BN

آصف محمود


کشمیر پر پوسٹ لگانے سے فیس بک اکائونٹ کیوں معطل ہو جاتا ہے؟


سوال یہ ہے کہ کشمیر کے حوالے سے فیس بک پر پوسٹ لگانے سے لوگوں کے فیس بک اکائونٹ کیوں معطل ہو رہے ہیں؟ کیا ہمیں معاملے کی سنگینی کا کوئی احساس ہے اور کیا ریاست کو کچھ خبر ہے۔ فیس بک نامی اس گلوبل بیٹھک پر اگر قومی پالیسی کے ابلاغ کے امکانات محدود تر ہوتے چلے گئے تو اس کے منطقی نتائیج آگے چل کر کیا ہوں گے؟ آئے روز سوشل میڈیا پر نوجوان ایک دوسرے کو بتا رہے ہوتے ہیں ،انہوں نے کشمیر پر فلاں پوسٹ لگائی جو کمیونٹی سٹینڈرز کے خلاف بھی نہیں ، پھر بھی
جمعرات 28 مئی 2020ء

اس عید پر کون چاند چڑھائے گا؟

هفته 23 مئی 2020ء
آصف محمود
عید کی آمد آمد ہے ، سوال یہ ہے اس عید پر کون چاند چڑھائے گا؟ مفتی منیب الرحمن صاحب ،مفتی شہاب الدین صاحب پوپلزئی یا جناب فواد چودھری؟ کبھی آپ نے سوچا یہ رویت ہلال کمیٹی کیوں بنی تھی؟ پارلیمان کی دستاویزات کا مطالعہ کیا جائے تو ایک دلچسپ حقیقت سامنے آتی ہے کہ رویت ہلال کمیٹی محض چاند دیکھنے کے لیے قائم نہیں کی گئی تھی۔ رویت کا عمل تو 1947 سے لے کر 1974 تک کسی نہ کسی صورت اس ملک میں ہو ہی رہا تھا۔بھٹو صاحب کے دور میں قومی اسمبلی کی ایک قرارداد کے ذریعے اس
مزید پڑھیے


ہم پھلدار درخت کیوں نہیں لگاتے؟

منگل 19 مئی 2020ء
آصف محمود
مرغزار کے پہلو میں پھیلے مارگلہ کے جنگل میں ان دنوں کافی سختی ہے۔ ٹریل ویران پڑے ہیں اور راستے سنسان۔ مرغزار سے دامن کوہ اور وادی تلہاڑ جانے والی سڑک تو کھلی ہے لیکن راستے میں کسی کو رکنے کی اجازت نہیں۔مشرقی معاشرے کا ایک حسن اس کی مروت ہے ۔چنانچہ ان راستوں کے عادی آوارگان وبا کے دنوں میں بھی ان پابندیوں سے آزاد ہیںاور انتظامیہ از رہ مروت ان سے صرف نظر کر لیتی ہے۔چنانچہ میرے جیسے آوارگان کا جنگل سے رشتہ ، دھاگے کی صورت ہی سہی ، موجود رہا ہے۔ ٹریل فائیو کا معاملہ تھوڑا مختلف
مزید پڑھیے


کری کی 1200سال قدیم مسجد میں گزارے چند لمحے

پیر 18 مئی 2020ء
آصف محمود
اسلام آباد سے پہلے یہاں کی دنیا کیسی تھی ، اس کے کچھ نقوش ابھی بھی اسلام آباد کے نواح میں موجود ہیں۔ نواح شہر میں چند ایسے گائوں موجود ہیں جو عشروں سے سی ڈی اے ایکوائر کر چکا ہے اور اب یہ گائوں سی ڈی اے کے رحم و کرم پر ہیں کب وہ آ کر انہیں روند دے اور یہاں نئے سیکٹر اور نئی بستیاں آباد ہو جائیں۔ چک شہزاد اور بحریہ انکلیو کے درمیان ایسا ہی ایک قدیم گائوں آباد ہے جسے کری کہتے ہیں۔ کچھ کہنا مشکل ہے کہ یہ گائوں کتنا پرانا
مزید پڑھیے


15 مئی: ایک تاریخی دن

جمعه 15 مئی 2020ء
آصف محمود
ڈپٹی سپیکر جناب قاسم سوری نے فواد چودھری صاحب کو آج ایوان میں طلب فرما رکھا ہے کہ تشریف لائیے اور معزز ایوان کو بتائیے کورونا پر آپ کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں۔میں یہ خبر دو تین مرتبہ ساری حیرت کے ساتھ پڑھ چکا ہوں اور اب بیٹھا سوچ رہا ہوں اپنے بھائی قاسم سوری کی سادگی پر قربان جائوں یا ان کے تجسس کے قصیدے لکھوں۔یہ ایک خبر بتا رہی ہے کہ کورونا سے نبٹنے میں ہم کس قدر سنجیدہ ہیں اور اس معاملے میں ہماری تحقیق کا معیار اور مرتبہ کتنا بلند ہے۔ آج کا دن ہر اعتبار
مزید پڑھیے



ارطغرل پر تنقید۔۔۔ ایک جائزہ

جمعرات 14 مئی 2020ء
آصف محمود
ارطغرل پر ہونے والی تنقید کا دلیل اور ادب کی دنیا میں کیا کوئی اعتبار ہے؟ آئیے ناقدین کے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں۔ ارطغرل پر پہلا اعتراض یہ ہے کہ یہ ایک غیر مقامی ڈرامہ ہے جب کہ ہمیں اپنے مقامی ہیروز اور مقامی کلچر کو فروغ دینا چاہیے۔پاکستانی کلچر کے لیے نومولود پاکستانیوں کی یہ وارفتگی آدمی کو گدگدا دیتی ہے۔یہی حضرات تھے جو کل تک ہمیں بتاتے تھے کہ آرٹ کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اور ہم گلوبل ولیج کے شہری اور گلوبل فیملی کا حصہ ہیں۔مغربی تہذیب کے ویلنتائن
مزید پڑھیے


کورونا : سوال تو اٹھ رہے ہیں

بدھ 13 مئی 2020ء
آصف محمود
’’ سازشی تھیوری‘‘ یقینا ایک نا معقول سی چیز ہے اور ہمارے ہاں محققین کرام نے جس طرح ہر کونے کھدرے سے دو تین درجن یہودی سازشیں کسی بھی وقت برآمد کر کے سامنے رکھ دینے کی فکری مشق فرمائی ہے اس کے بعد سچ تو یہ ہے کسی ’’ سازشی تھیوری‘‘ کو اب سنجیدگی سے لینے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعد میں آدمی اکیلا بیٹھا خود پر ہی ہنستا رہے۔لیکن اس حقیقت سے بھی اب انکار کرنا ممکن نہیں کہ کورونا کے طلسم کدے پر اب سوالات اٹھ رہے ہیں اور خلق خدا کو
مزید پڑھیے


کورونا سے نہیں، آپ سے ڈر لگتا ہے

هفته 09 مئی 2020ء
آصف محمود
کورونا کے بارے میں تو قوم کی رہنمائی فرما دی گئی ہے کہ اس سے ڈرنا نہیں ، لڑنا ہے ،سوال اب یہ ہے کہ قرنطینہ کا کیا کرنا ہے؟ آپ گلی کوچوں میں پھر کر دیکھ لیجیے لوگ کورونا سے نہیںقرنطینہ کے ڈر سے سہمے پڑے ہیں۔ نہ کوئی ٹیسٹ کرا رہا ہے نہ کوئی ہسپتال جانے کو تیار ہے۔پریشاں حال لوگ سرگوشیاں کر رہے ہیں کہ کورونا سے تو شائد بچ جائیں گے لیکن ہسپتال یا سرکاری قرنطینہ چلے گئے تو کیا ہو گا؟ افسوسناک صورت حال یہ ہے کہ یہ خوف صرف سازشی تھیوری کے اسیر
مزید پڑھیے


کری کا مندر : عمران خان توجہ فرمائیں گے؟

جمعرات 07 مئی 2020ء
آصف محمود

راول ڈیم کے پہلو میں ، تھوڑا آگے جا کر ، سی ڈی اے کی ہائوسنگ سوسائٹی پارک انکلیو ہے، جو ابھی تک آباد نہیں ہو سکی۔ وسیع و عریض سوسائٹی میں سالوں بعد اب جا کر چند گھر تعمیر ہوئے ہیں۔ اب بھی یہاں سکوت اور سکون کا راج ہے۔ کبھی کبھی جھیل یا پہاڑ کی بجائے میں واک کرنے اس انکلیو میں چلا جاتا ہوں۔ اس کی مشرقی دیوار سے باہر ایک ٹیلہ ہے جس پر ایک قدیم عمارت موجود ہے۔ میں جب پارک انکلیو میں آتا ، یہ عمارت اپنی طرف بلاتی ۔ مسئلہ یہ تھا کہ
مزید پڑھیے


کورونا وائرس: کیا ایلو پیتھی ہی واحد علاج ہے؟

منگل 05 مئی 2020ء
آصف محمود
کورونا وائرس سے بچائو کے لیے کیا ایلو پیتھی ہی واحد طریق علاج ہے یا صدیوں پرانے دیسی شعبہ طب سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے؟ ایلو پیتھک طریق علاج کی نفی ہر گز مقصود نہیں، لیکن ایسے عالم میں جب ویکیسن ابھی تیار نہیں ہوئی اور جدید میڈیکل سائنس فی الوقت بے بس ہے ، کیا ناگزیر طریق علاج کے طور پر جڑی بوٹیوں اور قدیم طب سے استفادہ کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے اس سوال کو ذرا آسان لفظوں میں آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ، ورنہ آپ بین السطور پڑھنے کے عادی
مزید پڑھیے