آصف محمود



علی محمد خان کی خدمت میں


عزت مآب سعودی سفیر کو لکھا گیا جناب علی محمد خان کا مکتوب گرامی میرے سامنے رکھا تھا اور میں ہجومِ گریہ کی اس مالا کو پھٹی آنکھوں سے تکتا رہا۔دیوارِ غم کدہ کے اُس پار سے پھر خیال امرہوی نے آواز دی : ’’ پھر رہے تھے حکمراں کشکول لے کر در بدر بندگی کی ظاہری صورت گدا سے کم نہ تھی‘‘ سوشل میڈیا پر دروغ گوئی کے جو موسم برس رہے ہیں ، قطرے میں دجلہ دکھائی دیتا ہے ۔ غالب نے کہا تھا : گرم بازارِ فوجداری ہے۔گماں ہوا یہ سب جھوٹ ہے۔علی محمد خان
هفته 25 مئی 2019ء

ہمارے حقیقی ہیروز

جمعرات 23 مئی 2019ء
آصف محمود
92 نیوز پر چلنے والی اس خبر سے من کا برہما شانت کر دیا۔ دلِ زار نے ہجومِ بلا کے فسانے تو بہت کہہ لیے ، اب کچھ جامِ فرحت فزا کی بات ہو جائے؟ یہ فیصل آباد کی ایک دکان کا منظر ہے۔ دکان اتنی بڑی نہیں مگر تاجر کا دل کشادہ ہے۔اعلان عام ہے : عید کے لیے بچوں کے کپڑے رکھے ہیں ، جو خرید سکتا ہے خرید لے جو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا وہ مفت میں لے جائے اور اپنے بچوں کی عید میں خوشیاں بھرلے۔ ایک غریب سا ، حالات کا مارا بچہ ایک سوٹ
مزید پڑھیے


وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیر

منگل 21 مئی 2019ء
آصف محمود
ایک شاہی خاندان کے ولی عہد نے دستر خوان بچھایا ، دوسرے شاہی خاندان کی ولی عہد تشریف لے آئیں۔دائیں بائیں خدام ادب قطار اندر قطار ہاتھ باندھے حاضرتھے۔روایت ہے کہ یہ دعوت افطار تھی۔شہزادہ اور شہزادی اپنی سلطنتوں کو بچانے اکٹھے ہوئے ، حضرت مولانا فضل الرحمان کا معاملہ یہ ہے اقتدار سے باہر ہیں اور گویا ماہی بے آب ہیں۔ اب ’’ فراقَ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘ ؟تماشا یہ ہوا کہ قبلہ لیاقت بلوچ بھی تشریف فرما تھے۔’ معاذ اللہ ، چمکتے تھے ہوا میںـ‘۔ خواب میں جیسے ’’ وا
مزید پڑھیے


آٹھ نو دس ہوئے، بس انشا ء بس

هفته 18 مئی 2019ء
آصف محمود
وہ مغلیہ دور حکومت تھا جس کے تذکرے ہم کتابوں میں پڑھتے ہیں ، یہ شغلیہ دور حکومت ہے پھٹی آنکھوں سے ہم جس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ روش روش ٹوٹے وعدوں کی کرچیاں بکھری پڑی ہیں۔ صبح دم فراق گورکھپوری یاد آ جاتے ہیں: ’’ جو کہا تھاا س نے مجھ سے ، جو کیا ہے اس نے مجھ سے میری بے کسی سے پوچھو کہ ہے غم بھی آبدیدہ ‘‘ عمران کے بارے اب بھی حسن ظن ہے لیکن اس کے میمنہ میسرہ پر جو جنگجو کھڑے ہیں اکثریت کا معاملہ یہ ہے کہ شجاعت ،دلاوری،
مزید پڑھیے


پی ٹی وی ۔۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

جمعرات 16 مئی 2019ء
آصف محمود
احترامِ رمضان جب کسی ناتراشیدہ اینکر کے ہاتھوں پامال ہو تو صحافتی اخلاقیات پر سوال اٹھتا ہے۔ جب یہ حرکت پی ٹی وی پر ہو تو وزارت اطلاعات کٹہرے میں ہوتی ہے اور جب ایک ریاستی چینل پرایک ایسا اینکر اس کا ارتکاب کرے جو حکومتی ایم این اے بھی ہو تو پھر سوالات کا مخاطب حکومت وقت ہوتی ہے۔ تب یہ سوال اٹھتا ہے کہ شعائر اسلامی کے بارے حکومت وقت کی پالیسی کیا ہے اور وہ چاہتی کیا ہے؟ ماہ مقدس کے باب میں یہ چیز سمجھ لینی چاہیے کہ یہ انٹر ٹینمنٹ کا نہیں تزکیہ کا نام
مزید پڑھیے




کیا عمران کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟

منگل 14 مئی 2019ء
آصف محمود
مسند ارشاد انہیں میراث میں نہیں ایک اتفاق میں آئی ہے۔صاحب کہ دیدہ ور تھے ، اس کا حق ادا کر دیا۔ روزمنادی دیتے ہیں : ہے کوئی ہم سا؟ روز صداآتی ہے صاحب آپ سا کوئی کہاں؟ نرگس ہزاروں سال بیٹھ کر روئے تب کہیں کوئی آپ سا پیدا ہو۔آپ سا مفکر ، آپ سا مدبر ، آپ سا محقق ، آپ سا فقیہ، آپ سا خطیب ، آپ سا شعلہ بیاں،آپ سا سائنسدان۔اب تو دل میں ہوک سی اٹھتی ہے تیس مار خان تو بہت ہیں کاش عمران کی ٹیم میں کوئی معاملہ فہم بھی ہوتا، کوئی دھیمے
مزید پڑھیے


بھارتی الیکشن میں کون جیتے گا؟

پیر 13 مئی 2019ء
ارشاد محمود
لگ بھگ پانچ ہفتوں اور سات مرحلوں پر محیط بھارتی الیکشن جلد تمام ہونے کو ہیں۔ سروے ، میڈیا پولزہوں یا مبصرین کے تجزیہ وہ سب باور کراتے ہیں کہ اس مرتبہ مقابلہ کانٹے دار ہے۔ گزشتہ عام الیکشن کے برعکس نریندر مودی کی بھارتیہ جنتاپارٹی کے واضح اکثریت حاصل کرنے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔ امکان ہے کہ گزشتہ الیکشن میں حاصل کردہ نشستوں میں سے وہ نوے کے لگ بھگ کھو دے گی۔ نہرو خاندان کے وارث راہول گاندھی نے گزشتہ چند برسوں کے دوران اور خاص کر حالیہ چندماہ کے دوران اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند
مزید پڑھیے


زکوٰۃ فنڈ کہاں جاتا ہے؟

هفته 11 مئی 2019ء
آصف محمود
یکم رمضان کو بنک بند تھے۔ پورے اہتمام کے ساتھ خلق خدا کے اکائونٹس سے زکوٰۃ کاٹی گئی تا کہ نیکی کے اس کام میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اب جب کہ نیکی کا یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے تو آئیے ایک سادہ سے سوال پر غور فرما لیں۔ سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کے نام پر جو رقم کاٹی جاتی ہے وہ کہاں استعمال ہوتی ہے؟ کیا عوام یہ پوچھ سکتے ہیں کہ گذشتہ بیس سال میں زکوٰۃ کے نام پر کاٹی گئی اس رقم کا مصرف کیا رہا ہے؟ یہ کہاں خرچ کی جاتی رہی؟
مزید پڑھیے


قرض واپس کیسے ہو گا؟

جمعرات 09 مئی 2019ء
آصف محمود
باقی سب فروعی باتیں ہیں اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کے ذمے جو قرض ہے، یہ کیسے اترے گا؟ اور اگر اسے نہ اتارا جا سکا تو اس کا انجام کیا ہو گا؟قومی اسمبلی کے ایک دن کے اجلاس پر اس غریب قوم کے تین سو لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں ، کیایہاں کبھی اس مسئلے پر سنجیدہ انداز میں کوئی بات ہوئی؟ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے پاکستان کے حالیہ بجٹ میں سب سے زیادہ رقم کس مد میں رکھی گئی؟دل تھام لیجیے ، بیرونی قرضوں کی اقساط اور ان پر سود کی
مزید پڑھیے


جناب وزیر اعظم ، کیا ہم شریف اور بھٹو خاندان کی رعایا ہیں؟

هفته 04 مئی 2019ء
آصف محمود
عمران خان سے ایک سادہ سا سوال ہے: کیا یہ ریاست شریف اور بھٹوخاندان کی جاگیر ہے اور کیا ہم ان کی رعایا ہیں ؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو ہماری بلا سے،بے شک اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ شریفستان رکھ دیجیے اور گلے میں آلِ شریف کی غلامی کا طوق ڈالنا لازم قرار دے دیجیے ۔ لیکن اگر کسی کے راجواڑے کے جانور نہیں بلکہ سلطنت خدادا د کے آزاد شہری ہیںتو پھر ریاستی اداروں کو ’ شریفائز ‘ او’ر بھٹوائز ‘ کرنے کی جو واردات اس ملک میں ڈالی گئی کم
مزید پڑھیے