آصف محمود


کورونا : سوال تو اٹھ رہے ہیں


’’ سازشی تھیوری‘‘ یقینا ایک نا معقول سی چیز ہے اور ہمارے ہاں محققین کرام نے جس طرح ہر کونے کھدرے سے دو تین درجن یہودی سازشیں کسی بھی وقت برآمد کر کے سامنے رکھ دینے کی فکری مشق فرمائی ہے اس کے بعد سچ تو یہ ہے کسی ’’ سازشی تھیوری‘‘ کو اب سنجیدگی سے لینے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعد میں آدمی اکیلا بیٹھا خود پر ہی ہنستا رہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی اب انکار کرنا ممکن نہیں کہ کورونا کے طلسم کدے پر اب سوالات اٹھ رہے ہیں اور خلق خدا کو
بدھ 13 مئی 2020ء

کورونا سے نہیں، آپ سے ڈر لگتا ہے

هفته 09 مئی 2020ء
آصف محمود
کورونا کے بارے میں تو قوم کی رہنمائی فرما دی گئی ہے کہ اس سے ڈرنا نہیں ، لڑنا ہے ،سوال اب یہ ہے کہ قرنطینہ کا کیا کرنا ہے؟ آپ گلی کوچوں میں پھر کر دیکھ لیجیے لوگ کورونا سے نہیںقرنطینہ کے ڈر سے سہمے پڑے ہیں۔ نہ کوئی ٹیسٹ کرا رہا ہے نہ کوئی ہسپتال جانے کو تیار ہے۔پریشاں حال لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ کورونا سے تو شائد بچ جائیں گے لیکن ہسپتال یا سرکاری قرنطینہ چلے گئے تو کیا ہو گا؟ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ یہ خوف صرف سازشی تھیوری کے اسیر
مزید پڑھیے


کری کا مندر : عمران خان توجہ فرمائیں گے؟

جمعرات 07 مئی 2020ء
آصف محمود

راول ڈیم کے پہلو میں ، تھوڑا آگے جا کر ، سی ڈی اے کی ہائوسنگ سوسائٹی پارک انکلیو ہے، جو ابھی تک آباد نہیں ہو سکی۔ وسیع و عریض سوسائٹی میں سالوں بعد اب جا کر چند گھر تعمیر ہوئے ہیں۔ اب بھی یہاں سکوت اور سکون کا راج ہے۔ کبھی کبھی جھیل یا پہاڑ کی بجائے میں واک کرنے اس انکلیو میں چلا جاتا ہوں۔ اس کی مشرقی دیوار سے باہر ایک ٹیلہ ہے جس پر ایک قدیم عمارت موجود ہے۔ میں جب پارک انکلیو میں آتا ، یہ عمارت اپنی طرف بلاتی ۔ مسئلہ یہ تھا کہ
مزید پڑھیے


کورونا وائرس: کیا ایلو پیتھی ہی واحد علاج ہے؟

منگل 05 مئی 2020ء
آصف محمود
کورونا وائرس سے بچائو کے لیے کیا ایلو پیتھی ہی واحد طریق علاج ہے یا صدیوں پرانے دیسی شعبہ طب سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے؟ ایلو پیتھک طریق علاج کی نفی ہر گز مقصود نہیں، لیکن ایسے عالم میں جب ویکیسن ابھی تیار نہیں ہوئی اور جدید میڈیکل سائنس فی الوقت بے بس ہے ، کیا ناگزیر طریق علاج کے طور پر جڑی بوٹیوں اور قدیم طب سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے اس سوال کو ذرا آسان لفظوں میں آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ، ورنہ آپ بین السطور پڑھنے کے عادی
مزید پڑھیے


ایک شہر کتنے گائوں کھا جاتا ہے؟

هفته 02 مئی 2020ء
آصف محمود
کیا کبھی آپ نے سوچا نیا شہر بستے بستے کتنی بستیاں کھا جاتا ہے؟ اسلام آباد میں گھومتے پھرتے کبھی کبھی یہ سوال دستک دیتاہے اور دل کی دنیا اداس کر جاتا ہے۔ شاہراہ دستور پر ، ایوان صدرسے چند قدم کے فاصلے پر سڑک کے کنارے دو قبریں ہیں۔ جگمگاتے شہر میں ان قبروں پر کوئی دیا نہیں جلتا۔ یہاں سے گزرتا ہوں تو سوالات میرے ہمراہ ہو لیتے ہیں۔یہ کن کی قبریں ہیں، یہ کون لوگ تھے، کب فوت ہوئے ، کیا یہاں کوئی بستی ہوا کرتی تھی جو پامال کر کے یہ شہر آباد ہوا، وہ بستی والے
مزید پڑھیے



اٹھارویں ترمیم : ایک معاشی واردات؟

جمعه 01 مئی 2020ء
آصف محمود
اٹھارویں ترمیم ایک معاشی واردات تھی اور نواز شریف اس میں شریک جرم تھے۔نتائج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ زرداری صاحب ایک گرگ باراں دیدہ ہیں، بے نظیر بھٹوکی مظلومانہ موت کے رد عمل میں وہ اقتدار تک تو پہنچ گئے لیکن انہیں خوب معلوم تھا یہ اقتدار ان کی صلاحیتوں کے طفیل نہیں ملا ، بے نظیر کے خون کے صدقے میں ملا ہے اور بہت جلد ان کا اثر و رسوخ محض سندھ تک محدود ہو جائے گا ۔ چنانچہ ان کے پیش نظر مستقبل قریب میں اپنے سمٹتے سیاسی کردار کے تناظر میں ، ایک صوبے کی حد
مزید پڑھیے


اٹھارویں ترمیم : چند اہم سوالات

جمعرات 30 اپریل 2020ء
آصف محمود
اٹھارویں ترمیم ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ خبر گردش میں ہے کہ حکومت اس میں کچھ معنوی تبدیلیاں لانا چاہتی ہے۔ حزب اختلاف اس پر مضطرب ہے اور اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ عصبیت کی بنیاد پر اگلے چند روز میں صف بندی نمایاں ہو جائے گی۔ سیاسی صف بندی کا آزار یہ ہوتا ہے کہ اس کے لشکری اپنی رائے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ گروہی عصبیت کی بنیاد پر اختیار کرتے ہیں۔ یوں ساری بحث خلط مبحث کا شکار ہو جاتی ہے۔ مناسب یہ ہو گا اس سارے معاملے کو عصبیت سے بالاتر ہو
مزید پڑھیے


تجھے ہم دو پہر کی دھوپ میں دیکھیں گے!

منگل 28 اپریل 2020ء
آصف محمود
صبح کے حسن اور شام کے حزن پر بہت لکھا گیا ، دوپہر جانے کیوں نظر انداز کر دی گئی۔ حالانکہ گرمیوں کی دوپہر میں وہ حسن ہے ، آئینہ حیرتی ہو جائے۔شہری زندگی ایک ناگزیر المیہ ہے ، یہاں صبح اور شام کی خبر نہیں ہوتی ، دوپہر کا حسن کوئی کیا جانے۔یہاں صبح کا دم گھٹ چکا ہے ، شام بال کھولے رو رہی ہے اور دوپہر کاروبار کے روپ میں اترتی ہے۔ گھڑیوں سے لوگ اٹھتے ہیں اور گھڑیاں ہی انہیں سلا دیتی ہیں۔صبح دم کہیں مرغان سحر کی اذان ہے نہ شام کے ساتھ کہیں جگنو
مزید پڑھیے


کیا فیصل آباد پولیس نے ٹھیک کیا؟

هفته 25 اپریل 2020ء
آصف محمود
فیصل آباد پولیس نے پانچ سالہ بچے سے زیادتی کے ملزمان کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا ہے۔ پولیس مقابلوں کی عمومی شہرت تو ہمارے سامنے ہے ، اب سوال پولیس مقابلے کے حقیقی یا جعلی ہونے کا نہیں ، سوال صرف یہ ہے کیا پولیس نے ٹھیک کام کیا؟ قانون کے ہاں ، ظاہر ہے اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ اب یہاں ایک دوسرا سوال جنم لیتا ہے کہ قانون میں اگر اس اقدام کی کوئی گنجائش نہیں تو پھر یہ سوشل میڈیا پر لوگ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا سماج اپنے قانون سے
مزید پڑھیے


سستا اور فوری ۔۔۔۔۔انصاف کب ملے گا؟

جمعه 24 اپریل 2020ء
آصف محمود
فرض کریں آپ کو کوئی طاقتور شخص کسی جھوٹے مقدمے میں ملوث کر دے ، کسی چوراہے پر پولیس اہلکار آپ کو پکڑے اور آپ پر دو کلو ہیروئن ڈال دے ،کوئی نو سر باز جعلی کاغذات تیار کر کے آپ کی جائیداد پر قبضہ کر لے اور قبضہ نہ کر سکے تو اس کا دعوایدار بن بیٹھے ، دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا آپ کو یقین ہے ان تمام صورتوں میں آپ کی عمر ، آپ کی جوانی ، آپ کا وقت اور آپ کی معیشت برباد ہوئے بغیر آپ کو سستا اور فوری انصاف مل جائے
مزید پڑھیے