ہو جائے۔ کسی چراگاہ سے گزرتی ندی کے کنارے وہ آپ کو ایسی کہانیاں سنائے گا جیسے اس نے ساری عمر حسینوں میں گزاری ہو۔یہ چرواہا اگر تلہاڑ کے عابد کی طرح بانسری کے سروں پر بھی قدرت رکھتا ہو تو بس یوں سمجھیے آپ ایک پرستان
مزید پڑھیے


ملکہ الزبتھ سے ملکہ زینت محل تک

جمعرات 15  ستمبر 2022ء
آصف محمود
ملکہ الزبتھ آنجہانی ہوئیں تو مجھے ملکہ زینت محل یاد آگئیں ۔ یادیں ہاتھ تھامے رنگون کے مضافات تک لے گئیں جہاں ایک بے نام قبر میں یہ ملکہ سو رہی ہے۔ ملکہ الزبتھ ایک بھلی خاتون تھیں۔ باوقار اورسنجیدہ۔ چہرہ اگر مزاج کا انتساب ہوتا ہے تو وہ یقینا ایک شاندار خاتون ہوں گی۔ان کے چہرے کی جھریوں میں مگر مجھے زینت محل بھی نظر آتی ہیں۔ بر صغیر کی آخری ملکہ۔ بہادر شاہ ظفر کی اہلیہ۔ یہ مغلوں کی واحد ملکہ ہیں جن کی کیمرے کی تصویر دستیاب ہے۔ ایک برطانوی ملکہ ہیں ایک مقامی ملکہ ہیں۔ دونوں کے
مزید پڑھیے


برطانوی نو آبادیاتی نظام سے پہلے کیا برصغیر غاروں میں رہ رہا تھا ؟ ( آخری حصہ)

منگل 13  ستمبر 2022ء
آصف محمود
اگر اسلامی قانون برطانوی قانون کی طرح مدون نہیں تھا تو کیا یہ اس کی خامی ہے؟ یقینا ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اصول اور قاعدے کے ساتھ پوری فقہ موجود تھی اور اس کا اطلاق قاضی کا فرض تھا۔یہاں اگر قاضی کے پاس صوابدیدی اختیارات کسی کو ’’ اچھا قانون‘‘نہیں لگتے تو یہ صوابدیدی اختیارات تو انگریزی قانون میں بھی جج کے پاس موجود ہیں اور ان کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک وسیع ہے۔ اگر ان اصولوں کا نو آبادیاتی نظام کی طرح سیکشن اور دفعات کی شکل میںنہ ہونا اس قانون کا نقص ہے تو پھر
مزید پڑھیے


مارگلہ کی چھمبر( آبشار)

هفته 10  ستمبر 2022ء
آصف محمود
شادرا کے جنگل سے آگے پرستان ہے۔ آپ کبھی جائیںاور مارگلہ کی اس وادی میں گم ہو جائیں ۔بچپن میں سنی ساری طلسماتی کہانیوں کا سحر اور جنگل کی داستانوں کا سارا حسن آپ کے وجود سے لپٹ جائے گا۔خوابوں جیسا یہ سفر کہکشائوں کی مسافت ہے۔ جس کے اختتام پر مارگلہ کی ملکہ ، یہ آبشار آتی ہے جسے لوگ چھمبر کہتے ہیں۔ شادرا کے قدیم گائوں کے آگے ایک بغلی سڑک ہے ، تھوڑے فاصلے پر ندی میں جوبن ہے۔ ندی کے اُ س پار ایک رستہ ہے جو چند گھروں کی اس بستی کے صحن سے گزرتا ہوا
مزید پڑھیے


برطانوی نو آبادیاتی نظام سے پہلے کیا برصغیر غاروں میں رہ رہا تھا ؟ …(3)

جمعرات 08  ستمبر 2022ء
آصف محمود
برصغیر میں مسلم حکمرانوں کے مختلف ادوار میں متعدد قانونی فقہی دستاویزات موجود رہیں۔ پہلی دستاویز ’ فتاوی الغیاثیہ‘ ہے۔یہ سلطان غیاث الدین بلبن کے عہد کی قانونی دستاویز ہے۔عربی زبان میں ہے ۔ فقہ حنفی پر مشتمل ہے اور پنجاب یونیورسٹی لائبریری میں محفوظ ہے۔یہ قریب ساڑھے سو سات سال قدیم اور تاریخی قانونی دستاویز ہے۔اسے ہندوستان میں فقہ کی پہلی دستاویز کہا جاتا ہے۔ دوسری قانونی دستاویز ’’ فتاوی قراخانی‘‘ ہے۔یہ فارسی زبان میں ہے اور فتاوی الغیاثیہ کی طرح یہ بھی ابھی شائع نہیں ہوا۔مخطوطہ ہے یعنی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویز ہے اور یہ بھی پنجاب
مزید پڑھیے








اہم خبریں